Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, اکتوبر 15, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • افغانستان سے ایران منشیات سمگلنگ: طالبان رجیم میں چار گنا تشویشناک اضافہ
    • بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ 3: مستونگ میں 2 دہشت گرد ہلاک، 104 غیرقانونی افغان شہری گرفتار
    • گورنر خیبرپختونخوا کی محکمہ اطلاعات کو مثبت تشخص اجاگر کرنے اور منفی پروپیگنڈے کا جواب دینے کی ہدایت
    • پشاور سکول سانحہ: ریسکیو حکام اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ابتدائی رپورٹ صوبائی حکومت کو ارسال
    • سی پیک مغربی روٹ: بلوچستان میں 310 ارب کے منصوبے، 718 کلومیٹر شاہراہوں پر پیشرفت
    • انٹیلی جنس رپورٹ: خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے بعد احتجاجی سرگرمیاں محدود رہیں
    • سوات میں سی ٹی ڈی اور پولیس کا آپریشن، 3 دہشتگرد ہلاک
    • امریکی سفارتخانے کی ناظم الاُمور نیٹلی اے بیکر کی جانب سے پشاور سانحہ پر گہرے دکھ اور ہمدردی کا اظہار
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • خاص خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پی آئی اے اور پاکستان!
    بلاگ نومبر 5, 2024

    پی آئی اے اور پاکستان!

    Facebook Twitter Email
    PIA and Pakistan
    دیکھتے ہیں کہ کہیں تیسرے صوبے کا لاڈلا بلاول بھی یہی خواہش نہ کر بیٹھیں۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    جب غربت اور مالی مشکلات کے باعث اپنا گھر بیچا جانے لگا، تو خریدار اسی گھر میں اپنا بھائی بن کر رہنے لگا۔

    افسوس کے ساتھ یہ قلم اٹھا رہی ہوں کہ ہمارا قومی اثاثہ، پی آئی اے، مالی بحران کے باعث بیچا جا رہا ہے، جبکہ ہماری حکومتیں اپنے لئے خریداریوں میں مصروف ہیں۔ بولی کا اعلان ہوتے ہی اپنے ملک کے اندر خریدار پیدا ہو گئے، اور یہ خریدار کوئی اور نہیں بلکہ ہماری صوبائی حکومتیں ہیں۔

    ایک طرف خیبرپختونخوا حکومت نے خریداری کی خواہش ظاہر کی، تو دوسری طرف مریم نواز نے بچوں کی طرح ضد کرتے ہوئے کہا کہ ’پاپا، پی آئی اے میرے لیے خرید لیں۔‘ کیا یہ قومی اثاثہ بیچ کر ہم مالی بحران سے نکل سکیں گے؟ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا ملک اور قومی ادارے تو غربت کا شکار ہیں، مگر انہی اداروں کو چلانے والے حکومتی افراد دولت مند ہیں۔

    پاکستان میں ایسا کیوں ہے کہ قومی اثاثوں پر بچوں کی طرح ضد اور لڑائی جاری ہے؟ ایک کہتا ہے کہ ہم خریدیں گے، چاہے چندہ کیوں نہ اکٹھا کرنا پڑے، تو دوسری طرف پنجاب حکومت بضد ہے کہ اسے خریدنا ہے۔ اگر اسی جذبے سے سب اپنے ملک کے لیے دوڑ لگائیں اور کہیں کہ ہم اداروں کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں، تو نہ قومی اثاثے بیچنے کی ضرورت پڑے گی اور نہ ہی ادارے مالی بحران کا شکار ہوں گے۔

    اگر غور کیا جائے تو یہ منظر گاؤں کے ان بڑے گھروں جیسا ہے جہاں ایک ہی چھت کے نیچے کئی چچا زاد کزنز رہتے ہیں۔ جب کوئی ایک بچہ کسی چیز کو دیکھ کر پسند کر لیتا ہے تو ضد کرتا ہے کہ ’’پاپا، ماما! میں نے یہ خریدنا ہے۔‘‘ یہ سنتے ہی دوسرے کزن کی ماما اپنے بچوں کو کہتی ہیں کہ ’’تم بھی لے لو،‘‘ یا پھر دوسرا بچہ خود کہتا ہے کہ ’’اگر وہ لے سکتا ہے تو میں کیوں نہیں؟‘‘

    آج ہمارے قومی اثاثوں کا بھی کچھ ایسا ہی حال ہے۔ دو صوبے تو اس وقت اسی تگ و دو میں ہیں، اور دیکھتے ہیں کہ کہیں تیسرے صوبے کا لاڈلا بلاول بھی یہی خواہش نہ کر بیٹھیں۔ ہم عوام صرف تماشائی بنے دیکھ سکتے ہیں کہ کون اثاثہ بیچے گا اور کون خریدے گا؟

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleامریکا میں صدارتی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا باقاعده آغاز
    Next Article ڈی آئی خان میں ایف سی کی گاڑی پر فائرنگ، 2 سپاہی شہید 4 زخمی ہوگئے
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    خیبرپختونخوا میں سیاسی و آئینی کشمکش: گورنر راج اور ایمرجنسی میں فرق اور صدر مملکت کے اختیارات!

    اکتوبر 5, 2026

    جب عوامی آوازیں دبتی ہیں، تو ریاستیں لرزتی ہیں. تحریر: قریش خٹک

    ستمبر 22, 2026

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    افغانستان سے ایران منشیات سمگلنگ: طالبان رجیم میں چار گنا تشویشناک اضافہ

    اکتوبر 15, 2026

    بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ 3: مستونگ میں 2 دہشت گرد ہلاک، 104 غیرقانونی افغان شہری گرفتار

    اکتوبر 15, 2026

    گورنر خیبرپختونخوا کی محکمہ اطلاعات کو مثبت تشخص اجاگر کرنے اور منفی پروپیگنڈے کا جواب دینے کی ہدایت

    اکتوبر 15, 2026

    پشاور سکول سانحہ: ریسکیو حکام اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ابتدائی رپورٹ صوبائی حکومت کو ارسال

    اکتوبر 15, 2026

    سی پیک مغربی روٹ: بلوچستان میں 310 ارب کے منصوبے، 718 کلومیٹر شاہراہوں پر پیشرفت

    اکتوبر 15, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.