ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان کی اسلام آباد آمد:
اسلام آباد: ابو ظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان وفد کے ہمراہ نورخان ایئربیس پہنچے، اماراتی وفد میں وزرا، کاروباری شخصیات اور اعلیٰ حکام شریک تھے ۔
صدر مملکت آصف علی زرداری ، وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر حکومتی وزرا اور اعلیٰ حکام نے معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا، بچوں نے انہیں گلدستے پیش کیے جب کہ دارالحکومت میں بارش کے پیش نظر شہباز شریف معزز مہمان کو بارش سے محفوظ رکھنے کے لیے خود چھتری تھام کر چلتے رہے ۔
معزز مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا:
شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان کو وزیراعظم ہاؤس پہنچنے پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، ولی عہد نے شہبازشریف کے ہمراہ گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا ۔
اس موقع پر دونوں ممالک کے قومی ترانے بھی بجائے گئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی کابینہ کے ارکان کا شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان سے تعارف کرایا جب کہ ابوظبی کے ولی عہد نے اپنے وفد کے ارکان کو وزیراعظم سے متعارف کرایا ۔
پاکستان اور ابوظہبی کے دمریان کئی ایم او یوز اور معاہدوں پر دستخط ہوئے :
ابوظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان کے پاکستان کے پہلے سرکاری دورے کے موقع پر پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لئے 5 معاہدوں پر دستخط کیے ۔
پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان قریبی سفارتی، اقتصادی اور ثقافتی تعلقات ہیں جب کہ یو اے ای مشرق وسطیٰ میں پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک اور ترسیلات زر کا ایک بڑا ذریعہ ہے، جہاں بڑی تعداد میں پاکستانی رہائش پذیر ہیں اور وہاں کام کرتے ہیں ۔
ابوظہبی کے ولی عہد کی وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات :
پاکستان اور ابوظبی کے درمیان بینکنگ، کان کنی، ریلویز اور انفرااسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون بڑھانے سے متعلق ایم او یوز اور معاہدوں پر دستخط ہوگئے ۔
وزیراعظم سے ابوظبی کے ولی عہد اور ابوظبی ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین شیخ خالد بن محمد بن زید النہیان نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی ۔
وزیراعظم نے ولی عہد کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ دو طرفہ ملاقات کے بعد وفود کی سطح پر بھی بات چیت ہوئی۔
اس ماہ کے شروع میں ولی عہد کے ساتھ اپنی انتہائی نتیجہ خیز ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ دونوں ممالک اپنے بہترین سیاسی تعلقات کو باہمی طور پر فائدہ مند اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں ۔
وزیراعظم نے بتایا کہ میرے حالیہ دورۂ ازبکستان کے دوران ازبکستان- افغانستان- پاکستان ریلوے لائن منصوبے پر بات چیت ہوئی؛ ازبکستان نے بھی اس منصوبے میں بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا ہے، اس منصوبے کی بدولت گوادر اور ابوظہبی پورٹس کو فائدہ ہوگا اور یہ منصوبہ اس خطے کے لئے گیم چینجر ثابت ہوگا ۔
وزیراعظم نے ہر مشکل وقت میں ساتھ دینے پر متحدہ عرب امارات کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں پاکستان کے لیے متحدہ عرب امارات کی مسلسل اور مضبوط حمایت کو سراہا۔ پاکستان میں اپنے سرمایہ کاری کے پورٹ فولیو کو وسعت دینے کے حوالے سے متحدہ عرب امارات کی گہری دلچسپی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ مختلف پاکستانی اداروں اور ابوظہبی پورٹس کے درمیان حالیہ کامیاب سرمایہ کاری کے اقدامات اس مضبوط اور مسلسل بڑھتے ہوئے تعاون کی روشن مثال ہیں ۔
ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید، جو سینئر حکام اور کاروباری رہنماؤں پر مشتمل وفد کے ہمراہ ہیں، انہوں نے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے لیے متحدہ عرب امارات کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا ۔
دونوں رہنماؤں نے متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے درمیان متعدد مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کے تبادلوں کا مشاہدہ بھی کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان بینکنگ، کان کنی، ریلویز اور انفرااسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں ۔
صدر مملکت نے معزز مہمان کو نشان پاکستان سے نوازا :
صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایوان صدر میں ہونے والی تقریب کے دوران ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان کو نشان پاکستان سے نواز دیا ۔
ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان ایوان صدر پہنچے جہاں صدر مملکت آصف زرداری نے معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا ۔
تقریب کے دوران صدر مملکت آصف علی زرداری نے ابوظہبی کے ولی عہد خالد بن محمد بن زاید النہیان کو نشان پاکستان سے نواز ۔
ابوظبی کی ولی عہد کی پاکستان کے لیے خدمات کے اعتراف میں انہیں نشان پاکستان کا اعزاز دیا گیا ،شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان نے پاکستان کے ساتھ تجارتی، اقتصادی، سرمایہ کاری کے شعبے میں تعاون کے فروغ کے لیے کردار ادا کیا ۔