Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, مارچ 3, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • جنگلی حیات کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے، صدرِ مملکت کا عالمی یومِ جنگلی حیات پر پیغام
    • حکومت ما لیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے میکرو اکنامک استحکام کو مزید مضبوط بنائے گی، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
    • ایران اور خلیجی ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کے محفوظ انخلا کے لئے تمام تر اقدامات کررہے ہیں، نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار
    • سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان، امریکی ڈالر 1 پیسہ ارزان
    • پاک فوج کی جوابی کارروائیاں جاری، جلال آباد میں اسلحہ ڈپو اور ڈرون اسٹوریج تباہ، 67 افغان اہلکار ہلاک
    • افغان وزارت دفاع نے بگرام ایئربیس پر پاکستانی فضائی حملوں سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی
    • سرحدی دہشت گردی پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف، بفر زون حکمت عملی سامنے آگئی
    • پاکستان کو غیر مستحکم کرنےکے لیے کسی کو ہمسایہ ملک کی سرزمین استعمال کرنےکی اجازت نہیں دیں گے: صدر مملکت
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » خواتین کے نام پر پالیسیاں ، فائدہ کیا؟
    بلاگ

    خواتین کے نام پر پالیسیاں ، فائدہ کیا؟

    جنوری 23, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Policies in the name of women, what is the benefit?
    حقیقت ہے کہ خواتین کے نام پر بننے والی بیشتر پالیسیاں اشرافیہ کی خواتین تک محدود رہتی ہیں
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان میں خواتین کے حقوق اور فلاح کے نام پر پالیسیاں بنانا اب ایک روایت بن چکا ہے، ہر نئی حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے دعوے کرتی ہے، منصوبوں کا اعلان ہوتا ہے، سیمینارز ہوتے ہیں اور رپورٹس شائع کی جاتی ہیں۔،یہاں  سوال یہ ہے کہ ان پالیسیوں سے فائدہ واقعی عام پاکستانی عورت کو ہو رہا ہے یا صرف فائلوں اور تقاریر تک محدود ہے؟

    اگر تعلیم کی بات کی جائے تو اعداد و شمار ترقی دکھاتے ہیں، مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔، آج بھی دیہی علاقوں میں لاکھوں بچیاں غربت، سماجی دباؤ اور سہولیات کی کمی کے باعث اسکول سے باہر ہیں، پالیسیاں موجود ہیں، مگر اساتذہ نہیں،  عمارتیں ہیں، مگر تحفظ نہیں۔،نتیجتاً تعلیم کا خواب کاغذوں میں تو زندہ ہے، عملی زندگی میں نہیں۔

    خواتین کے تحفظ کے لیے قوانین کی کمی نہیں ہیں ،   ہراسانی، گھریلو تشدد اور جبری شادی کے خلاف قانون سازی کی جا چکی ہے، لیکن انصاف کا حصول آج بھی ایک مشکل سفر ہے، تھانے، عدالتیں اور سماجی رویے خواتین کے لیے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، سوال یہ ہے کہ اگر قانون پر عمل نہ ہو تو اس کی موجودگی کس کام کی؟

    معاشی بااختیاری کے نام پر امدادی پروگرام ضرور متعارف کروائے گئے ہیں، مگر یہ امداد خواتین کو خودمختار بنانے کے بجائے انہیں مستقل محتاجی کی طرف دھکیل رہی ہے، ہنر، روزگار اور باعزت مواقع فراہم کرنے کے بجائے وقتی مالی سہولت کو کامیابی قرار دینا پالیسی سازوں کی محدود سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔

    صحت کے شعبے میں بھی صورتحال مختلف نہیں،یہاں  ماں اور بچے کی صحت کے منصوبے موجود ہیں، مگر دیہی علاقوں میں خواتین آج بھی بنیادی طبی سہولت سے محروم ہیں، لیڈی ہیلتھ ورکرز کا کردار قابلِ تحسین ہے، مگر وسائل اور حکومتی توجہ کی کمی ان کی کارکردگی کو محدود کر دیتی ہے۔

    حقیقت ہے کہ خواتین کے نام پر بننے والی بیشتر پالیسیاں اشرافیہ کی خواتین تک محدود رہتی ہیں، جبکہ عام عورت جو کھیتوں میں کام کرتی ہے، گھروں میں مزدوری کرتی ہے یا کم اجرت پر فیکٹریوں میں محنت کرتی ہےان اقدامات سے محروم رہتی ہے۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ خواتین کے مسائل کو محض نعروں اور پالیسی دستاویزات تک محدود نہ رکھا جائے۔،اصل ضرورت مؤثر عمل درآمد، سماجی رویوں میں تبدیلی اور عام عورت کو فیصلہ سازی میں شامل کرنے کی ہے۔، جب تک پالیسیاں طاقتور طبقے کے بجائے عام خواتین کے لیے نہیں بنیں گی، اس وقت تک یہ سوال اپنی جگہ قائم رہے گا:

    خواتین کے نام پر پالیسیاں، مگر فائدہ کسے؟

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپشاور میں جائیداد کے تنازع پر فائرنگ، ایف سی ملازم سمیت دو افراد جاں بحق، متعدد زخمی
    Next Article چترال کے علاقے ڈومیل میں گھر پر برفانی تودہ گرنے سے 9 افراد جاں بحق، ایک بچہ زخمی
    عروج خان
    • Website

    Related Posts

    سرحدی دہشت گردی پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف، بفر زون حکمت عملی سامنے آگئی

    مارچ 3, 2026

    کویت میں متعدد امریکی فوجی طیارے تباہ

    مارچ 2, 2026

    امریکا ایران فوجی کشیدگی میں خطرناک اضافہ، مشرق وسطیٰ میں میزائل حملے اور تیل کی قیمتوں میں تیزی

    مارچ 2, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    جنگلی حیات کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے، صدرِ مملکت کا عالمی یومِ جنگلی حیات پر پیغام

    مارچ 3, 2026

    حکومت ما لیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے میکرو اکنامک استحکام کو مزید مضبوط بنائے گی، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

    مارچ 3, 2026

    ایران اور خلیجی ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کے محفوظ انخلا کے لئے تمام تر اقدامات کررہے ہیں، نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار

    مارچ 3, 2026

    سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان، امریکی ڈالر 1 پیسہ ارزان

    مارچ 3, 2026

    پاک فوج کی جوابی کارروائیاں جاری، جلال آباد میں اسلحہ ڈپو اور ڈرون اسٹوریج تباہ، 67 افغان اہلکار ہلاک

    مارچ 3, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.