Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, مئی 13, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • دو سال میں ریلوے منافع بخش ادارہ بن گیا، 8 ارب روپے سے زائد خسارہ ختم
    • پاکستان ڈیجیٹل سرمایہ کاری کے لیے پرکشش مقام بنتا جا رہا ہے: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار
    • خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک
    • بلوچستان کی بہادر بیٹیاں پاک فوج میں شمولیت اور قومی خدمت کے لیے پُرعزم
    • معرکۂ حق میں پاکستان کو ہر محاذ پر کامیابی حاصل ہوئی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ
    • آئی ایم ایف وفد کی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات، بجٹ اور معاشی اصلاحات پر تبادلۂ خیال
    • ڈھاکہ ٹیسٹ میں بنگلا دیش نے پاکستان کو 104 رنز سے شکست دیدی
    • سوات کے سیلاب متاثرین سڑکوں پر،8 ماہ بعد بھی امدادی رقم نہیں ملی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » سپریم کورٹ: سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم قرار دینے کا فیصلہ معطل
    اہم خبریں

    سپریم کورٹ: سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم قرار دینے کا فیصلہ معطل

    دسمبر 13, 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    سپریم کورٹ
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم قرار دینےکا فیصلہ معطل کردیا۔

    جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں سماعت کی گی جس میں  جسٹس امین الدین خان، جسٹس محمد علی مظہر،جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عرفان سعادت پر مشتمل 6 رکنی لارجر بینچ نے ‏فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کی جس سلسلے میں اٹارنی جنرل، سلمان اکرم راجہ اور اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔

    درخواستگزار سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے بینچ کے  سربراہ جسٹس سردارطارق پر اعتراض کر رکھا تھا جس پر جسٹس طارق نے بینچ سے الگ ہونے سے انکار کردیا۔سماعت کے آغاز پر جسٹس طارق نے فریقین کے وکلا سے سوال کیا کہ آپ کو نوٹس کیا ہے کسی نے؟ اس پر اعتزاز احسن نےکہا کہ نوٹس سے پہلے ججز پر اعتراض ہو تو اس پر دلائل ہوتے ہیں، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ فریقین کے وکلا کا اعتراض بے بنیاد ہے پہلے میرٹس پرکیس سنیں، نوٹس کے بعد اعتراض اٹھایا جاسکتا ہے۔

    جسٹس طارق نے وکلا سے سوال کیا کہ کس نے اعتراض کیا ہے؟ اس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اعتراض جواد ایس خواجہ نے کیا ہے، جسٹس طارق نے جواب دیا کہ جواد ایس خواجہ کا اپنا فیصلہ ہےکہ جج کی مرضی ہے وہ اعتراض پربینچ سے الگ ہویانہ ہو، میں نہیں ہوتا بینچ سے الگ،کیا کرلیں گے؟

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ بیٹھ کر ہمارے اعتراض کے باوجود کیس سن رہے ہیں، اس پر جسٹس طارق نے کہا کہ تو کیا کھڑے ہوکر کیس کی سماعت کریں؟

    اٹارنی جنرل دوران سماعت غصے میں آگئے اور کہا کہ جب نوٹس نہیں تو اعتراض کیسے سنا جاسکتا ہے؟ جنہوں نے اعتراض کیا وہ خود تو عدالت میں نہیں ہیں، بہتر ہے پہلے بینچ اپیلوں پرسماعت کا آغاز کرے۔

    جسٹس طارق نے کہا کہ فوجداری کیسز میں بھی کوئی فیصلہ دوسری جانب کونوٹس کیے بغیرمعطل نہیں ہوتا، ابھی فیصلہ معطل نہیں ہوا اورنوٹس کے بغیرنہیں ہوسکتا۔

    سلمان اکرم راجہ نے دلائل میں کہا کہ عدالت ٹرائل کالعدم قراردینے کا فیصلہ ہمیں سنے بغیر معطل نہیں کرسکتی۔

    جسٹس طارق نے کہا کہ دولائن میں ایک قانون کی پوری سیکشن کو کالعدم قراردیا گیا۔

    اس دوران وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ہرسویلین کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہیں ہورہا، صرف ان سویلینز کا ٹرائل فوجی عدالت میں ہوگا جو قومی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں، فوج کی تحویل میں 104 افراد 7 ماہ سے ہیں، ملزمان کیلئے مناسب ہوگا کہ ان کا ٹرائل مکمل ہوجائے۔

    عدالت نے پوچھا کہ کیا ٹرائل مکمل ہوگئے تھے؟ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کچھ ملزمان پر فرد جرم عائد ہوگئی تھی کچھ پرہونا تھی، بہت سے ملزمان شاید بری ہوجائیں، جنہیں سزا ہوئی وہ بھی 3 سال سے زیادہ نہیں ہوگی، اس پر عدالت نے سوال کیا کہ آپ کو کیسے معلوم ہے کہ سزا 3 سال سے کم ہوگی؟ اٹارنی جلر نے بتایا کہ کم سزا میں ملزمان کی حراست کا دورانیہ بھی سزا کا حصہ ہوگا۔

    بعد ازاں عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فوجی عدالتوں میں سویلینزکے ٹرائل معطل کرنے کے حکم پر امتناع دینے پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو کچھ دیر بعد سنایا۔

    عدالت نے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم قرار دینے کا 23 اکتوبر کا فیصلہ معطل کردیا جو عدالت نے پانچ ایک سے سنایا۔

    6 رکنی بینچ میں سے جسٹس مسرت ہلالی نے پانچ ججوں کےفیصلے سے اختلاف کیا۔

    عدالت نے کہا کہ انٹرا کورٹ اپیلوں پر فیصلے تک 102 گرفتار افرادکے ٹرائل کا حتمی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔

    Army Courts Supreme Court
    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Article‘بس بہت ہو گیا’: بلوچستان کے وزیراطلاعات نے افغانستان میں عسکریت پسندوں کے محفوظ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے امریکہ کو ‘ڈرون اڈے’ دینے کی تجویز دے دی
    Next Article افغان سرزمین ہمارے خلاف استعمال ہورہی ہے, افغانستان ڈی آئی خان حملے میں ملوث کرداروں کو ہمارے حوالے کرے، پاکستان
    Mahnoor

    Related Posts

    دو سال میں ریلوے منافع بخش ادارہ بن گیا، 8 ارب روپے سے زائد خسارہ ختم

    مئی 13, 2026

    پاکستان ڈیجیٹل سرمایہ کاری کے لیے پرکشش مقام بنتا جا رہا ہے: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار

    مئی 13, 2026

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    دو سال میں ریلوے منافع بخش ادارہ بن گیا، 8 ارب روپے سے زائد خسارہ ختم

    مئی 13, 2026

    پاکستان ڈیجیٹل سرمایہ کاری کے لیے پرکشش مقام بنتا جا رہا ہے: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار

    مئی 13, 2026

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026

    بلوچستان کی بہادر بیٹیاں پاک فوج میں شمولیت اور قومی خدمت کے لیے پُرعزم

    مئی 13, 2026

    معرکۂ حق میں پاکستان کو ہر محاذ پر کامیابی حاصل ہوئی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ

    مئی 13, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.