Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, ستمبر 1, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 21 دہشت گرد ہلاک، فائرنگ کے تبادلے میں 6 اہلکار شہید
    • مصباح الحق قومی ٹیم کی سلیکشن کمیٹی سے مستعفی، انگلینڈ سے کھلاڑیوں کی واپس کے فیصلے پر ناراضی کا ظہار
    • پاکستان 27-2026 کیلئے ایس سی او سربراہ اجلاس کی صدارت سنبھالے گا، وزیراعظم شہبازشریف نے اعلامیے پر دستخط کردیئے
    • استنبول اجلاس، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، معاہدے کو ’’مکہ دفاع اتحاد‘‘ کا نام بھی دے دیا گیا
    • سی ایس ایس 2026 کا تحریری نتیجہ جاری، کامیابی کا تناسب صرف 2.74 فیصد رہا
    • عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کے موقف کی تائید کردی،بڑا فیصلہ جاری
    • سندھ کے 22 سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کی سنگین صورتحال، رپورٹ میں بڑے انکشافات
    • پشاور: پولیس مقابلے میں بین الصوبائی گینگ کے 4 بدنام زمانہ ڈاکو ہلاک
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » 300 سے زائد وکلا نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کے خط پر سپریم کورٹ سے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا
    اہم خبریں اپریل 1, 2024

    300 سے زائد وکلا نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کے خط پر سپریم کورٹ سے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا

    Facebook Twitter Email
    Letter of IHC Judges
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان بھر کے تین سو  سے زائد وکلا نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کی جانب سے لکھے گئے خط پر سپریم کورٹ سے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا۔ وکلاء میں سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کے بیٹے ثاقب جیلانی بھی شامل ہیں جبکہ سینئر وکلا سلمان اکرم راجہ ،عبد المعیزجعفری ،ایمان مزاری اور زینب جنجوعہ بھی مطالبہ کرنے والوں میں شامل ہیں۔

    وکلاء کی جانب سے یہ بیان بھی جاری کیا گیا کہ  اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ان کے جرأتمندانہ اقدام کوسراہتے ہیں اور معاملے پر مناسب کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا کہ یہ عوامی مفاد اور بنیادی حقوق کے نفاذ کا معاملہ ہے ، سپریم کورٹ آرٹیکل 184(3) کے تحت اس معاملے کا نوٹس لے  اور تمام دستیاب ججز پر مشتمل بینچ تشکیل دے کر سماعت کرے اور کارروائی کو عوام کیلئے براہ راست نشر کیا جائے۔

    بیان میں کہا گیا کہ  جج بغیر کسی خوف کے انصاف فراہمی میں آزاد نہیں تو پورا قانونی نظام اہمیت نہیں رکھتا ، یہ پہلا موقع نہیں بلکہ اس سے قبل شوکت صدیقی نے بھی ایسے الزامات لگائے تھے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleگوادر میں بم ڈسپوزل اسکواڈ پر حملے میں دو اہلکار شہید
    Next Article لوئردیر:پاسپورٹ کےاجراء میں تاخیر کردی گئی ہے
    Web Desk

    Related Posts

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 21 دہشت گرد ہلاک، فائرنگ کے تبادلے میں 6 اہلکار شہید

    ستمبر 1, 2026

    مصباح الحق قومی ٹیم کی سلیکشن کمیٹی سے مستعفی، انگلینڈ سے کھلاڑیوں کی واپس کے فیصلے پر ناراضی کا ظہار

    ستمبر 1, 2026

    پاکستان 27-2026 کیلئے ایس سی او سربراہ اجلاس کی صدارت سنبھالے گا، وزیراعظم شہبازشریف نے اعلامیے پر دستخط کردیئے

    ستمبر 1, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 21 دہشت گرد ہلاک، فائرنگ کے تبادلے میں 6 اہلکار شہید

    ستمبر 1, 2026

    مصباح الحق قومی ٹیم کی سلیکشن کمیٹی سے مستعفی، انگلینڈ سے کھلاڑیوں کی واپس کے فیصلے پر ناراضی کا ظہار

    ستمبر 1, 2026

    پاکستان 27-2026 کیلئے ایس سی او سربراہ اجلاس کی صدارت سنبھالے گا، وزیراعظم شہبازشریف نے اعلامیے پر دستخط کردیئے

    ستمبر 1, 2026

    استنبول اجلاس، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، معاہدے کو ’’مکہ دفاع اتحاد‘‘ کا نام بھی دے دیا گیا

    اگست 31, 2026

    سی ایس ایس 2026 کا تحریری نتیجہ جاری، کامیابی کا تناسب صرف 2.74 فیصد رہا

    اگست 31, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.