پی ٹی آئی نے 8 فروری کے انتخابات کے تناظر میں ملک گیر احتجاج کی کال دیتے ہوئے ہر چوک کو ‘ڈی چوک’ بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے، پی ٹی آئی اپنی تاریخ میں بڑے اور رنگا رنگ جلسوں اور اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے حوالے سے پہچانی جاتی ہے، لیکن موجودہ احتجاجی لہر میں جماعت کو ایک بالکل مختلف تجربے، یعنی ‘شٹر ڈاؤن’ اور مسلسل عوامی دباؤ برقرار رکھنے کی کوششوں کا سامنا ہے ۔
احتجاجی پوزیشن میں کمزوری کے عوامل۔۔۔۔
واضح ایجنڈے کا فقدان
اندرونی گروپ بندیاں
کارکنوں کی تھکاوٹ
انتقامی کارروائیوں کا خوف
مقبولیت بمقابلہ حکمت عملی……
یہ ایک حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی آج بھی ملک کی مقبول ترین جماعت ہے لیکن احتجاج کی موجودہ کمزوری کو مخالفین کی جیت نہیں کہا جا سکتا، یہ درحقیقت پی ٹی آئی کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرے ۔
سب سے اہم چیلنج یہ ہے کہ بیرون ملک بیٹھی قیادت اور یوٹیوبرز زمینی حقائق اور پاکستان میں موجود کارکنوں کی مشکلات سے مکمل طور پر آگاہ نہیں ۔
صرف سوشل میڈیا بیانیے سے عمران خان کی رہائی ممکن نہیں، اس کے لیے شاید عملی اور "زمینی سیاست” کی ضرورت ہے ۔

