اسلام آباد: ادارہ شماریات پاکستان کے مطابق مارچ 2025 میں ملک میں افراط زر کی شرح صرف 0.69 فیصد رہی، جو کہ دسمبر 1965 کے بعد سب سے کم سطح ہے۔ یہ ملک کی معاشی صورتحال میں بڑی بہتری کی علامت ہے۔
مارچ 2024 میں افراط زر کی شرح 20.68 فیصد تھی، جبکہ رواں مالی سال کے ابتدائی نو ماہ میں مہنگائی کی اوسط شرح 5.25 فیصد رہی، جو گزشتہ مالی سال کی 27.06 فیصد کی شرح سے نمایاں طور پر کم ہے۔ ماہرین معاشیات اس کمی کو حکومت کی کامیاب اقتصادی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ "ہم ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہیں۔ نواز شریف نے منشور میں وعدہ کیا تھا کہ 2026 تک مہنگائی کو سنگل ڈیجٹ میں لے آئیں گے، مگر آج ہم نے یہ ہدف پہلے ہی حاصل کر لیا ہے۔”
وزیراعظم نے مزید کہا کہ:
-
مہنگائی 38 فیصد سے کم ہوکر ڈیڑھ فیصد پر آچکی ہے
-
پیٹرول کی قیمت میں 38 روپے کی کمی آئی ہے
-
پاکستان میں پیٹرول کی قیمت پورے خطے میں سب سے کم ہے
-
شرح سود 22.5 فیصد سے کم ہوکر 12 فیصد پر آ گئی ہے
حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں معاشی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط اور عالمی سطح پر بہتر تعلقات کے باعث ممکن ہو سکی ہیں۔