Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, جون 23, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی صدر کی ملاقات، خطے میں امن اور استحکام کیلئے غیر متزلزل عزم کا اعادہ
    • ایرانی صدرمسعود پزشکیان ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے
    • 2018 کے الیکشن نتائج پر بننے والی تحریک انصاف کی حکومت جائز تھی تو ہماری حکومت بھی جائز ہے، وزیر اعظم شہبازشریف
    • پاکستانی کیپٹل مارکیٹ پر کمپنیوں کا اعتماد مزید مستحکم، ایک اور آئی پی او منظور
    • فٹبال کا عالمی کپ: ناروے، ارجنٹینا اور فرانس کی شاندار فتوحات
    • قومی اسمبلی نے فنانس بل 2026 کثرتِ رائے سے منظور کرلیا
    • ایبٹ آباد: ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال سے 17 روزہ نومولود اغوا، پولیس اور انتظامیہ متحرک
    • مظفرآباد میں پاکستان زندہ باد ریلی کا انعقاد، کشمیری عوام نے کالعدم ایکشن کمیٹی کا بیانیہ مسترد کر دیا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے تشریح نظر ثانی کیس کی سماعت جاری
    اہم خبریں

    سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے تشریح نظر ثانی کیس کی سماعت جاری

    اکتوبر 1, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے آرٹیکل 63 اے تشریح نظر ثانی کیس کی سماعت کے دوران نئے بینچ کے حوالے سے کہا کہ ججز کمیٹی میٹنگ میں جسٹس منصور علی شاہ کا انتظار کیا گیا مگر انہوں نے آنے سے انکار کیا۔ 

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس امین الدین، جسٹس مظہر عالم، جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس نعیم افغان پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ  نے آرٹیکل63 اے کی تشریح سے متعلق نظرثانی اپیلوں پر  سماعت کی۔

     لارجر بینچ میں جسٹس نعیم افغان کو جسٹس منیب اختر کی جگہ شامل کیا گیا ہے اور چیف جسٹس نے کمیٹی میٹنگ اورجسٹس منیب اختر کے حوالے سے سماعت کے شروع میں آگاہ کیا۔  چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس منیب اختر کو کل سماعت کے بعد بینچ میں شمولیت کی درخواست بھیجی گئی مگر انہوں نے اپنی پوزیشن برقرار رکھی جس پر میں نے کمیٹی میں جسٹس منصورعلی شاہ کو شامل کرنے کی سفارش کی۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بتایا کہ ججز کمیٹی کو 9 بجے بلایا گیا اور جسٹس منصور علی شاہ کا انتظار کیاگیا، جسٹس منصورکے آفس سے بھی رابطہ کیاگیا مگر ان کی جانب سے انکار کیاگیا جس کی وجہ سے ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں بچا۔  اس لیے جسٹس نعیم افغان کو نئے لارجر بینچ میں شامل کرلیاگیا۔

    سماعت کے آغاز میں پی ٹی آئی وکیل علی ظفر نے بینچ پر اعتراض اٹھا دیا اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں آپ کو بعد میں سنیں گے۔

    دوران سماعت صدر سپریم کورٹ بار شہزادشوکت نے دلائل دیے کہ اس کیس میں صدارتی ریفرنس بھی تھا اور 184/3 کی درخواستیں بھی تھیں، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ریفرنس پر رائے اور 184/3 دو الگ الگ دائرہ اختیار ہیں، دونوں کو یکجا کرکے فیصلہ کیسے دیا جاسکتا ہے؟ صدراتی ریفرنس پر صرف رائے دی جاسکتی ہے، فیصلہ نہیں دیا جاسکتا۔

    شہزاد شوکت نے کہا کہ اس وقت عارف علوی صدر مملکت تھے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہی حکومت بطورِحکومت بھی اس کیس میں درخواست گزار تھی، صدر کی جانب سے قانونی سوالات کیا اٹھائے گئے تھے؟ شہزاد شوکت نے بتایا کہ صدر پاکستان نے ریفرنس میں چار سوالات اٹھائے تھے۔

    چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ کیا فیصلے میں منحرف ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کا بھی لکھا گیا؟ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ منحرف ارکان کا ووٹ کاسٹ نہیں ہوگا، ڈی سیٹ کرنے کا حکم فیصلے میں نہیں، اس پر جسٹس قاضی نے کہا کہ آئین میں تحریک عدم اعتماد، وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کا انتخاب اور منی بل کی وضاحت موجود ہے، جب آئین واضح ہے تو اس میں اپنی طرف سے کیسے کچھ شامل کیا جاسکتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleخیبرپختونخوا اسمبلی اجلاس، بجلی کی آنکھ مچولی ،سپیکر کی اراکین کو اندھیرے میں بات جاری رکھنے کی ہدایت
    Next Article کہا گیا ریاست ہوگی ماں جیسی مگر پھر ریاست باپ کی طرح ہوگئی،بلاول بھٹو
    Web Desk

    Related Posts

    فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی صدر کی ملاقات، خطے میں امن اور استحکام کیلئے غیر متزلزل عزم کا اعادہ

    جون 23, 2026

    ایرانی صدرمسعود پزشکیان ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے

    جون 23, 2026

    2018 کے الیکشن نتائج پر بننے والی تحریک انصاف کی حکومت جائز تھی تو ہماری حکومت بھی جائز ہے، وزیر اعظم شہبازشریف

    جون 23, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی صدر کی ملاقات، خطے میں امن اور استحکام کیلئے غیر متزلزل عزم کا اعادہ

    جون 23, 2026

    ایرانی صدرمسعود پزشکیان ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے

    جون 23, 2026

    2018 کے الیکشن نتائج پر بننے والی تحریک انصاف کی حکومت جائز تھی تو ہماری حکومت بھی جائز ہے، وزیر اعظم شہبازشریف

    جون 23, 2026

    پاکستانی کیپٹل مارکیٹ پر کمپنیوں کا اعتماد مزید مستحکم، ایک اور آئی پی او منظور

    جون 23, 2026

    فٹبال کا عالمی کپ: ناروے، ارجنٹینا اور فرانس کی شاندار فتوحات

    جون 23, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.