وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی میں مشرقی ہمسائے ملک کا ہاتھ ہے جو دہشت گردوں کو پیسہ اور اسلحہ فراہم کررہا ہے، دہشت گرد افغانستان سرزمین پر پناہ لیے ہوئے ہیں ۔
وزیراعظم شہبازشریف بلوچستان کے ایک روزہ دورہ پر کوئٹہ پہنچے جہاں اعلیٰ حکام نے وزیراعظم کا استقبال کیا، کوئٹہ میں وزیراعظم کے زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان کی صوبائی ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس بھی ہوا ۔
اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان، وفاقی وزراء احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے بھی شرکت کی ۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزراعظم شہبازشریف کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں گزشتہ چار دن میں سنگین واقعات پیش آئے، ان کارروائیوں شہری اور سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 42 افراد شہید ہوئے جب کہ 54 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، بلوچستان میں حملوں میں مشرقی ہمسائے ملک کا ہاتھ ہے جو بھرپور طریقے سے پیسہ اور وسائل خرچ کررہا ہے اور دہشت گردوں کو اسلحہ فراہم کررہا ہے، دہشت گرد افغانستان سرزمین پر پناہ لیے ہوئے ہیں اور بھی کچھ خارجی ہاتھ ہیں جن کے بارے میں یہاں کچھ کہنا نہیں چاہتا ۔
وزیراعظم نے کہ دہشت گردی کے خلاف سیاسی اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہے، دہشت گردوں کا خاتمہ کرنا اولین ترجیح ہے ، ہم مل کر دن رات اس فتنے کا خاتمہ کریں گے اور پیچھے نہیں ہٹیں گے، تمام وسائل استعمال کریں گے، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی ۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سفارتی کامیابیان دشمن کو ہضم نہیں ہورہیں، پاکستان جلد ترقی و خوشحالی کا گہوارہ بن جائے گا، شہدا کی قربانیاں رنگ لائیں گی ۔

