Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, جون 11, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثہ: شہداء کی نمازِ جنازہ ادا، جسدِ خاکی آبائی علاقوں کو روانہ
    • فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں سے اہلخانہ کا اظہارِ لاتعلقی
    • پانی کو سیاسی دباؤ یا ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں،دفترِ خارجہ
    • شفافیت اور مؤثر حکمرانی کی جانب اہم پیش رفت، پاور سیکٹر میں جدید ڈیٹا گورننس کونسل کا قیام
    • فتنہ الخوارج اور افغانستان کے درمیان روابط، مہمند میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی
    • وزیراعظم شہبازشریف کے حکم پر خیبرپختونخوا کو گندم کی فراہمی کی ہدایت
    • عیدالاضحیٰ کے بعد بھی افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل دوبارہ شروع نہ ہو سکا
    • شکیلہ ناز کامیاب سرجری کے بعد گھر منتقل، صحت یابی کا عمل جاری
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » آن لائن جوئے کی وبا اور ہماری نئی نسل کی بقا کی جنگ
    بلاگ

    آن لائن جوئے کی وبا اور ہماری نئی نسل کی بقا کی جنگ

    مئی 2, 2026Updated:مئی 3, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    The online gambling epidemic and the battle for survival of our new generation
    یہ صرف حکومت کا کام نہیں، بلکہ ہر والد، ہر استاد، ہر عالم دین، اور ہر باشعور شہری کا فرض ہے کہ وہ اپنے اردگرد پھیلتی اس وبا کے خلاف صف آرا ہو ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    رحیم شامزئی کی خصوصی تحریر: ۔

    علامہ اقبال نے اسی قوم کے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا:

    ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
    ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں

    مگر آج خیبر پختونخوا کی زمین پر المیہ یہ ہے کہ ہماری نئی نسل کے وہ ہاتھ جنہیں ستاروں پر کمند ڈالنی چاہیے تھی، ایک ایسی دلدل میں پھنس چکے ہیں جہاں سے نکلنے کی راہیں دم بہ دم دھندلا رہی ہیں۔ یہ دلدل ہے ”آن لائن جوئے“ کی، جو اب صرف ایک فرد کی عادت نہیں بلکہ ایک مکمل معاشرتی وبا کی صورت اختیار کر چکی ہے ۔

    حقائق کا تلخ گھونٹ: جب 20 لاکھ کا قرض 17 سال کی پیشانی پر شکن بن جائے !
    گزشتہ چند ہفتوں میں خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے کئی دل دہلا دینے والے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ متاثرین کی اکثریت 18 سال سے کم عمر کے نوجوانوں اور بچوں پر مشتمل ہے، پشاور کے مضافاتی علاقے کا ایک 16 سالہ طالبعلم آن لائن بیٹنگ ایپس کا شکار ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے 20 لاکھ روپے سے زائد کا مقروض ہو گیا، قرض اتارنے کے چکر میں اس نے پہلے گھر سے زیورات نکالے، پھر دوستوں اور رشتہ داروں سے ادھار لیا، اور جب تمام دروازے بند ہو گئے تو ذہنی پریشانی اور اضطراب کے عالم میں اس نے اپنی زندگی کا چراغ گل کر لیا ۔

    یہ کوئی منفرد کہانی نہیں ہے، مردان میں ایک اور نوجوان جس کی عمر 17 سال بھی پوری نہیں ہوئی تھی، آن لائن جوئے کے جنون میں اپنے خاندان کی جمع پونجی لٹا بیٹھا اور جب 20 لاکھ کے قرض کا بوجھ برداشت سے باہر ہوا تو اس نے خود کشی کی کوشش کی، افسوس کہ یہ المیے روزمرہ کی خبریں بنتے جا رہے ہیں، اور تو اور، کئی نوعمر بچے قرض کی ادائیگی سے قاصر ہو کر ایسی راہوں پر قدم رکھ دیتے ہیں جہاں اپنی اور اپنے خاندان کی عزت کو خاک میں ملانے سے بھی دریغ نہیں کرتے، کیونکہ قرض خواہوں کے مسلسل دباؤ کے سامنے عزت و ناموس کا تصور بھی پسپا ہو جاتا ہے ۔

    معاشی پس منظر: آسان کمائی کا سراب اور مہنگائی کا عفریت !
    موجودہ دور میں جب مہنگائی نے عام خاندانوں کے چولہے ٹھنڈے کر رکھے ہیں، نوجوانوں کے ذہنوں میں ”بآسانی پیسہ کمانے“ کا تصور کسی جادو سے کم نہیں لگتا، یہی وہ نفسیاتی خلا ہے جس کا فائدہ آن لائن جوئے کے پلیٹ فارمز اٹھاتے ہیں، وہ صرف چند کلکس میں لاکھوں روپے جیتنے کے خواب دکھاتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ ہمارے نوجوانوں کی جیب ہی نہیں، ان کی ذہنی صحت، تعلیم، خاندانی سکون اور خود اعتمادی سب کچھ نگل جاتے ہیں ۔

    یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ ان پلیٹ فارمز کو چلانے والے مافیاز اور ان کے اعلیٰ قائدین سرکاری و قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں نہیں آ رہے، یہ عناصر جدید ٹیکنالوجی کی آڑ میں اپنے روابط کا جال بچھائے ہوئے ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خاموشی اس سوالیہ نشان کو مزید گہرا کر رہی ہے کہ کیا ہم واقعی اپنی نئی نسل کو بچانے کے لیے سنجیدہ ہیں؟

    حل کی راہیں: اجتماعی جدوجہد کے پانچ ستون !
    ہمیں اس تباہی کے روک تھام کے لیے پانچ محاذوں پر بیک وقت کام کرنا ہو گا:

    1. قانونی گرفت مضبوط کی جائے: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ اور صوبائی پولیس کو خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دے کر ان آن لائن جوئے کے نیٹ ورکس کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کرنا ہو گا، ان پلیٹ فارمز کے اکاؤنٹس منجمد کرنے، بانیوں کی گرفتاری اور دنیا بھر میں انٹرپول کے ذریعے کارروائی کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔

    2. دینی و اخلاقی بیداری مہم: علمائے کرام، مساجد کے خطباء اور دینی مدارس کی انتظامیہ پر یہ شرعی اور اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محض نماز و روزہ اور حج کی ترغیب تک محدود نہ رہیں بلکہ اس عوامی المیے پر قرآن و حدیث کی روشنی میں مسلسل بحث و مباحثہ کریں، ہر جمعہ کے خطبے میں جوئے کی حرمت، اس کی انفرادی و اجتماعی تباہ کاریوں، اور حلال روزگار کی اہمیت پر مدلل گفتگو وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔

    3. تعلیمی اداروں کا کردار: سکولوں اور کالجوں میں ”ڈیجیٹل لٹریسی اور فنانشل لٹریسی“ کے لازمی کورسز متعارف کروائے جائیں، طالب علموں کو بتایا جائے کہ یہ ایپس کس طرح ان کی نفسیات کا استحصال کرتی ہیں اور محنت کے بغیر کمانا ریاضیاتی طور پر بھی دھوکہ ہے، اساتذہ بھی بچوں کے رویے میں تبدیلیوں کو مانیٹر کریں ۔

    4. والدین کی نگرانی اور کھلا مکالمہ: والدین کو چاہیے کہ بچوں کو موبائل فون تھمانے سے پہلے اس کے استعمال کے اصول و ضوابط طے کریں، بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں، لیکن اس طرح کہ وہ اعتماد کے رشتے سے محروم نہ ہوں، ان سے کھل کر بات کریں کہ قرض کی صورت میں سب سے پہلے اپنے والدین کو بتانا عزت کو بچانے کا پہلا قدم ہے، خود کشی یا بدنامی اس کا حل نہیں ۔

    5. نفسیاتی معاونت کے مراکز: صوبے بھر میں مفت ہیلپ لائنز اور کونسلنگ سینٹرز قائم کیے جائیں جہاں یہ نوجوان بغیر کسی خوف کے اپنی ذہنی پریشانی اور مالی مسائل کا حل پوچھ سکیں، خود کشی کی روک تھام کے لیے سکولوں میں ”لائف سکلز“ کی تربیت بھی ضروری ہے ۔

    اختتامی کلمات: ایک اجتماعی عہد: ۔
    اقبال نے یہ بھی فرمایا تھا:

    خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
    خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

    ہمیں اپنی نئی نسل کی ”خودی“ کو اس طرح بلند کرنا ہے کہ وہ آن لائن جوئے کی جھوٹی چمک دمک کو پہچان سکے، یہ صرف حکومت کا کام نہیں، بلکہ ہر والد، ہر استاد، ہر عالم دین اور ہر باشعور شہری کا فرض ہے کہ وہ اپنے اردگرد پھیلتی اس وبا کے خلاف صف آرا ہو، اللہ رب العزت ہمارے خطے کو پاک دامن اور پاک صاف رکھے اور اس ناپاک کاروبار میں ملوث تمام عناصر کو نیست و نابود کر دے، اور ہمارے نوجوانوں کو حلال روزگار، بلند حوصلہ اور عزت نفس کی راہ پر گامزن کرے ۔ آمین

    نوٹ: یہ بلاگ عوامی شعور بیدار کرنے کی ایک کوشش ہے، قارئین سے گزارش ہے کہ اسے دوسروں تک پہنچائیں، خاص طور پر اپنے بچوں کے ساتھ اس پر کھل کر گفتگو کریں، کیونکہ خاموشی اس وبا کی سب سے بڑی طاقت ہے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپاکستان میں ٹیلنٹ کی درست شناخت اور بہتر رہنمائی نہایت ضروری ہے، کپتان پشاور زلمی بابراعظم
    Next Article وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیر صدارت لویہ جرگہ،امن کی بحالی کیلئے وفاق سے مذاکرات کا فیصلہ
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026

    ہم نے ایک آفتاب کھو دیا!

    مئی 6, 2026

    آٹے کے صندوق میں بند دو کلیاں

    مئی 5, 2026

    Comments are closed.

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثہ: شہداء کی نمازِ جنازہ ادا، جسدِ خاکی آبائی علاقوں کو روانہ

    جون 11, 2026

    فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں سے اہلخانہ کا اظہارِ لاتعلقی

    جون 11, 2026

    پانی کو سیاسی دباؤ یا ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں،دفترِ خارجہ

    جون 11, 2026

    شفافیت اور مؤثر حکمرانی کی جانب اہم پیش رفت، پاور سیکٹر میں جدید ڈیٹا گورننس کونسل کا قیام

    جون 11, 2026

    فتنہ الخوارج اور افغانستان کے درمیان روابط، مہمند میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی

    جون 11, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.