Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعہ, جنوری 9, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبرپختونخوا سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پی ٹی آئی اپنی ذمہ داری نہیں نبھا رہی، امیر حیدر خان ہوتی
    • میں جو ھوں اس پہ پشیماں نہیں ھوں لوگوں کی باتوں کی پرواہ کبھی نہیں کی نہ ھے۔۔۔ ڈولفن آیان
    • شوبز میں اپنی فنی صلاحیتوں کی بدولت منفرد مقام حاصل کیا خودداری کو ھمیشہ ترجیح دی۔۔۔۔ شازمہ حلیم۔۔
    • تیراہ میں فوجی آپریشن سے قبل ھمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔۔ اقبال آفریدی۔۔۔
    •  کسی بھی غیر مہذب اور بیہودہ سی ڈی ڈراموں میں کام نہ کرنیکا عہد کررکھا ھے شینوماما۔
    • معروف چترالی فنکار اقبال الدین دارفانی سے کوچ کرگئے۔۔۔
    • مادری زبان میں تعلیم کیلئے اے این پی کا اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس
    • وزیراعظم کی زیر صدارت دور دراز علاقوں میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی کیلئے سولرائزیشن پر اعلیٰ سطحی اجلاس
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پاکستان-سعودی دفاعی اتحاد، ایک نئی عہد کی بنیاد
    بلاگ

    پاکستان-سعودی دفاعی اتحاد، ایک نئی عہد کی بنیاد

    ستمبر 20, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    New Era of Defense
    Strategic Shield Rising
    Share
    Facebook Twitter Email

    تحریر:مبارک علی

    سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان حال ہی میں دستخط ہونے والا دفاعی معاہدہ خطے کی جغرافیائی سیاست کو نئی سمت دے رہا ہے۔ 17 ستمبر 2025 کو ریاض میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے اس تاریخی معاہدے پر دستخط کیے، جسے "اسٹریٹیجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ” کہا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان باہمی دفاعی ذمہ داریاں طے کرنا ہے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملے کو دونوں پر حملہ قرار دیا جائے گا۔ یہ معاہدہ علاقائی عدم استحکام، خاص طور پر اسرائیل کی حالیہ جارحیتوں اور قطر پر حملوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جو سعودی عرب کی حفاظتی ضروریات کو اجاگر کرتا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے سعودی عرب میں 50 ہزار فوجیوں کی تعیناتی متوقع ہے۔ اس میں مقدس شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی دفاعی ذمہ داری پاکستان کی مسلح افواج کے حوالے ہو جائے گی۔ یہ تعیناتی 1960 کی دہائی سے جاری دفاعی تعاون کی توسیع ہے، جب پاکستان نے پہلی بار سعودی عرب میں فوجی دستے بھیجے تھے۔ حالیہ برسوں میں سعودی عرب میں 1,500 سے 2,000 پاکستانی فوجی مشقیں اور تربیت کے لیے موجود رہے، مگر اب یہ تعداد کئی گنا بڑھ جائے گی۔ اس کے علاوہ، پاکستان پانچ میزائل رجمنٹس قائم کرے گا، جن میں بیلسٹک، کروز اور ابابیل میزائل شامل ہوں گے۔ ابابیل میزائل، جو بیک وقت 13 اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے، سعودی دفاعی نظام کو جدید بنانے کا کلیدی جزو ہو گا۔ جدید ترین ایئر ڈیفنس سسٹمز اور نئی ایئربیسز کی تعمیر بھی اس منصوبے کا حصہ ہے، جو سعودی تیل کی سپلائی روٹس کی حفاظت کو یقینی بنائے گی۔

    اس دفاعی تعاون کی تکنیکی بنیاد ایک مشترکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم ہو گی، جو دونوں ممالک کی افواج کو ایک ساتھ متحرک کر سکے گی۔ کسی حملے کی صورت میں مدد طلب کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی؛ سسٹم خودکار طور پر ردعمل دے گا۔ پاکستان اس مقصد کے لیے ایئر کمیونیکیشن سسٹم بھی قائم کر رہا ہے، جس کی بنیاد 406 ملین ڈالرز کی لاگت سے چین سے 20 سیٹلائٹس کی خریداری پر رکھی گئی ہے۔ یہ سیٹلائٹس، جو سوپارکو کے تعاون سے لانچ ہوں گی، پورے خطے کی نگرانی ممکن بنائیں گی اور حقیقی وقت کی ریموٹ سینسنگ فراہم کریں گی۔ سعودی فضائیہ میں پاکستانی جے ایف-17 تھنڈر طیاروں اور 10 سی طیاروں کی شمولیت بھی معاہدے کا حصہ ہے، جو سعودی دفاعی صلاحیت کو مزید مستحکم کرے گی۔

    یہ منصوبہ ایک سال میں مکمل ہو جائے گا، جس کے لیے پاکستانی افسران کا وفد چند دنوں میں سعودیہ پہنچ جائے گا۔ تاریخی طور پر، پاکستان نے 1982 کے پروٹوکول کے تحت سعودی فوج کی تربیت اور تعیناتی کی ہے، جہاں 20 ہزار سے زائد فوجی تعینات رہے۔ آج یہ تعاون اقتصادی اور تزویراتی طور پر پاکستان کے لیے سہارا بن رہا ہے، جبکہ سعودی عرب کو جوہری طاقت رکھنے والے اتحادی کی ضرورت ہے۔ تاہم، یہ معاہدہ بھارت جیسے ہمسایوں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے، جو علاقائی توازن کو متاثر کرے گا۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپاکستان کی تاریخی فتح "بنیانِ مرصوص” اور خطے میں امن کی راہ
    Next Article ٹرمپ کی ایچ-ون بی ویزا پالیسی، بھارت کی معیشت اور خارجہ پالیسی پر گہرا اثر
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    شکرپڑیاں کا سبز سکوت کیوں ٹوٹ گیا؟

    جنوری 6, 2026

    این ایف سی اور گلگت بلتستان کا سوال

    جنوری 4, 2026

    بانی پی ٹی آئی کے رہا نہ ہونے کے پیچھے وجوہات کیا ہیں ؟

    دسمبر 30, 2025
    Leave A Reply Cancel Reply

    Khyber News YouTube Channel
    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبرپختونخوا سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پی ٹی آئی اپنی ذمہ داری نہیں نبھا رہی، امیر حیدر خان ہوتی

    جنوری 9, 2026

    میں جو ھوں اس پہ پشیماں نہیں ھوں لوگوں کی باتوں کی پرواہ کبھی نہیں کی نہ ھے۔۔۔ ڈولفن آیان

    جنوری 9, 2026

    شوبز میں اپنی فنی صلاحیتوں کی بدولت منفرد مقام حاصل کیا خودداری کو ھمیشہ ترجیح دی۔۔۔۔ شازمہ حلیم۔۔

    جنوری 9, 2026

    تیراہ میں فوجی آپریشن سے قبل ھمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔۔ اقبال آفریدی۔۔۔

    جنوری 9, 2026

     کسی بھی غیر مہذب اور بیہودہ سی ڈی ڈراموں میں کام نہ کرنیکا عہد کررکھا ھے شینوماما۔

    جنوری 9, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.