Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, اپریل 9, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پی ایس ایل 11، پشاور زلمی نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد حیدر آبادکنگزمین کو 4 وکٹوں سے ہرادیا
    • ارومچی میں چین ، پاکستان اور افغانستان کے مذاکرات، رابطے اور مکالمے کو جاری رکھنے پر اتفاق
    • ایران امریکا جنگ بندی: پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بڑی تیزی کے ساتھ کاروبار کا آغاز
    • امریکا ایران جنگ بندی، آبنائے ہرمز سے جہاز گزرنا شروع
    • امریکا ایران جنگ بندی، حکومتِ پاکستان کا جمعہ کو یومِ تشکر منانے کا فیصلہ
    • وزیراعظم اور ایرانی صدر کا ٹیلیفونک رابطہ، ایرانی صدر کی اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی تصدیق
    • چین کے سفیر کی نائب وزیرِ اعظم سے ملاقات،امن کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف
    • نوجوانوں کو جدید تربیت دینے کے لیے پاکستان میں سیمی کنڈکٹر ٹریننگ پروگرام کا آغاز، وزارت آئی ٹی و ٹیلی کام کا بڑا اقدام
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پاکستان-سعودی دفاعی اتحاد، ایک نئی عہد کی بنیاد
    بلاگ

    پاکستان-سعودی دفاعی اتحاد، ایک نئی عہد کی بنیاد

    ستمبر 20, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    New Era of Defense
    Strategic Shield Rising
    Share
    Facebook Twitter Email

    تحریر:مبارک علی

    سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان حال ہی میں دستخط ہونے والا دفاعی معاہدہ خطے کی جغرافیائی سیاست کو نئی سمت دے رہا ہے۔ 17 ستمبر 2025 کو ریاض میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے اس تاریخی معاہدے پر دستخط کیے، جسے "اسٹریٹیجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ” کہا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان باہمی دفاعی ذمہ داریاں طے کرنا ہے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملے کو دونوں پر حملہ قرار دیا جائے گا۔ یہ معاہدہ علاقائی عدم استحکام، خاص طور پر اسرائیل کی حالیہ جارحیتوں اور قطر پر حملوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جو سعودی عرب کی حفاظتی ضروریات کو اجاگر کرتا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے سعودی عرب میں 50 ہزار فوجیوں کی تعیناتی متوقع ہے۔ اس میں مقدس شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی دفاعی ذمہ داری پاکستان کی مسلح افواج کے حوالے ہو جائے گی۔ یہ تعیناتی 1960 کی دہائی سے جاری دفاعی تعاون کی توسیع ہے، جب پاکستان نے پہلی بار سعودی عرب میں فوجی دستے بھیجے تھے۔ حالیہ برسوں میں سعودی عرب میں 1,500 سے 2,000 پاکستانی فوجی مشقیں اور تربیت کے لیے موجود رہے، مگر اب یہ تعداد کئی گنا بڑھ جائے گی۔ اس کے علاوہ، پاکستان پانچ میزائل رجمنٹس قائم کرے گا، جن میں بیلسٹک، کروز اور ابابیل میزائل شامل ہوں گے۔ ابابیل میزائل، جو بیک وقت 13 اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے، سعودی دفاعی نظام کو جدید بنانے کا کلیدی جزو ہو گا۔ جدید ترین ایئر ڈیفنس سسٹمز اور نئی ایئربیسز کی تعمیر بھی اس منصوبے کا حصہ ہے، جو سعودی تیل کی سپلائی روٹس کی حفاظت کو یقینی بنائے گی۔

    اس دفاعی تعاون کی تکنیکی بنیاد ایک مشترکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم ہو گی، جو دونوں ممالک کی افواج کو ایک ساتھ متحرک کر سکے گی۔ کسی حملے کی صورت میں مدد طلب کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی؛ سسٹم خودکار طور پر ردعمل دے گا۔ پاکستان اس مقصد کے لیے ایئر کمیونیکیشن سسٹم بھی قائم کر رہا ہے، جس کی بنیاد 406 ملین ڈالرز کی لاگت سے چین سے 20 سیٹلائٹس کی خریداری پر رکھی گئی ہے۔ یہ سیٹلائٹس، جو سوپارکو کے تعاون سے لانچ ہوں گی، پورے خطے کی نگرانی ممکن بنائیں گی اور حقیقی وقت کی ریموٹ سینسنگ فراہم کریں گی۔ سعودی فضائیہ میں پاکستانی جے ایف-17 تھنڈر طیاروں اور 10 سی طیاروں کی شمولیت بھی معاہدے کا حصہ ہے، جو سعودی دفاعی صلاحیت کو مزید مستحکم کرے گی۔

    یہ منصوبہ ایک سال میں مکمل ہو جائے گا، جس کے لیے پاکستانی افسران کا وفد چند دنوں میں سعودیہ پہنچ جائے گا۔ تاریخی طور پر، پاکستان نے 1982 کے پروٹوکول کے تحت سعودی فوج کی تربیت اور تعیناتی کی ہے، جہاں 20 ہزار سے زائد فوجی تعینات رہے۔ آج یہ تعاون اقتصادی اور تزویراتی طور پر پاکستان کے لیے سہارا بن رہا ہے، جبکہ سعودی عرب کو جوہری طاقت رکھنے والے اتحادی کی ضرورت ہے۔ تاہم، یہ معاہدہ بھارت جیسے ہمسایوں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے، جو علاقائی توازن کو متاثر کرے گا۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپاکستان کی تاریخی فتح "بنیانِ مرصوص” اور خطے میں امن کی راہ
    Next Article ٹرمپ کی ایچ-ون بی ویزا پالیسی، بھارت کی معیشت اور خارجہ پالیسی پر گہرا اثر
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    پاکستان کی سفارتی کاوشیں، امریکہ-ایران تنازعے کے حل کی جانب بڑی پیش رفت: ’’اسلام آباد معاہدہ‘‘ کی تجویز پر غور

    اپریل 6, 2026

    بلوچستان پولیس میں خواتین کا بڑھتا ہوا کردار: خاموش مگر طاقتور انقلاب

    اپریل 4, 2026

    پشاور امن جرگہ اور قومی سلامتی۔ ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    اپریل 4, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پی ایس ایل 11، پشاور زلمی نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد حیدر آبادکنگزمین کو 4 وکٹوں سے ہرادیا

    اپریل 8, 2026

    ارومچی میں چین ، پاکستان اور افغانستان کے مذاکرات، رابطے اور مکالمے کو جاری رکھنے پر اتفاق

    اپریل 8, 2026

    ایران امریکا جنگ بندی: پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بڑی تیزی کے ساتھ کاروبار کا آغاز

    اپریل 8, 2026

    امریکا ایران جنگ بندی، آبنائے ہرمز سے جہاز گزرنا شروع

    اپریل 8, 2026

    امریکا ایران جنگ بندی، حکومتِ پاکستان کا جمعہ کو یومِ تشکر منانے کا فیصلہ

    اپریل 8, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.