وزیراعظم نے جنگی صورتحال کے باعث کفایت شعاری کے منصوبے کی منظوری دے دی، نئی اشیا اور سرکاری گاڑیوں کی خریداری، سرکاری دوروں، سرکاری ضیافتوں پر پابندی ہوگی، سرکاری گاڑیوں کا پیٹرول 50 فیصد کردیا گیا، وزرا و مشیران دو ماہ کی تنخواہ و الاؤنسز چھوڑ دیں گے، سرکاری افسران کی تنخواہوں میں دو دن کی کٹوتی ہوگی ۔
اسلام آباد: وزیراعظم کی زیر صدارت قومی کفایت شعاری سے متعلق اجلاس ہوا جس میں چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی ۔
وزیراعظم نے جنگی صورتحال کے باعث کفایت شعاری کے اضافی اقدامات کی منظوری دے دی، کیے گئے فیصلے تمام وزارتوں، محکموں، خود مختار اداروں، عدلیہ اور پارلیمنٹ میں یکساں لاگو ہوں گے ۔
حکومت نے جون 2026ء تک نئی پائیدار اشیا کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کر دی، آئی ٹی خریداری صرف این آئی ٹی بی کی جانچ اور آسٹریٹی کمیٹی کی منظوری کے بعد ممکن ہوگی ۔
کابینہ ارکان، ارکانِ پارلیمان اور سرکاری افسران کے غیر ملکی سرکاری دوروں پر پابندی عائد کر دی گئی، پابندی کا اطلاق وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تمام عہدے داروں پر ہوگا، ناگزیر سرکاری دوروں کے سوا کسی بھی قسم کے بیرونِ ملک سرکاری سفر کی اجازت نہیں ہوگی، بیرونِ ملک سفر کی صورت میں تمام حکومتی عہدے دار صرف اکانومی کلاس میں سفر کریں گے، یہ پابندی سرکاری یا ڈونر فنڈنگ سے ہونے والے تمام دوروں پر لاگو ہوگی۔
اجلاس میں تمام سرکاری گاڑیوں کو اگلے 2 ماہ کے لیے ایندھن کی فراہمی میں 50 فیصد کمی کا فیصلہ بھی کیا گیا ، ایندھن کی کمی سرکاری بسوں، ایمبولینس، موٹر بائیکس وغیرہ جیسی آپریشنل گاڑیوں کے لیے نہیں ہوگی، ایندھن کی کمی سے وفاقی سطح پر ساڑھے چار ارب روپے کی بچت متوقع ہے ۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی 60 فیصد سرکاری گاڑیاں دو ماہ کے لیے گراوٴنڈ کی جائیں گی جب کہ جون 2026ء تک تمام قسم کی نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد ہوگ۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی اور صوبائی کابینہ کے تمام وزراء، مشیر اور معاونین رضاکارانہ طور پر دو ماہ کی تنخواہ اور الاوٴنسز چھوڑ دیں، تمام وفاقی و صوبائی محکموں میں گریڈ 20 اور اوپر، تین لاکھ روپے سے زائد تنخواہ والے سرکاری افسروں کی دودن کی تنخواہ کی کٹوتی کا فیصلہ کیا گیا ۔

