راولاکوٹ: کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں نے راولاکوٹ اور گردونواح کے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی۔
ترجمان انتظامیہ پونچھ ڈویژن، راولاکوٹ کے مطابق کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح افراد نے راولاکوٹ اور گردونواح کے بازاروں کی تمام سڑکوں پر ناکے لگا کرغذائی قلت پیدا کر رکھی ہے۔
انتشاری کمیٹی نے تمام سڑکوں پر درخت کاٹ کر اور پتھر پھینک کر سڑکیں بند کر رکھی ہیں۔
ڈرائیور اشیاء خورونوش لانے سے ڈرتے ہیں کیونکہ انتشاری کمیٹی کے شرپسند ان کے ساتھ تحقیر آمیز سلوک کرتے ہیں۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آج قانون نافذ کرنے والے اداروں نے باغ راولاکوٹ روٹ کھلوانے کیلئے سڑکوں سے درخت اور ملبہ ہٹانے کا آغاز کیا۔
کوئیڑہ پوٹھی ملوالاں کے مقام پرمسلح شرپسندوں نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر فائرنگ کی۔
مسلح جتھوں نے سڑکوں کے اطراف میں پوزیشنز سنبھال رکھی تھیں، ہزاروں بلٹ فائر کیں اور جدید اسلحہ کا استعمال کیا ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شرپسندوں نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملے کیساتھ ساتھ مساجد میں جا کر لوگوں کو اشتعال دلانے کیلئے اعلانات بھی کیے۔
انتشاری کمیٹی کے مسلح جتھوں نے ایک ماہ سے راستہ روک کر پورے گاؤں کو یرغمال بنا رکھا تھا۔
انتشاری کمیٹی کے مسلح جتھوں نے مسجدوں اور ہائی سکول کی عمارتوں کو بھی ایک ماہ سے قبضے میں لے رکھا تھا۔
یہ مسلح جتھے پانچ اہم سڑکوں پر بیٹھے تھے جن کی وجہ سے عام آدمی کے لئے خوراک بھی نہیں پہنچ پا رہی ہے۔
راولاکوٹ کی انتظامیہ نے بتایا کہ باغ راولاکوٹ روٹ شدید مزاحمت کے بعد کلیئر کروا دیا گیا ہے۔
تاجر انٹرا ٹرانسپورٹرز کوہالہ کے راستے اشیاء خورونوش لا سکتے ہیں، دیگر روٹس بھی کلیئر کروائے جائیں گے۔
انتظامیہ نے مزید کہا کہ گزشتہ 3 سال سے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے موسم گرما میں لانگ مارچ ترتیب دیے جس سے اس خطے کا ٹورزم ختم ہو گیا۔
سرکاری مشینری جلائی جاتی رہی، اہلکاروں پر تشدد، حملے کرنا اور لاشوں کی بے حرمتی جیسے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان مسلح جتھوں کو مظفر آباد جانے سے روکا تو یہ سڑکیں بند کر کے غذائی قلت پیدا کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کالعدم ایکشن کمیٹی کی شرپسندی کے خلاف مصروف کار ہیں۔

