Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, فروری 25, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • شاہراہِ امن| قومی امن و سلامتی پر مبنی خصوصی پروگرام
    • پاکستان اسٹاک مارکیٹ مسلسل تیسرے روز مندی کا شکار، ہنڈرڈ انڈیکس 1632 پوائنٹس گر گیا
    • پاک افغان سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ، پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ
    • پشاور ہائی کورٹ نے وادی تیراہ آپریشن پر وفاقی اور صوبائی حکومت سے رپورٹ طلب کر لی
    • علی امین گنڈاپور کی سیکیورٹی واپسی کا دعویٰ، خیبر پختونخوا حکومت کی تردید۔ تحریر: مبارک علی
    • وزیراعظم کی قطرکے نائب وزیراعظم اور وزیردفاع سے ملاقات، ایران اور افغانستان کی صورتِ حال پرتبادلہ خیال
    • ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سپر ایٹ مرحلہ، پاکستان اور انگلینڈ کا ٹاکرا آج ہوگا
    • وزیراعظم شہباز شریف سے قطر کے وزیر مملکت برائے بیرونی تجارت ڈاکٹر احمد بن محمد السید کی ملاقات
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » 9 مئی کو حد ہوگئی، اب آپ کو بنیادی حقوق یاد آگئے؟ جسٹس مسرت ہلالی کا وکیل سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ
    فیچرڈ

    9 مئی کو حد ہوگئی، اب آپ کو بنیادی حقوق یاد آگئے؟ جسٹس مسرت ہلالی کا وکیل سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ

    فروری 13, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    The limit was reached on May 9, now do you remember the fundamental rights? Justice Musarrat Hilali's conversation with lawyer Salman Akram Raja
    پی ٹی آئی نے اپنی حکومت میں فوجی عدالتوں کی حمایت کی ، وہ غلط تھا، وکیل سلمان اکرم راجہ
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد:  جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بنچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کی ،سماعت کے دوران جسٹس مسرت ہلالی نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے کہا کیا آپ تسلیم کرتے ہیں 9 مئی کا جرم سرزد ہوا ہے؟ 9 مئی کو حد کردی گئی، اب آپ کو بنیادی حقوق یاد آگئے۔

    سلمان اکرم نے اپنے دلائل میں کہا ہے کہ برطانیہ میں کورٹ مارشل فوجی افسر نہیں بلکہ ہائیکورٹ طرز پر تعینات ججز کرتے ہیں، کمانڈنگ افسر صرف سنجیدہ نوعیت کا کیس ہونے پر مقدمہ آزاد فورم کو بھیج سکتا ہے، اس پر جسٹس امین الدین نے کہا ہم نے اپنا قانون دیکھنا ہے برطانیہ کا نہیں، آپ غیرضروری بحث سے وقت ضائع کر رہے ہیں ۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ برطانوی قانون تو اپنی فوج کے ڈسپلن سے متعلق ہے، موجودہ کیس میں تو جرم عام شہریوں نے کیا، شہریوں پر کیسے لاگو ہو سکتاہے؟ اس پر سلمان اکرم نے کہا کہ برطانوی قانون کی مثال ٹرائل کے آزاد اور شفاف ہونے کےتناظر میں دی ۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ زیر سماعت اپیلوں میں کالعدم شدہ دفعات بحالی کی استدعا کی گئی ہے، قانون کی شقوں کا جائزہ لینا ہے تو عالمی قوانین کو بھی دیکھنا ہو گا، اگر دفعات کالعدم نہ ہوتیں تو دلائل غیر متعلقہ ہو سکتے تھے، اب نہیں ہیں ۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا موجودہ نظام کے تحت شہری کا کورٹ مارشل ہو سکتا یا نہیں؟ جس پر سلمان اکرم نے جواب دیا کہ شہریوں کا کورٹ مارشل کسی صورت میں بھی ممکن نہیں ۔

    جسٹس مسرت ہلالی  نے سلمان اکرم سے سوال کیا کہ کیا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ 9 مئی کا جرم سرزد ہوا ہے؟ 9 مئی کو حد کردی گئی، اب آپ کو بنیادی حقوق یاد آگئے ہیں۔

    سلمان اکرم نے دلائل دیئے کہ آرٹیکل 184/3 کو محدود نہیں کیا جا سکتا، ملزمان کو آزاد عدالت اور فیئر ٹرائل کا حق ہے، اے پی ایس والے آج بھی انصاف کے لیے دربدر بھٹک رہے ہیں اس پر جسٹس امین الدین نے کہا کہ فیئر ٹرائل کے لیے آپ کو آرٹیکل 8/3 سے نکلنا ہو گا ۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آرمی پبلک سکول کے کچھ مجرمان کو پھانسی ہو گئی تھی جبکہ جسٹس حسن رضوی نے کہا فوج میں ایک انجینئرنگ کور ہوتی ہے، میڈیکل کور بھی ہوتی ہے، دونوں کورز میں ماہر انجینئر اور ڈاکٹرز ہوتے ہیں، کیا فوج میں اب جوڈیشل کور بھی بنادی جائے؟

    سلمان اکرم راجہ نے کہا الزام لگا کر فیئر ٹرائل سے محروم کر دینا یہ بنیادی حقوق کا معاملہ ہے، مجھ پر رینجرز اہلکاروں کے قتل کی بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ مل کر سازش کا الزام ہے، اگر قانون کی شقیں بحال ہوتی ہیں تو مجھے ایک کرنل کے سامنے پیش ہونا پڑے گا ۔

    اس موقع پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا آپ کے خلاف ایف آئی آر میں انسداد دہشتگردی کے سیکشن لگے ہوں گے، جسٹس امین نے سوال کیا کہ کیا آپ کی ملٹری کسٹڈی مانگی گئی ہے؟

    سلمان اکرم نے جواب دیا کہ میرے کیس کو چھوڑیں، نظام ایسا ہے کہ الزام لگا کر ملٹری ٹرائل کی طرف لے جاؤ، اس موقع پر جسٹس مندوخیل نے کہا کہ آپ پھر مفروضوں پر نہ جائیں۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ 21 ویں آئینی ترمیم ہوئی تب آپ کی پارٹی نے ملٹری کورٹس کے قیام کی حمایت کی یا یوں کہہ دیتی ہوں کہ ایک سیاسی جماعت نے 21 ویں آئینی ترمیم کے تحت ملٹری کورٹس کی حمایت کی تھی ۔

    وکیل سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ عدالت میں کسی سیاسی جماعت کی نمائندگی نہیں کر رہا، اس وقت انہوں نے غلط کیا تھا، اس پر جسٹس مسرت نے کہا یہ کیا بات ہوئی کہ اپوزیشن میں آکر کہہ دیں ماضی میں جو ہوا غلط تھا ۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے 21 ویں آئینی ترمیم میں ایک نکتہ اچھا تھا کہ سیاسی جماعتوں پر اس کا اطلاق نہیں ہو گا۔

    بعد ازاں سپریم کورٹ آف پاکستان کے آئینی بنچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کے خلاف انٹر کورٹ اپیلوں پر سماعت 18 فروری تک ملتوی کر دی ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleگرین پاکستان انیشیٹو: زرعی ترقی کی نئی راہیں
    Next Article پاکستان اور ترکیہ کے درمیان 21 معاہدوں اور ایم او یوز پر دستخط
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ مسلسل تیسرے روز مندی کا شکار، ہنڈرڈ انڈیکس 1632 پوائنٹس گر گیا

    فروری 25, 2026

    پاک افغان سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ، پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

    فروری 25, 2026

    پشاور ہائی کورٹ نے وادی تیراہ آپریشن پر وفاقی اور صوبائی حکومت سے رپورٹ طلب کر لی

    فروری 25, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    شاہراہِ امن| قومی امن و سلامتی پر مبنی خصوصی پروگرام

    فروری 25, 2026

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ مسلسل تیسرے روز مندی کا شکار، ہنڈرڈ انڈیکس 1632 پوائنٹس گر گیا

    فروری 25, 2026

    پاک افغان سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ، پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

    فروری 25, 2026

    پشاور ہائی کورٹ نے وادی تیراہ آپریشن پر وفاقی اور صوبائی حکومت سے رپورٹ طلب کر لی

    فروری 25, 2026

    علی امین گنڈاپور کی سیکیورٹی واپسی کا دعویٰ، خیبر پختونخوا حکومت کی تردید۔ تحریر: مبارک علی

    فروری 25, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.