دہشت گردی نہ صرف شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالتی ہے بلکہ ملک کے امن، ترقی اور قومی استحکام کیلئے بھی سب سے بڑا چیلنج ہے، پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں دہشتگردی کے ہاتھوں ناقابلِ بیان نقصان اٹھایا ہے، اور اس بھاری مالی و جانی نقصان کی گواہی آج دنیا بھی دے رہی ہے ، ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں، معیشت متاثر ہوئی اور معاشرتی شعور پر گہرا اثر پڑا، ایسے میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز ریاستی ذمہ داری کیساتھ ساتھ قومی ضرورت بھی ہیں ۔
ریاست کا اولین فریضہ اپنے شہریوں کی حفاظت ہوا کرتی ہے، جس ملک میں عوام خود کو محفوظ نہ سمجھیں وہاں انارکی پھیلتی ہے ، دہشت گرد سکولوں، بازاروں، مساجد اور عوامی مقامات کو نشانہ بنا کر خوف و دہشت پھیلاتے ہیں، ایسے عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے بغیر معاشرے کو محفوظ رکھنا ممکن نہیں، آپریشنز عوام کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ان کی زندگی اور جان کی حفاظت ریاست کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں ۔
دہشت گردی کا سب سے بڑا ہتھیار خوف ہے، جب سیکیورٹی فورسز مؤثر کارروائی کرتی ہیں تو نہ صرف دہشتگرد کمزور ہوتے ہیں بلکہ عوام میں اعتماد بھی بحال ہوتا ہے، کاروبار بحال ہوتے ہیں، تعلیمی ادارے کھلتے ہیں اور زندگی معمول کے مطابق چلتی ہے، یہی امن و امان کی بحالی کا اصل مقصد ہے ۔
ریاستی رِٹ کا قیام بھی ان آپریشنز کا بنیادی جزو ہے، اگر دہشت گرد آزاد رہیں تو قانون کی بالادستی کمزور پڑ جاتی ہے اور ملک انتشار کا شکار ہو سکتا ہے، دہشتگردوں کے خلاف بروقت کارروائیاں یہ پیغام دیتی ہیں کہ تشدد، قتل اور بغاوت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور قانون سب پر یکساں لاگو ہوتا ہے ۔
معیشت اور ترقی بھی دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہوتی ہے، سرمایہ کاری رک جاتی ہے، روزگار کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں اور ملک کی ترقی کی رفتار سست ہو جاتی ہے، آپریشنز کے نتیجے میں امن قائم ہوتا ہے اور معاشی سرگرمیاں دوبارہ پھلنے پھولنے لگتی ہیں ۔
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں، جس کی پوری دنیا معترف ہے ، قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی پاک افواج ،دیگر سیکیورٹی اداروں اور عوام کی ان قربانیوں کا احترام کرے اور دہشت گردوں کے خلاف کیے جانے والے آپریشنز کی مکمل حمایت کرے، یہ حمایت دراصل پاکستان کے محفوظ، مستحکم اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے ۔
دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز صرف عسکری کارروائیاں نہیں، بلکہ قومی اتحاد، قانون کی بالادستی اور معاشرتی امن کی علامت ہیں، اس لیے ان کی حمایت ہر شہری کا قومی فریضہ ہے ۔
ملک بھر کی تمام سیاسی جماعتیں آج دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں پر یک زبان ہیں لیکن صرف تحریک انصاف واحد جماعت ہے جو نہ صرف دہشتگردوں کی حامی نظر آ رہی ہے بلکہ ان بدبختوں کے خلاف کارروائیوں کی مخالفت بھی کر رہی ہے ، سوال یہ ہے کہ جب بانی پی ٹی آئی خود وزیراعظم تھے تو کیا ان کے دور میں دہشتگردی کے خلاف آپریشنز نہیں ہوئے ؟ کیا انہوں نے پورے ملک میں دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشنز بند کروالئے تھے؟ یقیناََ نہیں ، تو پھر آج مخالفت کیوں کی جا رہی ہے؟

