Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, جون 4, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پی ٹی آئی دور میں مالی بے ضابطگی کی تحقیقات کیلیے نیب سے مدد طلب
    • گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت قدرتی حسن کو معاشی ترقی کا مؤثر ذریعہ بنانے کیلیے اہم اقدامات
    • آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان
    • بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ، برطانوی پارلیمان میں بحث، انسانی حقوق سے متعلق تشویش کا اظہار
    • فوزیہ کوفی نے افغان طالبان رجیم کا بھیانک چہرہ بے نقاب کردیا
    • برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری اولین ترجیح ہے ، وزیراعظم شہباز شریف
    • سولر صارفین پر اضافی بوجھ ڈالنے کا کوئی منصوبہ نہیں، پاور ڈویژن
    • نائب وزیراعظم کی سلامتی کونسل کے نئے غیر مستقل اراکین کو منتخب ہونے پر مبارکباد
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » لانگ ٹرم مسنگ کا معاملہ شارٹ ٹرم مسنگ کی شکل اختیار کررہا ہے،جسٹس محسن اختر
    اہم خبریں

    لانگ ٹرم مسنگ کا معاملہ شارٹ ٹرم مسنگ کی شکل اختیار کررہا ہے،جسٹس محسن اختر

    جون 14, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    The issue of long-term missing is taking the form of short-term missing, Justice Mohsin Akhtar
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے بلوچستان کے طلبہ کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت کی،جس میں انہوں نے ریمارکس دیے ہیں کہ  اب لانگ ٹرم مسنگ کا معاملہ شارٹ ٹرم مسنگ کی شکل اختیار کررہا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کے مطابق بلوچ طلبہ کی بازیابی سے متعلق کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کیس کی سماعت کی گئی اس سلسلے میں عدالت میں درخواست گزار ایمان مزاری ایڈووکیٹ پیش ہوئے جبکہ اس کے ساتھ ہی ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور دوگل اور اسٹنٹ اٹارنی جنرل عثمان گھمن بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

     سماعت کے دوران جسٹس محسن نے سوال کیا کہ آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی بی، سی ٹی ڈی اور  ایف آئی اے عہدیدران پر مشتمل کمیٹی بنادی گئی تھی، اس کمیٹی نے کیا کوئی ورکنگ کی ہے؟

     اس پر اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ اگر عدالت عید کے بعد کا وقت دے، جس پر جسٹس محسن نے کہا کہ جو مسنگ ہیں کیا انہوں نے عید نہیں کرنی؟

    جس پر ایمان مزاری نے دلائل دئیے اور کہا کہ میں یہ واضح کرنا چاہتی ہوں، ادھرکوئی اور بیان دیا جاتا ہے، جبکہ اس کے برعکس بلوچستان میں کچھ اور ہو رہا ہوتا ہے، گزشتہ سماعت کے بعد بھی مسنگ پرسنز کے نئے کیسز سامنے آئے ہیں، انیس الرحمان نامی شخص کو 5 جون کو خضدار سے جبری طور پر لاپتا کیا گیا،اس کے برعکس باقی طالب علم بازیاب ہوئے ہیں۔

    جسٹس محسن اختر نے ایمان مزاری کے دلائل پر کہا کہ اب لانگ ٹرم مسنگ کا معاملہ شارٹ ٹرم مسنگ کی شکل اختیار کررہا ہے، کسی لیول پر پالیسی میکرز سے کسی نے سوال کیا؟ کیا وہ محسوس نہیں کر رہے ہیں کہ کس طرح ریاست کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے، ان میں ہوں گے ضرور دہشتگرد بھی لیکن جو بھی ہونا ہے قانون کے مطابق ہونا ہے۔

    اس پر ایمان مزاری نے کہا کہ پہلے لاپتا کرتے ہیں پھر سی ٹی ڈی کے حوالے کر دیتے ہیں، کیونکہ اب یہ معاملہ پورے ملک میں بڑھ رہا ہے۔

    جس پر جسٹس محسن اختر نے کہا کہ ہر ایکشن کا ایک ری ایکشن ضرور ہوتا ہے،ان کو نہیں معلوم ایسے اقدامات سے ریاست کے خلاف نفرت پیدا ہوتی ہے، ابھی تک عدالتوں نے بھی صرف لاپتا افراد کی ریکوری پر ہی فوکس کیا ہے،کبھی بھی ہم لاپتا افراد کی ریکوری سے آگے نہیں گئے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleافغانستان میں لڑکیو ں کی تعلیم پر پابندی کے ہزار دن مکمل
    Next Article ہرنائی:مسلح ڈاکووں کی فائرنگ سے نوجوان جاں بحق
    Mahnoor

    Related Posts

    پی ٹی آئی دور میں مالی بے ضابطگی کی تحقیقات کیلیے نیب سے مدد طلب

    جون 4, 2026

    آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان

    جون 4, 2026

    فوزیہ کوفی نے افغان طالبان رجیم کا بھیانک چہرہ بے نقاب کردیا

    جون 4, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پی ٹی آئی دور میں مالی بے ضابطگی کی تحقیقات کیلیے نیب سے مدد طلب

    جون 4, 2026

    گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت قدرتی حسن کو معاشی ترقی کا مؤثر ذریعہ بنانے کیلیے اہم اقدامات

    جون 4, 2026

    آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان

    جون 4, 2026

    بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ، برطانوی پارلیمان میں بحث، انسانی حقوق سے متعلق تشویش کا اظہار

    جون 4, 2026

    فوزیہ کوفی نے افغان طالبان رجیم کا بھیانک چہرہ بے نقاب کردیا

    جون 4, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.