پاکستان کے اسکواش لیجنڈ جہانگیر خان کو اقوام متحدہ نے گزشتہ ایک ہزار سال کے بہترین کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے، جو پاکستانی کھیلوں کی تاریخ کا ایک عظیم اعزاز ہے۔ جہانگیر خان نے اپنے شاندار کیریئر میں 550 مسلسل میچز جیت کر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں جگہ بنائی۔ وہ 1981 سے 1986 تک پانچ سال تک ناقابل شکست رہے، ہر مقابلے میں فتح حاصل کی۔ اس دوران انہوں نے چھ بار ورلڈ اوپن ٹائٹل (1981، 1982، 1983، 1984، 1985، 1988) اور دس بار برٹش اوپن (1982-1991) جیتا، جو اسکواش کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔
10 دسمبر 1963 کو کراچی میں پیدا ہونے والے جہانگیر خان ایک اسکواش خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد روشن خان 1957 کے برٹش اوپن چیمپئن تھے، جبکہ بھائی تورثام خان بھی ایک مایہ ناز کھلاڑی تھے۔ جہانگیر نے 15 سال کی عمر میں 1979 میں ورلڈ ایمیچور چیمپئن شپ جیت کر سب کو حیران کر دیا۔ 17 سال کی عمر میں انہوں نے ورلڈ اوپن جیت کر تاریخ رقم کی۔
ان کی کامیابیوں کے پیچھے ان کی محنت، لگن اور ذاتی مشکلات پر قابو پانے کی داستان ہے۔ بچپن میں ہرنیا کے مرض کے باعث ڈاکٹروں نے انہیں اسکواش سے دور رہنے کا مشورہ دیا تھا، مگر انہوں نے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ 1986 میں نیوزی لینڈ کے راس نورمن نے ان کی ناقابل شکست سلسلے کو توڑا، مگر جہانگیر کی عظمت پر کوئی فرق نہ پڑا۔
جہانگیر خان نے 1993 میں ریٹائرمنٹ کے بعد ورلڈ اسکواش فیڈریشن کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کی کامیابیوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں اسکواش کو مقبول بنایا۔ وہ آج بھی نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک عظیم مثال ہیں۔