وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سے بڑی اچھی گفتگو ہوئی، میں نے ان کو جس دن ان کا انتخاب ہوا تھا اسی دن فون کرکے کہا تھا کہ وفاق آپ کے ساتھ پوری طرح تعاون کرے گا چاہے آپ کا تعلق کسی بھی جماعت ہو وہ بعد کی بات ہے اور پہلے پاکستان ہے ۔
اسلام آباد : وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ میں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے کہا کہ آپ پاکستان کے ایک انتہائی اہم، خوب صورت اور ایک ایسے صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں جہاں لوگ بڑے عظیم پاکستانی ہیں، دلیر اور بہادر لوگ ہیں اور انہوں نے پاکستان کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی حوالے سے 2010 کے این ایف سی ایوارڈ ایک فیصد رکھا تاکہ دہشت گردی کے معاملات آپ سمیٹ سکیں، فرانزک لیب، سی ٹی ڈی، سیف سٹی، پولیس کی تربیت ہے اور ان کو بتایا کہ ان برسوں میں این ایف سی کے تحت آپ کو 800 ارب روپے دیے ہیں ۔
شہباز شریف نے کہا کہ وہاں اس حوالے سے جو کچھ ہوا وہ آپ کے سامنے ہے، ابھی تک وہاں سیف سٹی نہیں بن سکا تو انہوں نے کہا کہ اب مکمل ہوا چاہتا ہے تو میں نے کہا چلو دیرآید درست آید ۔
ورلڈ کپ میں بہارت کیخلاف میچ سے بائیکاٹ سے متعلق انہوں نے کہا کہ ٹی 20 ورلڈ کپ کے حوالے سے ہم نے واضح سٹینڈ لیا، بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا ۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں ہم بھارت کیخلاف میچ نہیں کھیلیں گے، بنگلہ دیش سے مکمل اظہار یکجہتی کررہے ہیں، کھیل میں سیاست نہیں ہونی چاہئے ۔
وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ قازقستان کے صدر تشریف لائے، ان سے ہماری صبح سے بڑی اچھی ملاقاتیں ہوئی ہیں اور بڑی گرم جوشی سے انہوں نے ہر فورم پر اپنا مؤقف بیان کیا ہے، پاکستان کے ساتھ بھرپور دوستی اور عزم کا اظہار کیا ۔
ان کا کہنا تھا کہ آج ہم نے ایک ارب ڈالر تجارت کا ہدف حاصل کرنے کا فیصلہ کیا، مجھے انہوں نے تیسری مرتبہ اسی سال قازقستان دورے کی دعوت دی ہے، اس کے نتیجے میں ہم نے ایک ورکنگ گروپ بنا دیا ہے ۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایران میں جو کشیدگی چل رہی تھی، اس حوالے سے پاکستان نے پورا برادرانہ کردار ادا کیا، میں نے خود، نائب وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے مختلف اوقات میں ایرانی قیادت سے بالمشافہ ملاقات ہوئی، ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی اور مختلف جگہوں پر ان سے بات چیت کی اور بھائی کے طور پر جتنا کردار ادا کیا جاسکتا ہے کیا ۔
انہوں نے کہا کہ اس میں قطر، ترکیہ، مصر، عمان اور سعودی عرب سمیت مسلمان ممالک شامل ہیں اور پوری کوشش ہے کہ بات چیت کے ذریعے ایک ایسا راستہ نکل آئے تاکہ خطے میں جو خطرات منڈھلا رہے ہیں وہ ختم ہوجائیں اور خطے میں دیرپاامن قائم ہوجائے ۔

