Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, جنوری 7, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کیلیے وزیراعظم نے گرین سگنل دیدیا
    • سٹاک مارکیٹ میں نیا رکارڈ، انڈیکس 1 لاکھ 86 ہزار پوائنٹس کی حد عبور کر گیا
    • پی ٹی آئی دور میں پختونخوا کو تباہ کیا گیا، اب بھی طالبان کو بھتہ دینے والے لوگ حکومت میں ہیں، وزیر دفاع
    • بنوں کے علاقے میتاخیل میں خونی تصادم، فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق، 6 زخمی
    • ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج 98 شہروں تک پھیل گیا، ہلاکتیں 36 ہو گئیں
    • مردان کاٹلنگ روڈ گلبہار کے مقام پر خوفناک ٹریفک حادثہ، ڈرائیور سمیت متعدد افراد زخمی
    • چکوال: اسلام آباد سے کراچی جانے والی مسافر بس گہری کھائی میں گرگئی، 5 افراد جاں بحق، 27 زخمی
    • امریکا کی وینزویلا کے قریب روسی تیل بردار جہاز پر قبضے کی کوشش
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » خیبر پختونخوا: 2024 میں دہشت گردی کے 670 واقعات رپورٹ، 212 شدت پسند مارے گئے
    اہم خبریں

    خیبر پختونخوا: 2024 میں دہشت گردی کے 670 واقعات رپورٹ، 212 شدت پسند مارے گئے

    دسمبر 28, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Khyber Pakhtunkhwa Reports 670 Terrorism Incidents in 2024, 212 Militants Killed
    سی ٹی ڈی رپورٹ: خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے 670 واقعات، 204 اہلکار شہید
    Share
    Facebook Twitter Email

    کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں 2024 کے دوران دہشت گردی کے 670 واقعات پیش آئے۔ ان واقعات میں سب سے زیادہ دہشت گردی کے واقعات ڈیرہ اسماعیل خان (ڈی آئی خان) میں سامنے آئے، جہاں 121 واقعات رپورٹ ہوئے۔ اس کے بعد بنوں میں 116 اور خیبر میں 80 دہشت گردانہ حملے ہوئے۔

    سی ٹی ڈی کی رپورٹ کے مطابق، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں 212 شدت پسند مارے گئے۔ ان میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ڈی آئی خان میں ہوئیں جہاں 80 شدت پسند ہلاک ہوئے۔ بنوں میں 41 اور خیبر میں 23 شدت پسند بھی مارے گئے۔ شمالی وزیرستان میں 19 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق مختلف دہشت گردانہ حملوں اور کارروائیوں کے دوران 204 قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شہید اور 383 زخمی ہوئے۔ اسی دوران 174 عام شہری بھی دہشت گردی کے حملوں میں شہید ہوئے جبکہ 275 شہری زخمی ہو گئے۔ ان حملوں میں 149 پولیس اہلکار شہید ہوئے اور 232 زخمی ہوئے۔

    یہ رپورٹ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اس میں ہونے والی انسانی قربانیوں کو واضح کرتی ہے، جس سے خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کی صورتحال کی سنگینی کا پتہ چلتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleسعودی وزارت اسلامی امور اور پاکستانی وزارت مذہبی امور کے درمیان مفاہمت کا معاہدہ
    Next Article جب تک 9 مئی کے ماسٹر مائنڈ کو سزا نہیں دی جاتی، حقیقی انصاف نہیں مل سکتا،وزیر دفاع خواجہ آصف
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کیلیے وزیراعظم نے گرین سگنل دیدیا

    جنوری 7, 2026

    سٹاک مارکیٹ میں نیا رکارڈ، انڈیکس 1 لاکھ 86 ہزار پوائنٹس کی حد عبور کر گیا

    جنوری 7, 2026

    پی ٹی آئی دور میں پختونخوا کو تباہ کیا گیا، اب بھی طالبان کو بھتہ دینے والے لوگ حکومت میں ہیں، وزیر دفاع

    جنوری 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    Khyber News YouTube Channel
    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کیلیے وزیراعظم نے گرین سگنل دیدیا

    جنوری 7, 2026

    سٹاک مارکیٹ میں نیا رکارڈ، انڈیکس 1 لاکھ 86 ہزار پوائنٹس کی حد عبور کر گیا

    جنوری 7, 2026

    پی ٹی آئی دور میں پختونخوا کو تباہ کیا گیا، اب بھی طالبان کو بھتہ دینے والے لوگ حکومت میں ہیں، وزیر دفاع

    جنوری 7, 2026

    بنوں کے علاقے میتاخیل میں خونی تصادم، فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق، 6 زخمی

    جنوری 7, 2026

    ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج 98 شہروں تک پھیل گیا، ہلاکتیں 36 ہو گئیں

    جنوری 7, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.