پاکستان سپر لیگ کی معروف ٹیم پشاور زلمی کے کپتان بابر اعظم نے کہا ہے کہ پاکستان میں کرکٹ ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، تاہم اس ٹیلنٹ کی درست شناخت اور بہتر رہنمائی نہایت ضروری ہے، حیدر آباد کو ایونٹ کےابتدا میں مشکلات کا سامنا رہا لیکن بعد میں اس نے اچھی کرکٹ کھیلی اور ہر کھلاڑی نے اپنا کردار ادا کیا ۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پشاور زلمی کے کپتان اور قومی ٹیم کے مایہ ناز بیٹر بابر اعظم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمجھنا اہم ہے کہ کون سا کھلاڑی کس فارمیٹ کے لیے موزوں ہے تاکہ کسی بھی پلیئر کو غلط فارمیٹ میں نہ کھلایا جائے ۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی کے کھلاڑی کو ٹیسٹ کرکٹ میں کھلانا ٹیم کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے، اس لیے ٹیلنٹ کو نکھارنے کے ساتھ ساتھ اسے درست مواقع دینا بھی ضروری ہے ۔
بابر اعظم نے کہا کہ وہ اپنی اور عوام کی توقعات کے مطابق پرفارم نہیں کر پا رہے تھے، تاہم ان کی توجہ ہمیشہ اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر رہتی ہے، میں تنقید کا جواب دینے کے بجائے میدان میں کارکردگی سے جواب دینا پسند کرتے ہیں، کیونکہ اچھا کھیلنے پر بھی تنقید ہوتی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہر کپتان کی طرح ان کی بھی خواہش ہے کہ وہ اپنی ٹیم کے لیے ٹرافی جیتیں، سری لنکن آل راؤنڈر کوسال مینڈس ایک تجربہ کار کھلاڑی ہیں اور ان کی موجودگی ٹیم کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے ۔

