Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, فروری 21, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • رہائی فورس کا اعلان،سیاسی وفاداری یا تصادم کا حتمی فیصلہ ؟
    • امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف کا نفاذ کالعدم قرار دیدیا
    • وزیراعظم شہبازشریف کی امریکہ میں عالمی رہنماوں سے خوشگوار ماحول میں ملاقاتیں توجہ کا مرکز بن گئیں
    • اسلام آباد اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے
    • خودمختار ساوی کی انسان دوستی قابلِ تحسین اور قابلِ تقلید ہے، پروفیسر تہمیداللہ
    • پاکستان میں دہشتگردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کے شواہد سامنے آگئے
    • آئی ایم ایف مشن کی آمد سے قبل بڑا انکشاف، پاکستان میں غربت بڑھ کر 28.8 فیصد ہو گئی
    • خودمختار ساوی کے ذریعے پشاور کے 50 مستحقین میں رمضان پیکیج تقسیم
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » کنڑ زلزلہ اور عالمی امداد: طالبان کی نام نہاد خود انحصاری خودساختہ شرعی جواز اور نظریاتی ترجیحات، تحریر:مبارک علی
    افغانستان

    کنڑ زلزلہ اور عالمی امداد: طالبان کی نام نہاد خود انحصاری خودساختہ شرعی جواز اور نظریاتی ترجیحات، تحریر:مبارک علی

    ستمبر 3, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد(مبارک علی) افغانستان کے صوبہ کنڑ میں حال ہی میں آنے والے 6.0 شدت کے زلزلے نے ہزاروں جانیں لیں اور دیہات تباہ کر دیے۔ طالبان نے عالمی امداد کی اپیل کی، لیکن رپورٹس کے مطابق، طالبان کے سپریم لیڈر شیخ ہیبت اللہ اخوندزادہ غیر ملکی امداد مانگنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ یہ ہچکچاہٹ ان کے خود انحصاری کے بیانیے اور اسلامی شرعی قانونی جواز سے جُڑی ہے، جو طالبان کی نظریاتی بنیاد ہے۔ اخوندزادہ نے اب تک زلزلے کے متاثرین کے لیے کوئی عوامی ہمدردی یا تعزیت کا پیغام نہیں دیا۔ طالبان کے نظریاتی نقطہ نظر میں، قدرتی آفات کو اکثر "اللہ کی مرضی” سمجھا جاتا ہے، جو ان کی خاموشی کو مذہبی طور پر مستقل بناتا ہے۔

    یہ رویہ طالبان کی وسیع تر عالمی نظریے کی عکاسی کرتا ہے، جہاں سخت نظریاتی نفاذ اور اخلاقی پولیسنگ کو عملی انسانی ضروریات پر ترجیح دی جاتی ہے۔ کنڑ جیسے بحرانوں میں، یہ نکتہ نظر امداد کی فراہمی میں تاخیر یا کمی کا باعث بن سکتا ہے، جس سے کمزور طبقات مزید خطرات سے دوچار ہوتی ہیں۔ 2022 کے پکتیکا زلزلے میں، جہاں 1,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، طالبان نے ابتدائی طور پر عالمی امداد کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ دکھائی، لیکن بعد میں محدود امداد قبول کی۔ اسی طرح، 2023 کے ہرات زلزلے میں، امدادی ایجنسیوں کو طالبان کی پابندیوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، خصوصاً خواتین امدادی کارکنوں پر پابندیوں نے امدادی کوششوں کو متاثر کیا۔

    کنڑ زلزلے کے بعد پاکستان، بھارت، چین، اور برطانیہ سمیت چند ممالک نے امداد کا وعدہ کیا ہے، لیکن امریکی امداد، جو پہلے افغانستان کے لیے سب سے بڑا ذریعہ تھی، 2025 میں تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، افغانستان کو اس سال 2.4 ارب ڈالر کی ضرورت ہے، لیکن صرف 30 فیصد فنڈز موصول ہوئے ہیں۔ طالبان کی پالیسیوں، خصوصاً خواتین کے حقوق پر پابندیوں، نے عالمی امداد میں کمی کی ایک بڑی وجہ بنی ہے۔

    طالبان کی خود انحصاری کی پالیسی اور نظریاتی سختی انسانی بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو محدود کرتی ہے۔ کنڑ کے متاثرین کو فوری طبی امداد، خیموں، اور خوراک کی ضرورت ہے، لیکن طالبان کی ہچکچاہٹ اور عالمی امداد پر انحصار کم کرنے کی خواہش سے امدادی عمل متاثر ہو رہا ہے۔ تاریخی طور پر، طالبان کی اسی سوچ نے 1990 کی دہائی میں بھی امدادی کوششوں کو روکا تھا، جب عالمی تنہائی نے افغانستان کے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کیا۔ موجودہ صورتحال میں، طالبان کو نظریاتی سختی سے ہٹ کر عملی اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ متاثرین کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleخیبر پختونخوا اسمبلی: 15 ملازمین کی جعلی ڈگریاں، شوکاز نوٹسز جاری
    Next Article کوئٹہ: بی این پی جلسے کے بعد خودکش حمله، جاں بحق افراد کی تعداد 17 ہوگئی ،33 زخمی
    Web Desk

    Related Posts

    امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف کا نفاذ کالعدم قرار دیدیا

    فروری 20, 2026

    پاکستان میں دہشتگردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کے شواہد سامنے آگئے

    فروری 20, 2026

    آئی ایم ایف مشن کی آمد سے قبل بڑا انکشاف، پاکستان میں غربت بڑھ کر 28.8 فیصد ہو گئی

    فروری 20, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    رہائی فورس کا اعلان،سیاسی وفاداری یا تصادم کا حتمی فیصلہ ؟

    فروری 20, 2026

    امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف کا نفاذ کالعدم قرار دیدیا

    فروری 20, 2026

    وزیراعظم شہبازشریف کی امریکہ میں عالمی رہنماوں سے خوشگوار ماحول میں ملاقاتیں توجہ کا مرکز بن گئیں

    فروری 20, 2026

    اسلام آباد اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے

    فروری 20, 2026

    خودمختار ساوی کی انسان دوستی قابلِ تحسین اور قابلِ تقلید ہے، پروفیسر تہمیداللہ

    فروری 20, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.