عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر کے تقریباً 103 ڈالر کے قریب پہنچ گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ ڈبلیو ٹی آئی بھی 94 ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق خلیج میں کشیدگی، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں جاری صورتحال، تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو بڑھا رہی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں جبکہ بحری راستوں میں رکاوٹیں عالمی منڈی پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔
حالیہ پیش رفت میں ایران کی جانب سے جہازوں کی ضبطگی اور خطے میں سیکیورٹی خدشات نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف تیل بلکہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ کشیدگی برقرار رہی تو توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر میں مہنگائی اور معیشت پر پڑیں گے۔
واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال عالمی تیل مارکیٹ کے لیے انتہائی اہم ہے، اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا تنازع فوری طور پر قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔

