اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا عزیز وطن اس وقت شدید معاشی اور مالیاتی بحرانوں کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ اس تشویشناک صورتحال کے ذمہ دار کون ہیں، یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ اس کے باوجود ملک کو چلانے کے لیے غریب عوام اپنی استطاعت سے کہیں زیادہ ٹیکس ادا کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں کسی نہ کسی حد تک ریاستی نظام کا پہیہ چل رہا ہے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ ایک طرف ملک مختلف بحرانوں کی لپیٹ میں ہے، تو دوسری جانب حکومتی شاہ خرچیوں کے خاتمے کا کوئی نام و نشان نظر نہیں آتا۔ اس صورتحال سے یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ غریب عوام سے وصول کیے جانے والے ٹیکس اشرافیہ کی عیاشیوں پر خرچ ہو رہے ہیں۔
اس افسوسناک طرزِعمل کی متعدد مثالیں دی جا سکتی ہیں، تاہم تازہ ترین مثال مذہبی امور کی قائمہ کمیٹی کی جانب سے پیش کی جانے والی حیران کن تجاویز اور مطالبات ہیں۔ کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے روضۂ اقدس پر حاضری اور عمرے کے لیے ایک پارلیمانی وفد بھیجا جائے، جو پاکستانی عوام کی جانب سے سلام پیش کرے، اور اس وفد کے تمام اخراجات قومی اسمبلی برداشت کرے۔
کمیٹی کے ایک رکن نے یہ تجویز بھی دی کہ پارلیمانی وفد کے ارکان کی تعداد سات کے بجائے دس رکھی جائے، جبکہ کمیٹی کی چیئرپرسن شگفتہ جمالی کا کہنا ہے کہ اسپیکر کے وفود میں تو پندرہ پندرہ افراد تک شامل کیے جاتے ہیں۔
مزید برآں، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار یوسف نے بھی اس تجویز کی حمایت کی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ سرکاری خرچ پر وفد بھیجنے میں کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑے گا، کیونکہ یہ وفد دراصل عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے روضۂ رسول ﷺ پر سلام عرض کرنے کے لیے جائے گا۔
یہ تمام اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب ملک تقریباً اٹھہتر ہزار ارب روپے سے زائد کے قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے، اور غریب عوام کا حال اور مستقبل دونوں غیر یقینی کا شکار ہیں۔ یہاں اعتراض روضۂ رسول ﷺ پر حاضری پر نہیں، بلکہ معاشی بدحالی کے اس سنگین دور میں حکومتی ارکان کی شاہ خرچیوں پر ہے۔
یہ وقت اس بات کا متقاضی ہے کہ حکومتی نمائندے اخلاقی طور پر ایسے دوروں اور غیر ضروری اخراجات سے خود کو باز رکھیں اور عملی اقدامات کے ذریعے غریب عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔ یہی رویہ نہ صرف عوامی اعتماد بحال کر سکتا ہے بلکہ ریاست کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

