Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, مارچ 24, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • رومانیہ نے پاکستان کے قومی ترانے کا پہلا پیشہ ورانہ کورل انتظام پیش کر دیا،تاریخی ثقافتی سنگ میل، دونوں ممالک کی دوستی کا مظہر
    • ایران اور امریکہ آمادہ ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، دفتر خارجہ
    • اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا امکان
    • مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے خاتمے میں پاکستان کا اہم کردار
    • ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مذاکرات کے دعوے کو مسترد کردیا
    • ایرانی پاور پلانٹس پر حملے 5 روز کیلئے ملتوی، ٹرمپ کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی
    • ملک بھر میں 86واں یومِ پاکستان جوش و جذبے سے منایا گیا
    • ہائی آکٹین فیول پر لیوی میں بڑا اضافہ، امیر طبقہ اضافی بوجھ اٹھائے گا، وزیراعظم شہبازشریف
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » 9 مئی کو حد ہوگئی، اب آپ کو بنیادی حقوق یاد آگئے؟ جسٹس مسرت ہلالی کا وکیل سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ
    فیچرڈ

    9 مئی کو حد ہوگئی، اب آپ کو بنیادی حقوق یاد آگئے؟ جسٹس مسرت ہلالی کا وکیل سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ

    فروری 13, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    The limit was reached on May 9, now do you remember the fundamental rights? Justice Musarrat Hilali's conversation with lawyer Salman Akram Raja
    پی ٹی آئی نے اپنی حکومت میں فوجی عدالتوں کی حمایت کی ، وہ غلط تھا، وکیل سلمان اکرم راجہ
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد:  جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بنچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کی ،سماعت کے دوران جسٹس مسرت ہلالی نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے کہا کیا آپ تسلیم کرتے ہیں 9 مئی کا جرم سرزد ہوا ہے؟ 9 مئی کو حد کردی گئی، اب آپ کو بنیادی حقوق یاد آگئے۔

    سلمان اکرم نے اپنے دلائل میں کہا ہے کہ برطانیہ میں کورٹ مارشل فوجی افسر نہیں بلکہ ہائیکورٹ طرز پر تعینات ججز کرتے ہیں، کمانڈنگ افسر صرف سنجیدہ نوعیت کا کیس ہونے پر مقدمہ آزاد فورم کو بھیج سکتا ہے، اس پر جسٹس امین الدین نے کہا ہم نے اپنا قانون دیکھنا ہے برطانیہ کا نہیں، آپ غیرضروری بحث سے وقت ضائع کر رہے ہیں ۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ برطانوی قانون تو اپنی فوج کے ڈسپلن سے متعلق ہے، موجودہ کیس میں تو جرم عام شہریوں نے کیا، شہریوں پر کیسے لاگو ہو سکتاہے؟ اس پر سلمان اکرم نے کہا کہ برطانوی قانون کی مثال ٹرائل کے آزاد اور شفاف ہونے کےتناظر میں دی ۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ زیر سماعت اپیلوں میں کالعدم شدہ دفعات بحالی کی استدعا کی گئی ہے، قانون کی شقوں کا جائزہ لینا ہے تو عالمی قوانین کو بھی دیکھنا ہو گا، اگر دفعات کالعدم نہ ہوتیں تو دلائل غیر متعلقہ ہو سکتے تھے، اب نہیں ہیں ۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا موجودہ نظام کے تحت شہری کا کورٹ مارشل ہو سکتا یا نہیں؟ جس پر سلمان اکرم نے جواب دیا کہ شہریوں کا کورٹ مارشل کسی صورت میں بھی ممکن نہیں ۔

    جسٹس مسرت ہلالی  نے سلمان اکرم سے سوال کیا کہ کیا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ 9 مئی کا جرم سرزد ہوا ہے؟ 9 مئی کو حد کردی گئی، اب آپ کو بنیادی حقوق یاد آگئے ہیں۔

    سلمان اکرم نے دلائل دیئے کہ آرٹیکل 184/3 کو محدود نہیں کیا جا سکتا، ملزمان کو آزاد عدالت اور فیئر ٹرائل کا حق ہے، اے پی ایس والے آج بھی انصاف کے لیے دربدر بھٹک رہے ہیں اس پر جسٹس امین الدین نے کہا کہ فیئر ٹرائل کے لیے آپ کو آرٹیکل 8/3 سے نکلنا ہو گا ۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آرمی پبلک سکول کے کچھ مجرمان کو پھانسی ہو گئی تھی جبکہ جسٹس حسن رضوی نے کہا فوج میں ایک انجینئرنگ کور ہوتی ہے، میڈیکل کور بھی ہوتی ہے، دونوں کورز میں ماہر انجینئر اور ڈاکٹرز ہوتے ہیں، کیا فوج میں اب جوڈیشل کور بھی بنادی جائے؟

    سلمان اکرم راجہ نے کہا الزام لگا کر فیئر ٹرائل سے محروم کر دینا یہ بنیادی حقوق کا معاملہ ہے، مجھ پر رینجرز اہلکاروں کے قتل کی بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ مل کر سازش کا الزام ہے، اگر قانون کی شقیں بحال ہوتی ہیں تو مجھے ایک کرنل کے سامنے پیش ہونا پڑے گا ۔

    اس موقع پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا آپ کے خلاف ایف آئی آر میں انسداد دہشتگردی کے سیکشن لگے ہوں گے، جسٹس امین نے سوال کیا کہ کیا آپ کی ملٹری کسٹڈی مانگی گئی ہے؟

    سلمان اکرم نے جواب دیا کہ میرے کیس کو چھوڑیں، نظام ایسا ہے کہ الزام لگا کر ملٹری ٹرائل کی طرف لے جاؤ، اس موقع پر جسٹس مندوخیل نے کہا کہ آپ پھر مفروضوں پر نہ جائیں۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ 21 ویں آئینی ترمیم ہوئی تب آپ کی پارٹی نے ملٹری کورٹس کے قیام کی حمایت کی یا یوں کہہ دیتی ہوں کہ ایک سیاسی جماعت نے 21 ویں آئینی ترمیم کے تحت ملٹری کورٹس کی حمایت کی تھی ۔

    وکیل سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ عدالت میں کسی سیاسی جماعت کی نمائندگی نہیں کر رہا، اس وقت انہوں نے غلط کیا تھا، اس پر جسٹس مسرت نے کہا یہ کیا بات ہوئی کہ اپوزیشن میں آکر کہہ دیں ماضی میں جو ہوا غلط تھا ۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے 21 ویں آئینی ترمیم میں ایک نکتہ اچھا تھا کہ سیاسی جماعتوں پر اس کا اطلاق نہیں ہو گا۔

    بعد ازاں سپریم کورٹ آف پاکستان کے آئینی بنچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کے خلاف انٹر کورٹ اپیلوں پر سماعت 18 فروری تک ملتوی کر دی ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleگرین پاکستان انیشیٹو: زرعی ترقی کی نئی راہیں
    Next Article پاکستان اور ترکیہ کے درمیان 21 معاہدوں اور ایم او یوز پر دستخط
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    ایران اور امریکہ آمادہ ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، دفتر خارجہ

    مارچ 24, 2026

    اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا امکان

    مارچ 23, 2026

    ایرانی پاور پلانٹس پر حملے 5 روز کیلئے ملتوی، ٹرمپ کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی

    مارچ 23, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    رومانیہ نے پاکستان کے قومی ترانے کا پہلا پیشہ ورانہ کورل انتظام پیش کر دیا،تاریخی ثقافتی سنگ میل، دونوں ممالک کی دوستی کا مظہر

    مارچ 24, 2026

    ایران اور امریکہ آمادہ ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، دفتر خارجہ

    مارچ 24, 2026

    اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا امکان

    مارچ 23, 2026

    مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے خاتمے میں پاکستان کا اہم کردار

    مارچ 23, 2026

    ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مذاکرات کے دعوے کو مسترد کردیا

    مارچ 23, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.