گندم کی خریداری میں خیبرپختونخوا حکومت کی بدعنوانی کے ہوشربا انکشافات سامنے آگئے۔
ذرائع کے مطابق 8 فروری فروری 2025 کو خیبرپختونخوا حکومت نے گندم خریداری مہم شروع کی، اس مہم کے تحت ڈیرہ اسماعیل خان کے لیے 30ہزار میٹرک ٹن گندم خریدنے کی اجازت دی گئی۔ خریداری کی قیمت 9700 روپے فی 100 کلوگرام (97000 روپے فی میٹرک ٹن) مقرر کی گئی۔ یہ قیمت پنجاب اور بلوچستان کی قیمتوں سے کہیں زیادہ تھی۔
اس مہم کے دوران 30 ہزار میٹرک ٹن میں سے 24,505.7 میٹرک ٹن گندم محکمہ خوراک ڈی آئی خان نے خریدی، خیبرپختونخوا حکومت کی اس گندم کی خریداری کے دوران متعدد بے ضابطگیاں اور بدعنوانیاں سامنے آئی ہیں۔ جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔
باوثوق ذرائع کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے گندم خریداری کے عمل کی نگرانی کیلئے اپنے تین ساتھیوں کو تعینات کیا۔ محکمہ خوراک کو یہ ہدایت دی گئی کہ وہ ان 3 ساتھیوں کے منتخب کردہ افراد سے گندم خریدیں۔
ان ساتھیوں میں کنٹریکٹر حزب اللہ گنڈاپور، نیشنل اسمبلی 45 کے امیدوار شعیب میاں خیل اور علی امین گنڈا پور کے ذاتی سیکریٹری گل زمان شامل تھے، ان ساتھیوں نے پنجاب کے متصل اضلاع سے گندم انتہائی سستی قیمت پر 6500 روپے فی 100 کلوگرام خریدی۔ اس کے بعد محکمہ خوراک کو 9750 روپے فی 100 کلوگرام کی قیمت پر بیچ کر 2500 سے 2700 روپے فی 100 کلوگرام کا منافع کمایا۔
اس بدعنوانی میں ملوث علی امین گنڈا پورکے دیگر ساتھیوں میں بابر میاں خیل، کامران شاہ(ایم پی اے امیدوار، پہاڑ پور)، رحمت نیازی، سعد گنڈاپور(حزب اللہ کا بیٹا)، حیدر میاں خیل، سلطان پروہ، حاجی حسن خار، عبدالحمید نیازی(سابق ایم پی اے لیہ) اور سمیع میاں خیل شامل ہیں۔
اس کے برعکس کمپنیوں یا ایجنسیوں سے خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس بھی عائد کیا گیا، ان 3 ساتھیوں نے مقامی کسانوں کی زمین کے دستاویزات کا غلط استعمال کرتے ہوئے ٹیکس سے بچنے کی تدابیر اپنائی۔
یہ تمام عمل محکمہ مال کے افسران کی ملی بھگت سے کیا گیا جنہوں نے مقامی کسانوں کے دستاویزات فراہم کیے، ان بے ضابطگیوں اور مالی بدعنوانی میں محکمہ خوراک خیبر پختونخوا کے افسران بھی ملوث رہے۔
محکمہ خوراک ڈی آئی خان نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے 20,371.7 میٹرک ٹن گندم مقامی کسانوں سے خریدی جبکہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صرف 4 سے 4.5 میٹرک ٹن گندم مقامی کسانوں سے خریدی گئی۔
ذرائع کے مطابق 20 ہزار میٹرک ٹن گندم ایجنٹوں یا علی امین گنڈا پور کے ساتھیوں سے خریدی گئی، اس بدعنوانی کی ڈیرہ اسماعیل خان کے تھانہ اینٹی کرپشن میں سرکل آفیسر کی جانب سے شکایت بھی درج کرائی گئی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس بدعنوانی کی معلومات کو پولیس کے ذریعے قومی احتساب بیورو کو بھیجا گیا تاکہ اس کی تحقیقات شروع کی جائیں۔ گندم کے اس سکینڈل پر معاشی اور غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی کرپشن بلاشبہ عوامی پیسے پر ڈاکہ ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق بانی پی ٹی آئی اور اس کی جماعت ہمیشہ کرپشن کو ختم کرنے کی بات کرتے ہیں لیکن یہ اسکینڈل اس جماعت کی چوری کا ثبوت ہے، قومی احتساب بیورو کو چاہیے کہ اس مالی بد عنوانی کے خلاف فوری کارروائی کا آغاز کرے۔