Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, فروری 11, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبر ٹیلی ویژن نے لیجنڈ فنکاروں کو گمنامی سے نکالنے میں تاریخی کردار ادا کیا، فریدون باچہ
    • پاکستان ڈائریکٹرز، پروڈیوسرز، رائٹرز اینڈ آرٹس ایسوسی ایشن کے وفد کی ایڈیشنل سیکرٹری کلچر و سیاحت سے ملاقات
    • بنوں: پولیس چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ، 3 حملہ آور ہلاک، 9 زخمی
    • پشاور اجلاس کے فیصلے ،اعتماد کے فقدان کو ختم کرنے کی ایک کوشش ؟؟
    • خیبر پختونخوا پولیس کے سپیشل سیکیورٹی یونٹ کے اہلکاروں کو چینی زبان سکھانے کیلئے پروگرام مرتب
    • ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی مسلسل دوسری کامیابی، امریکہ کو 32 رنز سے ہرادیا
    • خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے فوری خاتمے کیلئے اہم فیصلے کرلئے گئے
    • دہشتگردی کے خلاف سیاسی اختلافات بھلا کر یکجا ہونے کی ضرورت ہے: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » خواتین کے نام پر پالیسیاں ، فائدہ کیا؟
    بلاگ

    خواتین کے نام پر پالیسیاں ، فائدہ کیا؟

    جنوری 23, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Policies in the name of women, what is the benefit?
    حقیقت ہے کہ خواتین کے نام پر بننے والی بیشتر پالیسیاں اشرافیہ کی خواتین تک محدود رہتی ہیں
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان میں خواتین کے حقوق اور فلاح کے نام پر پالیسیاں بنانا اب ایک روایت بن چکا ہے، ہر نئی حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے دعوے کرتی ہے، منصوبوں کا اعلان ہوتا ہے، سیمینارز ہوتے ہیں اور رپورٹس شائع کی جاتی ہیں۔،یہاں  سوال یہ ہے کہ ان پالیسیوں سے فائدہ واقعی عام پاکستانی عورت کو ہو رہا ہے یا صرف فائلوں اور تقاریر تک محدود ہے؟

    اگر تعلیم کی بات کی جائے تو اعداد و شمار ترقی دکھاتے ہیں، مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔، آج بھی دیہی علاقوں میں لاکھوں بچیاں غربت، سماجی دباؤ اور سہولیات کی کمی کے باعث اسکول سے باہر ہیں، پالیسیاں موجود ہیں، مگر اساتذہ نہیں،  عمارتیں ہیں، مگر تحفظ نہیں۔،نتیجتاً تعلیم کا خواب کاغذوں میں تو زندہ ہے، عملی زندگی میں نہیں۔

    خواتین کے تحفظ کے لیے قوانین کی کمی نہیں ہیں ،   ہراسانی، گھریلو تشدد اور جبری شادی کے خلاف قانون سازی کی جا چکی ہے، لیکن انصاف کا حصول آج بھی ایک مشکل سفر ہے، تھانے، عدالتیں اور سماجی رویے خواتین کے لیے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، سوال یہ ہے کہ اگر قانون پر عمل نہ ہو تو اس کی موجودگی کس کام کی؟

    معاشی بااختیاری کے نام پر امدادی پروگرام ضرور متعارف کروائے گئے ہیں، مگر یہ امداد خواتین کو خودمختار بنانے کے بجائے انہیں مستقل محتاجی کی طرف دھکیل رہی ہے، ہنر، روزگار اور باعزت مواقع فراہم کرنے کے بجائے وقتی مالی سہولت کو کامیابی قرار دینا پالیسی سازوں کی محدود سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔

    صحت کے شعبے میں بھی صورتحال مختلف نہیں،یہاں  ماں اور بچے کی صحت کے منصوبے موجود ہیں، مگر دیہی علاقوں میں خواتین آج بھی بنیادی طبی سہولت سے محروم ہیں، لیڈی ہیلتھ ورکرز کا کردار قابلِ تحسین ہے، مگر وسائل اور حکومتی توجہ کی کمی ان کی کارکردگی کو محدود کر دیتی ہے۔

    حقیقت ہے کہ خواتین کے نام پر بننے والی بیشتر پالیسیاں اشرافیہ کی خواتین تک محدود رہتی ہیں، جبکہ عام عورت جو کھیتوں میں کام کرتی ہے، گھروں میں مزدوری کرتی ہے یا کم اجرت پر فیکٹریوں میں محنت کرتی ہےان اقدامات سے محروم رہتی ہے۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ خواتین کے مسائل کو محض نعروں اور پالیسی دستاویزات تک محدود نہ رکھا جائے۔،اصل ضرورت مؤثر عمل درآمد، سماجی رویوں میں تبدیلی اور عام عورت کو فیصلہ سازی میں شامل کرنے کی ہے۔، جب تک پالیسیاں طاقتور طبقے کے بجائے عام خواتین کے لیے نہیں بنیں گی، اس وقت تک یہ سوال اپنی جگہ قائم رہے گا:

    خواتین کے نام پر پالیسیاں، مگر فائدہ کسے؟

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپشاور میں جائیداد کے تنازع پر فائرنگ، ایف سی ملازم سمیت دو افراد جاں بحق، متعدد زخمی
    Next Article چترال کے علاقے ڈومیل میں گھر پر برفانی تودہ گرنے سے 9 افراد جاں بحق، ایک بچہ زخمی
    عروج خان
    • Website

    Related Posts

    بنوں: پولیس چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ، 3 حملہ آور ہلاک، 9 زخمی

    فروری 11, 2026

    پشاور اجلاس کے فیصلے ،اعتماد کے فقدان کو ختم کرنے کی ایک کوشش ؟؟

    فروری 11, 2026

    خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے فوری خاتمے کیلئے اہم فیصلے کرلئے گئے

    فروری 10, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبر ٹیلی ویژن نے لیجنڈ فنکاروں کو گمنامی سے نکالنے میں تاریخی کردار ادا کیا، فریدون باچہ

    فروری 11, 2026

    پاکستان ڈائریکٹرز، پروڈیوسرز، رائٹرز اینڈ آرٹس ایسوسی ایشن کے وفد کی ایڈیشنل سیکرٹری کلچر و سیاحت سے ملاقات

    فروری 11, 2026

    بنوں: پولیس چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ، 3 حملہ آور ہلاک، 9 زخمی

    فروری 11, 2026

    پشاور اجلاس کے فیصلے ،اعتماد کے فقدان کو ختم کرنے کی ایک کوشش ؟؟

    فروری 11, 2026

    خیبر پختونخوا پولیس کے سپیشل سیکیورٹی یونٹ کے اہلکاروں کو چینی زبان سکھانے کیلئے پروگرام مرتب

    فروری 10, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.