Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, جولائی 7, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • زیارت میں 15 بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کی ہلاکت، وفاقی وزیرداخلہ کی جانب سے پولیس کی ستائش
    • کوئٹہ؛ قبائلی افراد اور مسلح دہشتگردوں میں جھڑپ، 4 افراد جاں بحق، 9 زخمی
    • خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان
    • پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب
    • بیلجیم اور اسپین کی شاندار فتوحات، امریکہ اور پرتگال کا ورلڈ کپ سفر ختم
    • معاہدہ یا مکمل خاتمہ، ٹرمپ کا ایران کو دھمکی، قالیباف نے امریکی صدر کو وہمی قرار دیدیا
    • زیارت حملہ: کلیئرنس آپریشن مکمل، 9 پولیس اہلکار شہید، 15 دہشت گرد مارے گئے
    • فلسطين کی تنظيم حماس نے غزہ گورننگ باڈی تحلیل کردی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » شکرپڑیاں کا سبز سکوت کیوں ٹوٹ گیا؟
    بلاگ

    شکرپڑیاں کا سبز سکوت کیوں ٹوٹ گیا؟

    جنوری 6, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Why was the green silence of Shakarparian broken
    درختوں کا خاتمہ مستقبل میں ہیٹ ویوز، فضائی آلودگی اور شہری دباؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد کو اگر دنیا کے خوبصورت دارالحکومتوں میں شمار کیا جاتا ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ اس کے پہاڑ، درخت اور سبز پٹیاں ہیں،شکرپڑیاں اسی سبز شناخت کی علامت تھا ایک ایسا علاقہ جہاں گھنا جنگل نہ صرف شہر کی خوبصورتی بڑھاتا تھا بلکہ درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا تھا، مگر آج یہی شکرپڑیاں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی کے بعد گنجا اور بنجر دکھائی دے رہا ہے ۔

    حالیہ مہینوں میں شکرپڑیاں کے مختلف حصوں میں ہونے والی کٹائی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے, کم از کم چار بڑے علاقے، جو مجموعی طور پر تقریباً 15 ایکڑ پر مشتمل ہیں، اب سبزے سے خالی ہو چکے ہیں وہ راستے جہاں پہلے درختوں کی اوٹ میں سڑکیں اور ایکسپریس وے نظر نہیں آتے تھے، اب کھلے اور بے پردہ دکھائی دیتے ہیں، یہ تبدیلی صرف منظر کی نہیں بلکہ ماحولیاتی توازن کی بھی ہے ۔

    کیپٹیل ڈیولپمنٹ اتھارٹی یعنی سی ڈی اے کے مطابق یہاں صرف پیپر ملبری کے درخت ہٹائے گئے، جنہیں پولن الرجی کا سبب قرار دیا جاتا ہے، بظاہر یہ دلیل وزن رکھتی ہے، مگر جب پورا علاقہ بنجر نظر آنے لگے تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا کٹائی واقعی صرف ایک ہی قسم تک محدود رہی؟ اگر مقصد صحتِ عامہ تھا تو اس کا حل اندھا دھند کٹائی کے بجائے تدریجی اور متبادل شجرکاری بھی ہو سکتا تھا ۔

    ماحولیاتی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو شکرپڑیاں جیسے قدرتی گرین بیلٹ میں مداخلت کے اثرات فوری نہیں بلکہ دیرپا ہوتے ہیں، درخت صرف سایہ نہیں دیتے، وہ درجہ حرارت کم کرتے، ہوا کو صاف رکھتے اور شہری زندگی کو قابلِ برداشت بناتے ہیں، ان کا خاتمہ مستقبل میں ہیٹ ویوز، فضائی آلودگی اور شہری دباؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے وہ مسائل جن سے اسلام آباد پہلے ہی مکمل طور پر محفوظ نہیں رہا ۔

    یہ معاملہ صرف شکرپڑیاں تک محدود نہیں، شہر کے مختلف حصوں میں ترقیاتی منصوبوں کے نام پر درختوں کی قربانی ایک معمول بنتی جا رہی ہے ۔

    سوال یہ نہیں کہ ترقی ہونی چاہیے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ترقی کس قیمت پر؟ اگر سڑکیں، انٹرچینجز اور پارکس قدرتی ماحول کو قربان کر کے بنائے جائیں تو یہ ترقی پائیدار کیسے کہلائے گی؟

    اعلان تو یہ کیا جا رہا ہے کہ مقامی درخت لگائے جائیں گے اور سبزہ بحال ہوگا، مگر اسلام آباد کے ماضی کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ شجرکاری کے وعدے اکثر فائلوں اور تصویروں تک محدود رہ جاتے ہیں، ایک درخت کو اگنے میں دہائیاں لگتی ہیں، اور اس کا نعم البدل فوری طور پر ممکن نہیں ہوتا ۔

    شکرپڑیاں کی موجودہ حالت ایک انتباہ ہے یہ یاد دہانی کہ دارالحکومت کی سبز شناخت خود بخود محفوظ نہیں رہے گی۔، اس کے لیے شفاف فیصلے، سائنسی بنیادوں پر پالیسیاں اور حقیقی ماحولیاتی ترجیحات ضروری ہیں، ورنہ خطرہ یہ ہے کہ آنے والی نسلیں شکرپڑیاں کو صرف تصویروں اور پرانی خبروں میں ہی دیکھ پائیں گی ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleدہشت گردی کے خلاف جنگ میں تحریک انصاف اپنی ریاست کے خلاف کیوں کھڑی ہے؟
    Next Article انڈر 19 سہ ملکی سیریز کے فائنل میں پاکستان نے زمبابوے کو ہرا کر ٹرافی اپنے نام کرلی
    Afzal Yousafzai
    • Website

    لکھاری صحافی اور مصنف ہیں ان کا ای میل ایڈریس afzalshahmian@gmail.comہے

    Related Posts

    آخر کب تک؟ معصوم بچوں کے خلاف جنسی جرائم، معاشرتی زوال اور ہماری اجتماعی ذمہ داری. تحریر: نازپروین

    جولائی 1, 2026

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026

    ہم نے ایک آفتاب کھو دیا!

    مئی 6, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    زیارت میں 15 بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کی ہلاکت، وفاقی وزیرداخلہ کی جانب سے پولیس کی ستائش

    جولائی 7, 2026

    کوئٹہ؛ قبائلی افراد اور مسلح دہشتگردوں میں جھڑپ، 4 افراد جاں بحق، 9 زخمی

    جولائی 7, 2026

    خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان

    جولائی 7, 2026

    پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب

    جولائی 7, 2026

    بیلجیم اور اسپین کی شاندار فتوحات، امریکہ اور پرتگال کا ورلڈ کپ سفر ختم

    جولائی 7, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.