وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد امام بارگاہ میں خودکش حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی اور حملے کا ماسٹر مائنڈ ہماری حراست میں ہے جبکہ حملہ آور کی جہاں ٹریننگ ہوئی اس حوالے سے ہمیں معلومات تھیں ۔
اسلاما ٓباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ کل کا دن پورے پاکستان کے لیے سیاہ دن تھا، تمام متاثرہ خاندانوں کے لیے ہم دعاگو ہیں، یہ واقعہ ایسا تھا جس نے ہم سب کو ہلایا ہے، کل دھماکے کے بعد ہماری تمام ایجنسیاں اس کی لیڈ میں نکلیں، کل ساری رات آپریشنز چل رہے تھے ۔
محسن نقوی نے کہا کہ سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا پولیس نے ان تمام لوگوں کو جو ان سے جڑے ہوئے تھے یا ماسٹر مائنڈ تھے تقریباً سب لوگ پکڑے ہیں، جس پر سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا اور تمام ٹیم کو مبارکباد دوں گا ۔
انہوں نے کہا کہ دھماکے کے فوراً بعد نوشہرہ میں چھاپہ مارا گیا اور 4 سہولت کار گرفتار کیے گئے، جو داعش کا ماسٹرمائنڈ تھا وہ افغان ہے وہ بھی پکڑا گیا جبکہ چھاپے کے دوران خیبرپختونخوا پولیس کا ایک اے ایس آئی شہید ہو گیا ۔
ان کا کہنا تھا کہ مین ماسٹرمائنڈ کا تعلق داعش سے ہے وہ ہماری حراست میں ہے، اس واقعے کی پوری منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی ہے، جہاں اس کی تربیت ہوئی، اس کے حوالے سے بھی ہمیں معلومات تھیں، ٹوٹل چار لوگ گرفتار ہوئے ہیں، دو لوگوں نے ریکی کی تھی ۔
وزیرداخلہ نے کہا کہ امید نہیں تھی کہ اتنی جلدی پکڑ لیں گے لیکن ہمارے اداروں نے بہت اچھا کام کیا، داعش کا سارا نیٹ ورک پکڑا گیا، یہ لوگ پیسوں کے لیے کام کرتے ہیں ۔
محسن نقوی نے کہا کہ داعش کو کوئی تو فنڈنگ کر رہا ہے، کسی نے تو ان کا بجٹ بڑھایا ہے، ان کی ساری فنڈنگ بھارت کر رہا ہے، ان کو تمام اہداف بھارت انڈیا دے رہا ہے، فرنٹ پر انہوں نے ان کو رکھا ہوا ہے، میں دعوی کر رہا ہوں کہ ایک دن دنیا کا ہر ملک بولے گا کہ ان کو کون سپانسر کر رہا ہے ۔

