Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, ستمبر 23, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پنجاب یونیورسٹی میں چار روزہ جینوم ایڈیٹنگ کروپ بائیوٹیکنالوجی تربیتی پروگرام کا افتتاح
    • بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک
    • کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی
    • پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ
    • آسان ٹیکس سکیم: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو ٹیکس ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، بلال اظہر کیانی
    • وزیراعظم کے کفایت شعاری اقدامات: وزارتِ ریلوے میں اہم فیصلے
    • بلوچستان میں سماعت سے محروم بچوں کے لیے پہلا ڈیف چلڈرن ایکسی لینس اینڈ ریسرچ سینٹر قائم
    • پشاور میں قبر کھود کر بچوں کی لاشوں کی بے حرمتی کرنے والا درندہ صفت افغانی گرفتار
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں حکومت نے بینکوں سے قرض لینے کے بجائے قرضہ واپس کردیا
    اہم خبریں دسمبر 26, 2024

    رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں حکومت نے بینکوں سے قرض لینے کے بجائے قرضہ واپس کردیا

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    حکومت کے رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں بجٹ سپورٹ کے لیے بینکوں سے قرضے منفی رہے، جو قومی خزانے میں زیادہ لیکویڈیٹی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کے یکم جولائی سے 13 دسمبر2024 تک، کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 2 ہزار 875 ارب روپے کے خالص قرضے لینے کے مقابلے میں 2 ہزار 3 ارب روپے کے خالص قرضے واپس کیے گئے۔ یاد رہے کہ  یہ تاریخی بات ہے، کیوں کہ ماضی میں حکومتیں بجٹ سپورٹ کے لیے بھاری قرضے لیتی رہی ہیں۔

    یہ قرض واپسی (ریٹائرمنٹ) اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) رواں مالی سال کے ابتدائی 5 ماہ کے دوران وصولی کا متوقع ہدف حاصل نہیں کرسکا۔

    حکومت نے مالی سال 23 کے 3 ہزار 748 ارب روپے کے مقابلے میں مالی سال 24 میں 7 ہزار 479 ارب روپے کا قرض لیا، جو اس سے گزشتہ سال کے مقابلے میں بجٹ سپورٹ کے لیے قرضوں میں دوگنا اضافے کا عکاس تھا۔

    قرض ایک مرکزی نقطہ تھا، کیوں کہ اس نے مالی خسارے کو ظاہر کیا، مالی سال 2024 میں بجٹ خسارہ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا 6.8 فیصد یا 7 ہزار206 ارب روپے رہا، حالاں کہ صوبائی سرپلس 518 ارب 21 کروڑ روپے تھا۔

    اس مالی خسارے کو مالی سال 24 میں جی ڈی پی کے 7.4 فیصد تک بڑھا دیا گیا تھا، چوں کہ اب پاکستان آئی ایم ایف پروگرام میں شامل ہے، اس لیے مالی خسارے کو گزشتہ سال کے مقابلے میں کم کرنا ہوگا۔

    مالی سال 25 میں مجموعی مالیاتی خسارہ 7 ہزار 283 ارب روپے رہا، جو جی ڈی پی کا 5.9 فیصد ہے، جو مالی سال 24 میں نظر ثانی شدہ 7.4 فیصد سے کم ہے۔

    مالی سال 25 کے لیے کل بجٹ کا تخمینہ 18 ہزار 900 ارب روپے ہے، جس میں مجموعی محصولات کی وصولیاں (ٹیکس اور نان ٹیکس) ، غیر بینک قرضے ، بینک قرضے ، خالص بیرونی وصولیاں اور نجکاری کی آمدنی بھی شامل ہیں، اقتصادی ترقی کا تخمینہ 3.6 فیصد ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleضلع کرم میں امن معاہدے کے لیے مذاکرات مکمل، پاراچنار میں روڈ بندش کے خلاف دھرنا جاری
    Next Article پاکستان بھر میں پاسپورٹس کا بیک لاگ مکمل ختم ہو چکا ہے،وزیرداخلہ محسن نقوی
    Web Desk

    Related Posts

    پنجاب یونیورسٹی میں چار روزہ جینوم ایڈیٹنگ کروپ بائیوٹیکنالوجی تربیتی پروگرام کا افتتاح

    ستمبر 23, 2026

    بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک

    ستمبر 22, 2026

    کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی

    ستمبر 22, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پنجاب یونیورسٹی میں چار روزہ جینوم ایڈیٹنگ کروپ بائیوٹیکنالوجی تربیتی پروگرام کا افتتاح

    ستمبر 23, 2026

    بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک

    ستمبر 22, 2026

    کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی

    ستمبر 22, 2026

    پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ

    ستمبر 22, 2026

    آسان ٹیکس سکیم: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو ٹیکس ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، بلال اظہر کیانی

    ستمبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.