Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, مارچ 4, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • برطانوی ہائی کورٹ کا میجر (ر) عادل راجہ کے خلاف ہتکِ عزت کیس میں تفصیلی فیصلہ، بھاری جرمانہ برقرار
    • ضلع کرم کی سرحدی پٹی بوڑکی اور خرلاچی پر فائرنگ، جوابی کارروائی میں حملہ آوروں کو بھاری نقصان
    • پاک افغان سرحد پر جھڑپیں اور ایران پر امریکی-اسرائیلی حملہ: تازہ ترین مصدقہ صورتحال
    • رمضان شادمان اور احمد شیر کا پکوان عارف قاضی کے بنئیے مہمان
    • امریکا کے ایران میں وسیع حملے، ہزاروں اہداف تباہ، ایران کی جانب سے 500 میزائل داغے گئے
    • پاک افغان سرحد پر بلوچستان میں پاک فوج کی سخت جوابی کارروائی، 50 سے زائد مقامات پر آپریشن جاری
    • پاکستان کا افغان حکومت سے نور ولی محسود اور حافظ گل بہادر کی فوری حوالگی کا مطالبہ
    • جنگلی حیات کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے، صدرِ مملکت کا عالمی یومِ جنگلی حیات پر پیغام
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پاکستان-سعودی دفاعی اتحاد، ایک نئی عہد کی بنیاد
    بلاگ

    پاکستان-سعودی دفاعی اتحاد، ایک نئی عہد کی بنیاد

    ستمبر 20, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    New Era of Defense
    Strategic Shield Rising
    Share
    Facebook Twitter Email

    تحریر:مبارک علی

    سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان حال ہی میں دستخط ہونے والا دفاعی معاہدہ خطے کی جغرافیائی سیاست کو نئی سمت دے رہا ہے۔ 17 ستمبر 2025 کو ریاض میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے اس تاریخی معاہدے پر دستخط کیے، جسے "اسٹریٹیجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ” کہا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان باہمی دفاعی ذمہ داریاں طے کرنا ہے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملے کو دونوں پر حملہ قرار دیا جائے گا۔ یہ معاہدہ علاقائی عدم استحکام، خاص طور پر اسرائیل کی حالیہ جارحیتوں اور قطر پر حملوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جو سعودی عرب کی حفاظتی ضروریات کو اجاگر کرتا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے سعودی عرب میں 50 ہزار فوجیوں کی تعیناتی متوقع ہے۔ اس میں مقدس شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی دفاعی ذمہ داری پاکستان کی مسلح افواج کے حوالے ہو جائے گی۔ یہ تعیناتی 1960 کی دہائی سے جاری دفاعی تعاون کی توسیع ہے، جب پاکستان نے پہلی بار سعودی عرب میں فوجی دستے بھیجے تھے۔ حالیہ برسوں میں سعودی عرب میں 1,500 سے 2,000 پاکستانی فوجی مشقیں اور تربیت کے لیے موجود رہے، مگر اب یہ تعداد کئی گنا بڑھ جائے گی۔ اس کے علاوہ، پاکستان پانچ میزائل رجمنٹس قائم کرے گا، جن میں بیلسٹک، کروز اور ابابیل میزائل شامل ہوں گے۔ ابابیل میزائل، جو بیک وقت 13 اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے، سعودی دفاعی نظام کو جدید بنانے کا کلیدی جزو ہو گا۔ جدید ترین ایئر ڈیفنس سسٹمز اور نئی ایئربیسز کی تعمیر بھی اس منصوبے کا حصہ ہے، جو سعودی تیل کی سپلائی روٹس کی حفاظت کو یقینی بنائے گی۔

    اس دفاعی تعاون کی تکنیکی بنیاد ایک مشترکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم ہو گی، جو دونوں ممالک کی افواج کو ایک ساتھ متحرک کر سکے گی۔ کسی حملے کی صورت میں مدد طلب کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی؛ سسٹم خودکار طور پر ردعمل دے گا۔ پاکستان اس مقصد کے لیے ایئر کمیونیکیشن سسٹم بھی قائم کر رہا ہے، جس کی بنیاد 406 ملین ڈالرز کی لاگت سے چین سے 20 سیٹلائٹس کی خریداری پر رکھی گئی ہے۔ یہ سیٹلائٹس، جو سوپارکو کے تعاون سے لانچ ہوں گی، پورے خطے کی نگرانی ممکن بنائیں گی اور حقیقی وقت کی ریموٹ سینسنگ فراہم کریں گی۔ سعودی فضائیہ میں پاکستانی جے ایف-17 تھنڈر طیاروں اور 10 سی طیاروں کی شمولیت بھی معاہدے کا حصہ ہے، جو سعودی دفاعی صلاحیت کو مزید مستحکم کرے گی۔

    یہ منصوبہ ایک سال میں مکمل ہو جائے گا، جس کے لیے پاکستانی افسران کا وفد چند دنوں میں سعودیہ پہنچ جائے گا۔ تاریخی طور پر، پاکستان نے 1982 کے پروٹوکول کے تحت سعودی فوج کی تربیت اور تعیناتی کی ہے، جہاں 20 ہزار سے زائد فوجی تعینات رہے۔ آج یہ تعاون اقتصادی اور تزویراتی طور پر پاکستان کے لیے سہارا بن رہا ہے، جبکہ سعودی عرب کو جوہری طاقت رکھنے والے اتحادی کی ضرورت ہے۔ تاہم، یہ معاہدہ بھارت جیسے ہمسایوں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے، جو علاقائی توازن کو متاثر کرے گا۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپاکستان کی تاریخی فتح "بنیانِ مرصوص” اور خطے میں امن کی راہ
    Next Article ٹرمپ کی ایچ-ون بی ویزا پالیسی، بھارت کی معیشت اور خارجہ پالیسی پر گہرا اثر
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    امن کی کنجی کابل کے ہاتھ میں !

    فروری 22, 2026

    غربت کی نئی لہر اور معیشت کا کڑا امتحان

    فروری 21, 2026

    رہائی فورس کا اعلان،سیاسی وفاداری یا تصادم کا حتمی فیصلہ ؟

    فروری 20, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    برطانوی ہائی کورٹ کا میجر (ر) عادل راجہ کے خلاف ہتکِ عزت کیس میں تفصیلی فیصلہ، بھاری جرمانہ برقرار

    مارچ 4, 2026

    ضلع کرم کی سرحدی پٹی بوڑکی اور خرلاچی پر فائرنگ، جوابی کارروائی میں حملہ آوروں کو بھاری نقصان

    مارچ 4, 2026

    پاک افغان سرحد پر جھڑپیں اور ایران پر امریکی-اسرائیلی حملہ: تازہ ترین مصدقہ صورتحال

    مارچ 4, 2026

    رمضان شادمان اور احمد شیر کا پکوان عارف قاضی کے بنئیے مہمان

    مارچ 4, 2026

    امریکا کے ایران میں وسیع حملے، ہزاروں اہداف تباہ، ایران کی جانب سے 500 میزائل داغے گئے

    مارچ 4, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.