بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کی مہم میں تحریک انصاف نے صوبے کے مسائل کو بھی پس پشت ڈال دیا ہے، سوال مگر یہ ہے کہ کیا خیبر پختونخوا جیسے حساس اور چیلنجز سے بھرے صوبے میں ایک فرد کی رہائی کو عوامی مسائل پر فوقیت دینا دانشمندانہ حکمتِ عملی ہے؟ اور کیا پاکستان تحریک انصاف نے اپنی سیاسی توانائی کا رخ درست سمت میں رکھا ہے؟باوجود اس کے کہ صوبے کے عوام کو آج جن مسائل کا سامنا ہے وہ ماضی میں کبھی نہیں تھے ۔
خیبر پختونخوا کو درپیش مسائل کسی سے پوشیدہ نہیں۔ امن و امان کی صورتحال سب کے سامنے ہے، دہشت گردی کے واقعات، معاشی دباؤ، ترقیاتی منصوبوں کی سست روی، صحت و تعلیم کے شعبوں میں خلا ،بے روزگاری، مہنگائی ( جو دوسرے صوبوں سے کہیں زیادہ ہے، سخت ترین سرد موسم میں بھی بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ کا عذاب، یہ سب ایسے چیلنجز ہیں جو فوری اور مسلسل توجہ چاہتے ہیں، صوبائی حکومت کا اولین فریضہ یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے جان و مال اور معاش کو تحفظ فراہم کرے ۔
مگر عملی منظرنامے میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت کی ترجیحات کا محور ایک ہی مطالبہ بن چکا ہے: عمران خان کی رہائی۔ پارٹی کے بانی ہونے کے ناطے تحریک انصاف کے قائدین اس میں حق بجانب ہیں کہ وہ اپنے پارٹی سربراہ کی رہائی کیلئے جدوجہد کریں لیکن جدوجہد ایسی ہو کہ جس سے ملک کے مسائل میں اضافہ ہو اور اداروں کو آڑے ہاتھوں لیا جائے ، یہ کسی طور بھی مناسب نہیں ۔
پی ٹی آئی کی سیاست طویل عرصے سے ایک شخصیت کے گرد گھومتی رہی ہے، مگر جب حکمرانی شخصیت کے گرد محدود ہو جائے تو پالیسی سازی پس منظر میں چلی جاتی ہے، یہی تاثر آج خیبر پختونخوا میں موجود ہے ، صوبے کے لوگ بھی امن چاہتے ہیں، خوشحالی ان کو بھی ملنی چاہیے، بنیادی ضروریات ان کو فراہم کرنا بھی ضروری ہے ۔
سوال یہ نہیں کہ عمران خان کی رہائی کا مطالبہ جائز ہے یا نہیں ، یہ عدالتوں کا دائرہ اختیار ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک صوبائی حکومت کو اپنی انتظامی اور سیاسی توانائی کا بڑا حصہ اسی ایک مقصد پر صرف کرنا چاہیے؟ جب کہ صوبہ متعدد بحرانوں سے گزر رہا ہو؟اور صوبائی حکومت کو اپنے قائد کی رہائی کے علاوہ دوسرا کوئی مسئلہ نظر ہی نہ آ رہا ہو ۔
صوبے کے عوام کو روزگار، امن، بنیادی ڈھانچے اور سماجی سہولیات درکار ہیں۔ اگر عوام کو یہ محسوس ہو کہ ان کے مسائل ثانوی حیثیت اختیار کر چکے ہیں اور حکومت کی توجہ قومی سطح کی سیاسی مہم پر مرکوز ہے، تو یہ گورننس کی ناکامی سمجھی جائے گی اور اب تک تحریک انصاف اس میں ناکام ہی نظر آ رہی ہے ۔
ایک بالغ سیاسی جماعت وہ ہوتی ہے جو بیک وقت دو محاذ سنبھال سکے، قانونی اور سیاسی جدوجہد اور انتظامی کارکردگی اور عوامی خدمت،اگر دوسرا پہلو کمزور ہو جائے تو پہلا نعرہ بھی اپنی معنویت کھو دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایک شخص پر اتنی توجہ دی گئی کہ صوبے میں آج بھی بلدیاتی نمائندے سراپا احتجاج ہیں ۔
سیاسی سرمایہ نعروں سے نہیں بلکہ نتائج سے بنتا ہے، اگر خیبر پختونخوا میں امن بہتر ہو، معیشت مستحکم ہو اور عوام کو ریلیف ملے، تو عمران خان کی رہائی کی مہم کو بھی زیادہ اخلاقی قوت حاصل ہوگی، مگر اگر صوبے کی کارکردگی کمزور ہو اور تمام توجہ ایک فرد کی قسمت پر مرکوز رہے، تو ناقدین کے لیے یہ کہنا آسان ہو جاتا ہے کہ پارٹی نے صوبے کو سیاسی مہم کا اکھاڑا بنا دیا ہے ۔
حکمرانی کی اصل کسوٹی عوامی فلاح ہے۔ خیبر پختونخوا جیسے حساس صوبے میں قیادت کا امتحان اس بات سے ہوگا کہ وہ شخصیات سے بالاتر ہو کر اداروں کو مضبوط کرے، امن قائم کرے اور معاشی استحکام لائے، اگر پی ٹی آئی واقعی عوامی جماعت ہونے کا دعویٰ کرتی ہے تو اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ایک فرد کی رہائی سے زیادہ اہم عوام کی بھلائی ہے ، ورنہ یہ تاثر مضبوط ہوتا جائے گا کہ صوبہ ایک سیاسی بیانیے کی نذر ہو چکا ہے، اور اصل مسائل انتظار میں کھڑے ہیں ۔

