Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, اکتوبر 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں کمی اور ڈیزل کے نرخ میں فی لٹر اضافہ کردیا
    • اسلام آباد کی نئی ماڈل جیل تیار، اڈیالہ جیل کے قیدیوں کو یہاں لائیں گے،وزیرداخلہ
    • گورنر راج کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا: نئی حکومت اور صوبائی انتظامیہ عوامی خدمت کے لیے متحرک
    • تجاوزات میں ملوث کسی بھی انتظامی افسر کے خلاف کارروائی ہوگی،گورنر فیصل کریم کنڈی
    • پاکستان رینجرز اور مقامی این جی او کے زیر اہتمام تھرپارکر میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد
    • چینی کاروباری وفد کا گلگت بلتستان کا دورہ، تجارتی و سرمایہ کاری کے فروغ پر تبادلہ خیال
    • پاکستان اور مالدیپ کا دوطرفہ تجارت 2سال میں 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق
    • پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس 1 لاکھ 66 ہزار پوائنٹس سے تجاوز کر گیا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • خاص خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » سانحہ 9 مئی میں براہ راست کون ملوث تھا؟ انکشافات سے بھرپور تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر
    خاص خبریں مئی 10, 2024

    سانحہ 9 مئی میں براہ راست کون ملوث تھا؟ انکشافات سے بھرپور تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر

    Facebook Twitter Email
    May 9 tragedy report
    Share
    Facebook Twitter Email

    سانحہ 9 مئی میں براہ راست کون ملوث تھا؟ انکشافات سے بھرپور تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر آگئی۔ یہ رپورٹ  نگراں حکومت نے تیار کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق  کابینہ کمیٹی کو فراہم کردہ شواہد کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ فوجی تنصیبات پر پرتشدد حملوں کی منصوبہ بندی میں عمران خان نے ’بھرپور کردار‘ ادا کیا تھا اور شواہد کے مطابق، حملوں کی منصوبہ بندی میں پارٹی کے کئی رہنما شامل تھے۔

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ’’اب تک کی گئی تحقیقات کے مطابق 34 افراد ایسے تھے جو سڑکوں پر پرتشدد کارروائیوں کے ماسٹر مائنڈ تھے جنہوں نے پرتشدد واقعات اور بربادی پھیلانے کی منصوبہ بندی میں فعال کردار ادا کیا۔

    اس کے علاوہ، 52؍ افراد نے مفصل منصوبہ بندی میں کردار ادا کیا اور 185؍ نے اس پر عمل کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’حکمت عملی کے تحت، عمران خان کی گرفتاری سے کئی دن قبل پارٹی کے حامیوں اور مسلح افراد کو صوبہ خیبر پختونخوا سے لاہور پہنچایا گیا تھا اور انہیں شہر کے مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا تھا۔

    ان کے اخراجات پارٹی رہنما اور ہمدرد برداشت کرتے تھے۔ ان لوگوں کو پہلے مرحلے میں عمران خان کی گرفتاری کیخلاف مزاحمت اور گرفتاری کی صورت میں آخری حربے کے طور پر تشدد اور بربادی پھیلانے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ 9؍ مئی 2023 کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد یہ افراد پہلے سے طے شدہ مختلف مقامات پر کھڑے ہوگئے تاکہ پارٹی کے دیگر کارکنوں کو وہاں سے ریلی کی صورت میں لے جاسکیں۔

    شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے اشارہ ملتے ہی ان لوگوں نے ہجوم کے جذبات کو مزید بھڑکا دیا، ہجوم کو جی ایچ کیو اور لاہور میں جناح ہاؤس کی طرف لے گئے۔

    ان مقامات پر موجود لوگوں کے بیانات ریکارڈ کرنے پر معلوم ہوا کہ ہجوم میں سے آوازیں آرہی تھیں کہ مخصوص مقامات کی طرف مارچ کیا جائے اور مزاحمت کرنے والی آوازیں خاموش کر دی جائیں۔ جیسے ہی یہ لوگ مخصوص مقامات پر پہنچے، انہوں نے پرتشدد کارروائیاں شروع کر دیں اور دوسروں کو بھی اس میں شامل ہونے کی ترغیب دی۔

    رپورٹ کے مطابق، ’’9؍ مئی کے پرتشدد واقعات کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ افراد فوجی تنصیبات سمیت مختلف مقامات پر حملوں کیلئے محتاط حکمت عملی پر عمل کر رہے تھے۔ فون کالز کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فون کالز پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں نے جناح ہاؤس پر حملوں کیلئے فسادیوں کو کی تھیں۔

    ایک دن قبل ہی ان رہنماؤں نے فسادیوں کو متعدد فون کالز کی تھیں۔ بعد میں گرفتار ہونے والے کئی مجرموں نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ انہیں تشدد اور تباہی پھیلانے اور کور کمانڈر لاہور کی رہائش گاہ جیسے مخصوص اہداف پر حملہ کرنے کی ہدایات پی ٹی آئی رہنماؤں سے ملی تھیں۔

    9؍ مئی 2023 کے واقعات عمران خان کی گرفتاری کی صورت میں پرتشدد اسٹریٹ پاور کا مظاہرہ کرنے کی منظم حکمت عملی کا حصہ تھے۔ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے جیسے عمران خان کی گرفتاری کا امکان بڑھتا گیا  پارٹی قیادت نے ان کی گرفتاری کی صورت میں جواباً فوجی تنصیبات پر حملوں، تشدد اور بربادی پھیلانے کیلئے حکمت عملی مرتب کی۔

    ’’ عمران خان طویل عرصہ سے حکومت سے اپنی بے دخلی کا ذمہ دار فوجی اسٹیبلشمنٹ کو سمجھتے رہے ہیں اور ان کے ساتھ وہ مذاکرات کیلئے تیار تھے۔ عمران خان نے کئی مرتبہ دیگر سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کی توہین کی اور ان کے ساتھ پارلیمنٹ میں بیٹھنے سے بھی مسلسل انکار کیا۔

    جب مسلح افواج نے سیاست میں شامل ہونے انکار کیا تو عمران خان اور ان کی پارٹی نے ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جس سے فوج پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ عمران خان کے ساتھ مذاکرات کرے۔ مقامی اور بیرونی پلیٹ فارمز کے ذریعے میڈیا کے ذریعے دباؤ کا یہ سلسلہ جاری رکھا گیا۔

    عمران خان نے کسی بھی موقع پر 9؍ مئی کے واقعے کی مذمت یا تردید نہیں کی، بلکہ عوام اور مسلح افواج کے درمیان خلیج کو وسیع کرنے کیلئے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔ اس صورتحال کے پیش نظر دفاعی تنصیبات پر حملہ کرکے اسٹریٹ پاور کا مظاہرہ کرنے کی حکمت عملی مرتب کی گئی۔

    مقصد یہ تھا کہ عدم اعتماد کی تحریک کا غصہ فوج پر نکالنے کیلئے پارٹی کارکنوں کو موقع دینا اور ساتھ ہی فوج کو پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کیلئے دباؤ میں لانا تھا۔ یہ حکمت عملی ایک سادہ مفروضے پر مبنی تھی کہ غیر مسلح مظاہرین اور فوج کے درمیان تصادم سے فوج مخالف جذبات پیدا ہوں گے، اس طرح عوام اور مسلح افواج کے درمیان خلیج پیدا ہو جائے گی، ایسی خلیج فوج کو سیاست میں شامل ہونے پر مجبور کر دے گی۔ رپورٹ کے اختتام میں لکھا ہے کہ ’’فراہم کردہ معلومات، دستاویزات اور مواد کا جائزہ لینے کے بعد کمیٹی کی رائے ہے کہ 9؍ مئی 2023ء کے واقعات کی ذمہ دار صرف پی ٹی آئی کی قیادت ہے۔

    9؍ مئی کے واقعات مربوط و منظم اور فوج پر دباؤ ڈالنے کیلئے تشدد کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی حکمت عملی کا حصہ تھے۔ یہ اقدام ریاست، اس کے اداروں، عدلیہ اور الیکشن کمیشن پر بالواسطہ دباؤ ڈالنے کے مترادف تھے۔‘‘جن لوگوں نے ان جرائم کی منصوبہ بندی کی، اسے عملی جامہ پہنایا، اور معاونت کی، انہیں قانون کی بھرپور طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تفتیشی اداروں، استغاثہ اور عدلیہ کو چاہئے کہ ان واقعات میں ملوث افراد کو فوری انصاف کے کٹہرے تک لایا جائے۔

    9 May Imran Khan PTI report
    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleنوشہرہ:سانحہ 9 مئی کے حوالے سے ریلی کا انعقاد کیا گیا
    Next Article خیبرپختونخوا: بارش کے باعث گرمی کا زور ٹوٹ گیا
    Web Desk

    Related Posts

    حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں کمی اور ڈیزل کے نرخ میں فی لٹر اضافہ کردیا

    اکتوبر 21, 2026

    اسلام آباد کی نئی ماڈل جیل تیار، اڈیالہ جیل کے قیدیوں کو یہاں لائیں گے،وزیرداخلہ

    اکتوبر 21, 2026

    گورنر راج کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا: نئی حکومت اور صوبائی انتظامیہ عوامی خدمت کے لیے متحرک

    اکتوبر 21, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں کمی اور ڈیزل کے نرخ میں فی لٹر اضافہ کردیا

    اکتوبر 21, 2026

    اسلام آباد کی نئی ماڈل جیل تیار، اڈیالہ جیل کے قیدیوں کو یہاں لائیں گے،وزیرداخلہ

    اکتوبر 21, 2026

    گورنر راج کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا: نئی حکومت اور صوبائی انتظامیہ عوامی خدمت کے لیے متحرک

    اکتوبر 21, 2026

    تجاوزات میں ملوث کسی بھی انتظامی افسر کے خلاف کارروائی ہوگی،گورنر فیصل کریم کنڈی

    اکتوبر 21, 2026

    پاکستان رینجرز اور مقامی این جی او کے زیر اہتمام تھرپارکر میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد

    اکتوبر 21, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.