Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, جنوری 20, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • صنفِ نازک سے صنفِ آہن تک کا سفر
    • تحریک انصاف سے مذاکرات میں سنجیدہ ہیں مگر یہ کئی زبانیں بولتے ہیں ہم کس پر اعتبار کریں: خواجہ آصف
    • پارلیمنٹ کو سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے، علامہ راجہ ناصر عباس
    • پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ علامہ راجہ ناصر عباس سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف مقرر
    • چمن سرحد پر پاکستان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ، جانی نقصان نہیں ہوا
    • کراچی سانحہ، جاں بحق افراد کی تعداد 26 ہوگئی، 83 افراد لاپتہ،ریسکیو کارروائیاں جاری
    • دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز کی مخالفت کیوں ؟
    • انڈر 19 ورلڈ کپ، پاکستان نے سکاٹ لینڈ کو 6 وکٹوں سے ہرادیا،جنوبی افریقہ اور سری لنکا بھی کامیاب
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » شکرپڑیاں کا سبز سکوت کیوں ٹوٹ گیا؟
    بلاگ

    شکرپڑیاں کا سبز سکوت کیوں ٹوٹ گیا؟

    جنوری 6, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Why was the green silence of Shakarparian broken
    درختوں کا خاتمہ مستقبل میں ہیٹ ویوز، فضائی آلودگی اور شہری دباؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد کو اگر دنیا کے خوبصورت دارالحکومتوں میں شمار کیا جاتا ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ اس کے پہاڑ، درخت اور سبز پٹیاں ہیں،شکرپڑیاں اسی سبز شناخت کی علامت تھا ایک ایسا علاقہ جہاں گھنا جنگل نہ صرف شہر کی خوبصورتی بڑھاتا تھا بلکہ درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا تھا، مگر آج یہی شکرپڑیاں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی کے بعد گنجا اور بنجر دکھائی دے رہا ہے ۔

    حالیہ مہینوں میں شکرپڑیاں کے مختلف حصوں میں ہونے والی کٹائی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے, کم از کم چار بڑے علاقے، جو مجموعی طور پر تقریباً 15 ایکڑ پر مشتمل ہیں، اب سبزے سے خالی ہو چکے ہیں وہ راستے جہاں پہلے درختوں کی اوٹ میں سڑکیں اور ایکسپریس وے نظر نہیں آتے تھے، اب کھلے اور بے پردہ دکھائی دیتے ہیں، یہ تبدیلی صرف منظر کی نہیں بلکہ ماحولیاتی توازن کی بھی ہے ۔

    کیپٹیل ڈیولپمنٹ اتھارٹی یعنی سی ڈی اے کے مطابق یہاں صرف پیپر ملبری کے درخت ہٹائے گئے، جنہیں پولن الرجی کا سبب قرار دیا جاتا ہے، بظاہر یہ دلیل وزن رکھتی ہے، مگر جب پورا علاقہ بنجر نظر آنے لگے تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا کٹائی واقعی صرف ایک ہی قسم تک محدود رہی؟ اگر مقصد صحتِ عامہ تھا تو اس کا حل اندھا دھند کٹائی کے بجائے تدریجی اور متبادل شجرکاری بھی ہو سکتا تھا ۔

    ماحولیاتی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو شکرپڑیاں جیسے قدرتی گرین بیلٹ میں مداخلت کے اثرات فوری نہیں بلکہ دیرپا ہوتے ہیں، درخت صرف سایہ نہیں دیتے، وہ درجہ حرارت کم کرتے، ہوا کو صاف رکھتے اور شہری زندگی کو قابلِ برداشت بناتے ہیں، ان کا خاتمہ مستقبل میں ہیٹ ویوز، فضائی آلودگی اور شہری دباؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے وہ مسائل جن سے اسلام آباد پہلے ہی مکمل طور پر محفوظ نہیں رہا ۔

    یہ معاملہ صرف شکرپڑیاں تک محدود نہیں، شہر کے مختلف حصوں میں ترقیاتی منصوبوں کے نام پر درختوں کی قربانی ایک معمول بنتی جا رہی ہے ۔

    سوال یہ نہیں کہ ترقی ہونی چاہیے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ترقی کس قیمت پر؟ اگر سڑکیں، انٹرچینجز اور پارکس قدرتی ماحول کو قربان کر کے بنائے جائیں تو یہ ترقی پائیدار کیسے کہلائے گی؟

    اعلان تو یہ کیا جا رہا ہے کہ مقامی درخت لگائے جائیں گے اور سبزہ بحال ہوگا، مگر اسلام آباد کے ماضی کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ شجرکاری کے وعدے اکثر فائلوں اور تصویروں تک محدود رہ جاتے ہیں، ایک درخت کو اگنے میں دہائیاں لگتی ہیں، اور اس کا نعم البدل فوری طور پر ممکن نہیں ہوتا ۔

    شکرپڑیاں کی موجودہ حالت ایک انتباہ ہے یہ یاد دہانی کہ دارالحکومت کی سبز شناخت خود بخود محفوظ نہیں رہے گی۔، اس کے لیے شفاف فیصلے، سائنسی بنیادوں پر پالیسیاں اور حقیقی ماحولیاتی ترجیحات ضروری ہیں، ورنہ خطرہ یہ ہے کہ آنے والی نسلیں شکرپڑیاں کو صرف تصویروں اور پرانی خبروں میں ہی دیکھ پائیں گی ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleدہشت گردی کے خلاف جنگ میں تحریک انصاف اپنی ریاست کے خلاف کیوں کھڑی ہے؟
    Next Article انڈر 19 سہ ملکی سیریز کے فائنل میں پاکستان نے زمبابوے کو ہرا کر ٹرافی اپنے نام کرلی
    Afzal Yousafzai
    • Website

    لکھاری صحافی اور مصنف ہیں ان کا ای میل ایڈریس afzalshahmian@gmail.comہے

    Related Posts

    صنفِ نازک سے صنفِ آہن تک کا سفر

    جنوری 20, 2026

    دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز کی مخالفت کیوں ؟

    جنوری 19, 2026

    وزیراعلیٰ کے جرگے اور قبائلی علاقوں میں امن و امان ۔ ۔ ۔

    جنوری 18, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    Khyber News YouTube Channel
    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    صنفِ نازک سے صنفِ آہن تک کا سفر

    جنوری 20, 2026

    تحریک انصاف سے مذاکرات میں سنجیدہ ہیں مگر یہ کئی زبانیں بولتے ہیں ہم کس پر اعتبار کریں: خواجہ آصف

    جنوری 20, 2026

    پارلیمنٹ کو سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے، علامہ راجہ ناصر عباس

    جنوری 20, 2026

    پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ علامہ راجہ ناصر عباس سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف مقرر

    جنوری 20, 2026

    چمن سرحد پر پاکستان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ، جانی نقصان نہیں ہوا

    جنوری 20, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.