Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, اکتوبر 21, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • گورنر راج کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا: نئی حکومت اور صوبائی انتظامیہ عوامی خدمت کے لیے متحرک
    • تجاوزات میں ملوث کسی بھی انتظامی افسر کے خلاف کارروائی ہوگی،گورنر فیصل کریم کنڈی
    • پاکستان رینجرز اور مقامی این جی او کے زیر اہتمام تھرپارکر میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد
    • چینی کاروباری وفد کا گلگت بلتستان کا دورہ، تجارتی و سرمایہ کاری کے فروغ پر تبادلہ خیال
    • پاکستان اور مالدیپ کا دوطرفہ تجارت 2سال میں 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق
    • پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس 1 لاکھ 66 ہزار پوائنٹس سے تجاوز کر گیا
    • افغان طالبان رجیم کی ناقص پالیسیاں: تعلیم یافتہ طبقہ بدترین بیروزگاری اور معاشی بدحالی کا شکار
    • گورنر راج کے بعد جنوبی خیبرپختونخوا: سڑکوں، صحت اور تعلیم کے شعبوں کی بحالی کے لیے عوام پرامید
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • خاص خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » امریکی معاشرے میں انڈین نژاد لوگوں کا غلبہ
    بلاگ اگست 9, 2024

    امریکی معاشرے میں انڈین نژاد لوگوں کا غلبہ

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد: (مدثر حسین) انیسویں صدی میں جب برصغیر انگریز سامراج کے زیر نگیں تھا، تو  معاشرے کے تقریباً تمام شعبوں میں انگریز حاوی تھے،  ایسے میں ہندو  انکے برتر  حلیف او مسلمان کمتر رعایا ہوتے تھے، پھر آزادی کی  تحریک چلی، انگریز چلے گئے ، اور ہندو پاک کے لوگوں کو جن انگریزوں سے ازادی چاہیے تھی، وہ انہیں مل گی، لیکن جس تہذیب کے وہ عادی ہوچکے تھے، یعنی برٹش یا انگریز تمدن، وہ ان میں رچ بس گئی، آزادی کے چند سال بعد ہی  دیسی لوگوں کو اندازہ ہوا، کہ ان کے لیے ایک بہتر زندگی یہاں کے  آزاد  برصغیر میں نہیں بلکہ امریکہ، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک میں ہی ممکن ہے، دھیرے دھیرے یہاں کے ذہین لوگ مغربی ممالک کی طرف اڑنے لگے، برطانیہ چونکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد معاشی طور پر تنگ دست تھا، لہذا یہاں کے دیسی لوگوں کی پسندیدہ منزل ریاست ہاے متحدہ امریکہ ٹھری، اور آج یہ صورتحال ہے کہ امریکہ میں آپ کو تیسری دنیا  کے ممالک میں سے سب سے زیادہ انڈین نژاد لوگ ملیں گے، یہ انڈین نژاد لوگ اب اس قدر امریکی معاشرے میں رچ بس گئے ہیں ، کہ سیاست سے لیکر  سائنس و ٹیکنالوجی، طب ، اکیڈیما، اور بڑی بڑی ملٹی نینشل کمپنیز کے  اہم عہدوں پر بھارتی نژاد  شہریوں کا فائز ہونا اب معمول کی بات بن چکی ہیں۔

    محتاط اندازے کے مطابق امریکہ میں بھارتی شہریوں کی تعداد  چار ملین کے قریب ہیں،یہ بھارتی نژار شہری امریکی آبادی کا دو فیصد بنتے ہیں،امریکی یونیورسٹیز میں دو لاکھ سے زیادہ بھارتی شہری پڑھنے کے لیے جاتے ہیں ، یہ بھارتی سٹوڈنٹس سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی، ریاضی، خلائی تحقیق،اور انجنیرنگ کے شعبوں کی طرف زیادہ رجحان رکھتے ہیں، اور نتیجہ گوگل سے لیکر مائکرو سافٹ، کے چیف ایگزیکٹیو افیسرز تک آپ کے سامنے ہے۔

    تاہم آج کا ہمارا مدعا امریکی سیاست میں بھارتی نژاد شہریوں کے ابھرنے سے متعلق ہے، یہ بھارتی نژاد شہری دھیرے دھیرے امریکی سیاست میں یہودیوں کی طرح اثر بڑھا  چکے ہیں، سال دو ہزار بیس کے صدارتی الیکشن میں پہلی دفعہ انڈین نژاد خاتون بطور نائب صدر سامنے آئی، موجودہ نائب صدر کملا ہیرس آنے والے الیکشن میں ڈیموکریٹک پارٹی کی ممکنہ مضبوط امیدوار ہوگی، اسکے ساتھ ساتھ لوزیانا کے بھارتی نژاد گورنر بوبی جندال سے لیکر بائیڈن انتظامیہ میں اعلی عہدوں پر فائز شخصیات تک بھارتی نژاد شہری اب امریکی سیاست میں ایک طاقتور لابی بن کر ابھر رہے ہیں، کہا جاتا ہے کہ صدر بائیڈن کا تقریر نویس بھی   وینے ریڈی نامی بھارتی نژاد امریکی شہری ہے،  سابق صدر ٹرمپ کی انتظامیہ میں بھی بھارتی نژاد لوگ اہم عہدوں پر فائز تھے، یہ تمام تر صورتحال اشارہ کرتی ہے کہ آنے والے دور میں بھارتی نژاد امریکی شہری ایک ایسی کمیونٹی بنے گے، جن کی آواز امریکی سینٹ اور ایوان نمائندگان میں نظر انداز کرنا خاصا مشکل ہوگا، دوسری طرف پاکستانی نژاد امریکی اس طرح اگے نہیں بڑھ پا رہے جیسا کہ بھارتی شہری وہاں کی معاشرت میں گھل مل گئے، مذہبی اقدار میں فرق اس معاملے میں ایک اہم رکاوٹ کے طور پر شمار کیا جاسکتا ہے، تاہم وہ کونسے عوامل ہے جن کی وجہ سے بھارتی شہری ، دیگر ایشائی کمیونٹیز کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ترقی کی راہ پر چل رہے ہیں، اس پر ماہرین عمرانیات، و بشریات کی تحقیق کے بعد ہی کچھ کہا جاسکتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleخیبرپختونخوا کابینہ کی رپورٹ تیار ،بعض اراکین کی کارکردگی مایوس کن ،بعض کی بہترین
    Next Article خیبر میں زنگی چیک پوسٹ اور تھانے پر دہشتگردوں کے حملے،6 اہلکار شہید،12 زخمی،5 لاپتہ
    Web Desk

    Related Posts

    گورنر راج کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا: نئی حکومت اور صوبائی انتظامیہ عوامی خدمت کے لیے متحرک

    اکتوبر 21, 2026

    تجاوزات میں ملوث کسی بھی انتظامی افسر کے خلاف کارروائی ہوگی،گورنر فیصل کریم کنڈی

    اکتوبر 21, 2026

    پاکستان رینجرز اور مقامی این جی او کے زیر اہتمام تھرپارکر میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد

    اکتوبر 21, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    گورنر راج کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا: نئی حکومت اور صوبائی انتظامیہ عوامی خدمت کے لیے متحرک

    اکتوبر 21, 2026

    تجاوزات میں ملوث کسی بھی انتظامی افسر کے خلاف کارروائی ہوگی،گورنر فیصل کریم کنڈی

    اکتوبر 21, 2026

    پاکستان رینجرز اور مقامی این جی او کے زیر اہتمام تھرپارکر میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد

    اکتوبر 21, 2026

    چینی کاروباری وفد کا گلگت بلتستان کا دورہ، تجارتی و سرمایہ کاری کے فروغ پر تبادلہ خیال

    اکتوبر 21, 2026

    پاکستان اور مالدیپ کا دوطرفہ تجارت 2سال میں 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق

    اکتوبر 21, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.