اسلام آباد: حکومتی اور سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن، مذاکرات اور سفارتی حل پر یقین رکھتا ہے، تاہم ملکی سلامتی، آبی حقوق، کشمیر، بلوچستان اور قومی خودمختاری کے معاملے پر کسی دباؤ، دھمکی یا جارحانہ اقدام کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
پاکستان نے ہمیشہ ذمہ دار ملک کے طور پر تحمل، بردباری اور بات چیت کو ترجیح دی ہے، لیکن اگر بھارت کی جانب سے پاکستان کے پانی کو روکنے یا آبی جارحیت مسلط کرنے کی کوئی کوشش کی گئی تو پاکستان اپنی قومی سلامتی اور عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج عوامی امنگوں اور حکومت کی پالیسی کے مطابق ملک کے دفاع، آبی مفادات اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ پاکستان کا واضح مؤقف ہے کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا خطے کے امن کے لیے خطرناک ہوگا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری جارحانہ پالیسی اختیار کرنے والے فریق پر عائد ہوگی۔
بھارت کا پاکستان مخالف بیانیہ خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار
حکومتی مؤقف کے مطابق بھارت اپنی داخلی سیاست، دفاعی بجٹ اور انتہا پسند بیانیے کو جواز دینے کے لیے پاکستان کے خلاف مسلسل ماحول سازی کرتا ہے۔ بھارتی سیاسی قیادت اور عسکری حلقوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف دھمکی آمیز بیانات خطے میں کشیدگی کو بڑھانے کا سبب بنتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے جو امن چاہتی ہے، مگر اپنی سلامتی، پانی، سرحدوں اور قومی مفادات کے تحفظ سے غافل نہیں رہ سکتا۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ آبی معاملات ہوں، کشمیر ہو یا علاقائی سلامتی، ہر معاملے پر پاکستان کا مؤقف واضح، اصولی اور قومی اتفاقِ رائے پر مبنی ہے۔
کشمیر پاکستان کی تکمیل کا نامکمل ایجنڈا
حکومتی بیانیے کے مطابق کشمیر برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے اور کشمیری عوام کا حقِ خودارادیت اقوامِ متحدہ کی قراردادوں، تاریخی حقائق اور عوامی خواہشات سے جڑا ہوا ہے۔ پاکستان کا سرکاری مؤقف ہے کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ آزادانہ اور منصفانہ طریقے سے کرنے کا حق حاصل ہے۔
ریاستی ذرائع کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں طاقت، پابندیوں، آبادیاتی تبدیلیوں اور نام نہاد ترقیاتی دعووں کے ذریعے کشمیری عوام کے سیاسی جذبات کو دبایا نہیں جا سکتا۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ کشمیر کا پائیدار حل طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ کشمیری عوام کی مرضی اور بین الاقوامی وعدوں کی تکمیل سے ممکن ہے۔
حکومتی مؤقف کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں عوامی مزاحمت اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی تنازع ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔
آزاد کشمیر میں بدامنی پھیلانے کی کوششیں ناکام بنانے کا عزم
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی قیادت نے آزاد کشمیر میں مسائل کے حل کے لیے ہمیشہ بات چیت، مذاکرات اور عوامی سہولت کو ترجیح دی۔ عوامی مطالبات پر سہولیات فراہم کی گئیں، ریلیف دیا گیا اور مقامی سطح پر مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے گئے۔
تاہم ریاستی مؤقف کے مطابق بعض عناصر نے عوامی حقوق کے نام پر بدامنی، انتشار اور ریاست مخالف مقاصد کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ایسے عناصر کا اصل چہرہ واضح ہوچکا ہے اور ریاست عوامی حقوق اور امن میں فرق کو اچھی طرح سمجھتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج، عوامی مسائل اور جائز مطالبات کا احترام کیا جاتا ہے، لیکن تشدد، انتشار، بیرونی ایجنڈے اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسی واضح
حکومتی اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں دہشت گردی، جرائم پیشہ نیٹ ورکس، بیرونی سہولت کاری اور سیاسی لبادے میں ریاست مخالف سرگرمیوں کے حوالے سے ریاست کو کوئی ابہام نہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے بعض بیرونی اور اندرونی عناصر سرگرم ہیں جو صوبے کی ترقی، امن اور عوامی خوشحالی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
بی ایل اے کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ یہ ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم ہے۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق بی ایل اے پاکستان میں 2006 سے کالعدم ہے، جبکہ امریکی محکمہ خارجہ نے بھی بی ایل اے اور اس کے نام سے منسلک مجید بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔
حکومتی بیانیے کے مطابق بلوچستان کے عوام پاکستان کی طاقت ہیں، جبکہ دہشت گرد تنظیمیں، علیحدگی پسند نیٹ ورکس اور بیرونی پراکسیز بلوچستان کے عوام کے حقیقی مسائل کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
بلوچستان کی ترقی، بہتر گورننس اور مقامی عوام کو فائدہ پہنچانے پر زور
ریاستی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے صرف سیکیورٹی اقدامات کافی نہیں، بلکہ بہتر گورننس، مقامی معیشت، روزگار، تعلیم، پولیس اصلاحات اور انتظامی بہتری بھی ضروری ہے۔
حکومتی مؤقف کے مطابق بلوچستان کے قدرتی وسائل، معدنیات، ساحلی ترقی اور جغرافیائی اہمیت سے سب سے زیادہ فائدہ مقامی عوام کو پہنچنا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے ایسے مربوط نظام کی ضرورت ہے جس میں سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی، مقامی روزگار، شفافیت اور عوامی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سرداری نظام کی پیچیدگیوں، کمزور انتظامی ڈھانچے، پولیس کی محدود استعداد اور ترقیاتی خلا کو ختم کیے بغیر بلوچستان میں دیرپا بہتری ممکن نہیں۔ اسی لیے پولیس کی استعداد کار بڑھانے، لیویز کے کردار کو بہتر بنانے اور صوبے میں گورننس کو مضبوط کرنے پر کام کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کی سفارت کاری: امن، توازن اور آزاد خارجہ پالیسی
حکومتی مؤقف کے مطابق پاکستان کی خارجہ پالیسی کسی ایک ملک کے دباؤ یا کسی دوسرے ملک کی پالیسی کے تابع نہیں۔ پاکستان ہر ملک کے ساتھ اپنے قومی مفاد، خطے کے امن اور عوامی مفادات کی بنیاد پر تعلقات قائم کرتا ہے۔
ریاستی بیانیے کے مطابق پاکستان آزاد، متوازن اور کثیر الجہتی سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے۔ پاکستان کی پالیسی یہ ہے کہ خطے میں کشیدگی کم ہو، مسلم ممالک کے درمیان تناؤ کم کیا جائے، اور عالمی و علاقائی مسائل کا حل بات چیت سے نکالا جائے۔
حالیہ سفارتی سرگرمیوں کے حوالے سے پاکستانی قیادت نے خطے میں امن کے لیے فعال کردار ادا کرنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے حوالے سے پاکستان، قطر اور دیگر علاقائی قوتوں کی سفارتی کوششوں کا ذکر کیا گیا، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی امریکا اور ایران کے درمیان امن پیش رفت کا اعلان کیا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات، سفارتی رابطوں، سیکیورٹی تعاون اور ملٹری ڈپلومیسی کو خطے کے امن کے لیے اہم سمجھا ہے۔ قطر، سعودی عرب، ترکی، مصر اور دیگر دوست ممالک کی علاقائی امن کے لیے کوششوں کو بھی پاکستان قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
بھارت کے برعکس پاکستان ذمہ دار ریاستی کردار ادا کر رہا ہے
ریاستی مؤقف کے مطابق بھارت خود کو عالمی طاقت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے، مگر خطے میں اس کی پالیسیاں اکثر کشیدگی، جارحانہ بیانیے اور داخلی سیاسی ضرورتوں کے گرد گھومتی ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ حقیقی عظمت دھمکیوں، طاقت کے مظاہرے یا پروپیگنڈے سے نہیں بلکہ امن، ذمہ داری، سفارت کاری اور عوامی فلاح سے حاصل ہوتی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے مشکل حالات میں بھی تحمل کا مظاہرہ کیا، مگر جب بات قومی سلامتی، پانی، کشمیر، بلوچستان اور عوامی تحفظ کی ہو تو ریاست کسی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کرے گی۔
پاکستان کا واضح پیغام
پاکستان کا پیغام واضح ہے:
پاکستان امن چاہتا ہے، مگر کمزوری نہیں دکھائے گا۔
پاکستان مذاکرات چاہتا ہے، مگر قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
پاکستان خطے میں استحکام چاہتا ہے، مگر آبی جارحیت، دہشت گردی، بیرونی پراکسیز اور کشمیر پر جبر کو قبول نہیں کرے گا۔
حکومتی مؤقف کے مطابق پاکستان کی سیاسی قیادت، مسلح افواج، ریاستی ادارے اور عوام ملکی سلامتی، کشمیر کاز، بلوچستان کے امن اور خطے میں متوازن سفارت کاری کے حوالے سے یکسو ہیں۔ پاکستان اللہ تعالیٰ کی مدد، عوامی اتحاد اور ذمہ دار ریاستی پالیسی کے ذریعے ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

