اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ کاروباری طبقہ کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار میں ملکی معیشت کو فروغ دینے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔
وزیراعظم نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد کے لیے قرضوں کی مجموعی مالیت 2028 تک 1.1 ٹریلین روپے سے بڑھا کر 2.2 ٹریلین روپے کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت سمیڈا کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں انہوں نے کہا کہ سمیڈا میں جاری اصلاحات کا محور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد کو بااختیار بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پسماندہ علاقوں کے عوام کو بااختیار بنانے سے ان علاقوں سے بڑے شہروں کی جانب نقل مکانی میں کمی آئے گی اور ملک کی مجموعی ترقی کو فروغ ملے گا۔
وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ سمیڈا زیادہ سے زیادہ افراد کو کاروبار کے لیے قرضوں کے حصول کے طریقہ کار سے آگاہ کرنے کے لیے جامع لائحہ عمل مرتب کرے۔
وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے قیام کے لیے فیزیبلٹی اسٹڈیز شعبہ جات کے ماہرین سے تیار کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مقامی زبانوں میں بھی دستیاب بنایا جائے تاکہ ملک بھر کے خواہش مند کاروباری افراد ان سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔
اجلاس میں وزیراعظم کو سمیڈا میں جاری اصلاحات اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ سمیڈا کو ایک مرکزی پلیٹ فارم میں تبدیل کیا جا رہا ہے، ایس ایم ای شعبے سے وابستہ افراد تک مؤثر رسائی یقینی بنانے کے لیے ملک بھر میں سمیڈا کے دفاتر بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔
شہریوں کی سہولت کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ہیلپ لائن قائم کی جا رہی ہے، جس کے ذریعے لوگوں کو مقامی زبانوں میں معلومات اور رہنمائی فراہم کی جائے گی۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ عالمی ای کامرس کمپنی علی بابا اور سمیڈا کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں۔
اس مفاہمت کے تحت دو سال کے عرصے میں دس ہزار چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو تربیت فراہم کی جائے گی۔

