اسلام آباد سے علی شیر کی خصوصی تحریر: ۔
نیشنل فنانس کمیشن (NFC) پاکستان کے مالی وفاقی نظام کی بنیاد ہے۔ یہ ایک آئینی طریقۂ کار ہے جس کے تحت وفاقی حکومت کی جانب سے جمع کیے گئے مالی وسائل صوبوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں تاکہ وفاق کے اندر توازن، انصاف اور انتظامی ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے ۔
این ایف سی کیا ہے؟
نیشنل فنانس کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے جو وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم کو منظم کرتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ وفاقی سطح پر حاصل ہونے والی آمدن شفاف اور منصفانہ انداز میں نچلی سطح کی حکومتوں تک منتقل ہو تاکہ صوبے اپنی انتظامی اور ترقیاتی ذمہ داریاں مؤثر طریقے سے نبھا سکیں ۔
ایک ایسے ملک میں جہاں علاقائی ناہمواری اور ترقی میں عدم توازن موجود ہو وہاں این ایف سی قومی معاشی یکجہتی اور وفاقی استحکام کے لیے ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے ۔
آئینی بنیاد: ۔
این ایف سی کی آئینی بنیاد آئینِ پاکستان 1973 کے آرٹیکل 160 میں موجود ہے۔ اس شق کے تحت مقررہ وقفوں سے نیشنل فنانس کمیشن کا قیام لازم قرار دیا گیا ہے اور اسے صدرِ پاکستان کو اہم مالی معاملات پر سفارشات پیش کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ان میں شامل ہیں:
1ـ وفاقی ٹیکسوں کی خالص آمدن کی وفاق اور صوبوں کے درمیان تقسیم
2ـ صوبوں کو وفاق کی جانب سے دی جانے والی گرانٹس اِن ایڈ
3ـ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے قرض لینے کے اختیارات
کوئی بھی دوسرا مالی معاملہ جو صدرِ پاکستان کمیشن کو بھیجیں
صدر کی منظوری کے بعد این ایف سی کی سفارشات کو صدارتی حکم نامے کے ذریعے نافذ کیا جاتا ہے، جسے عام طور پر این ایف سی ایوارڈ کہا جاتا ہے اور اسے قانونی حیثیت حاصل ہوتی ہے ۔
این ایف سی ایوارڈز: ایک مختصر جائزہ: ۔
1975 سے اب تک پاکستان میں کئی این ایف سی ایوارڈز جاری کیے جا چکے ہیں ۔
ان میں سب سے اہم اور فی الوقت نافذ العمل انتظام ساتواں این ایف سی ایوارڈ ہے، جسے 2009/10 میں حتمی شکل دی گئی تھی۔ اگرچہ آئین کے مطابق ہر پانچ سال بعد نیا ایوارڈ ہونا چاہیے، مگر سیاسی اور ادارہ جاتی تعطل کے باعث یہی ایوارڈ تاحال مالی منتقلیوں کی بنیاد بنا ہوا ہے ۔
ساتویں این ایف سی ایوارڈ کا مسلسل نفاذ اس کی اہمیت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بدلتے وفاقی ڈھانچے میں وسائل کی تقسیم پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی دشواری کو بھی نمایاں کرتا ہے ۔
این ایف سی کے تحت آمدن کی تقسیم کیسے ہوتی ہے؟
این ایف سی نظام کا مرکز قابلِ تقسیم پول (Divisible Pool) ہے، جس میں آمدن ٹیکس، سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹیز اور وفاقی ایکسائز ڈیوٹیز جیسے بڑے وفاقی ٹیکس شامل ہوتے ہیں۔ یہ ٹیکس وفاقی حکومت جمع کرتی ہے اور پھر این ایف سی ایوارڈ کے تحت ان کا ایک حصہ صوبوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔
یہ تقسیم دو سطحوں پر ہوتی ہے:
1ـ عمودی تقسیم:
جس کے تحت یہ طے ہوتا ہے کہ قابلِ تقسیم پول کا کتنا حصہ وفاق اور کتنا صوبوں کو جائے گا ۔
2ـ افقی تقسیم:
جس میں صوبوں کے حصے کو خود صوبوں کے درمیان تقسیم کیا جاتا ہے ۔
ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت قابلِ تقسیم پول کا 57.5 فیصد صوبوں کو دیا جاتا ہے۔ یہ حصہ ایک کثیر معیاری فارمولے کے ذریعے تقسیم ہوتا ہے، جس میں آبادی، غربت اور پسماندگی، آمدن پیدا کرنے کی صلاحیت اور کم آبادی والے علاقوں کا عنصر شامل ہے۔ باقی حصہ وفاق اپنے آئینی فرائض کی انجام دہی کے لیے رکھتا ہے ۔
گلگت بلتستان اور این ایف سی: ۔
(موجودہ حیثیت)
این ایف سی کے حوالے سے ایک اہم اور متنازع سوال گلگت بلتستان کی حیثیت کا ہے۔ مختصر اور قانونی جواب یہ ہے کہ گلگت بلتستان اس وقت این ایف سی ایوارڈ کا حصہ نہیں اور اسے کوئی آئینی طور پر طے شدہ حصہ حاصل نہیں ہے۔
اس کی بنیادی وجہ آئینی ساخت ہے۔ آرٹیکل 160 این ایف سی میں شرکت کو صرف وفاق اور چار صوبوں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان تک محدود کرتا ہے۔ اگرچہ گلگت بلتستان میں منتخب اسمبلی اور حکومتی ڈھانچہ موجود ہے، مگر مالی معاملات کے حوالے سے آئین اسے صوبہ یا وفاقی اکائی تسلیم نہیں کرتا ۔
نتیجتاً گلگت بلتستان نہ تو این ایف سی کا مستقل رکن ہے اور نہ ہی افقی تقسیم کے فارمولے میں شامل ہے۔ اب ایسے میں ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ
پھر گلگت بلتستان کو فنڈز کیسے ملتے ہیں؟
گلگت بلتستان کے لیے مالی وسائل این ایف سی کے دائرہ کار سے باہر فراہم کیے جاتے ہیں۔ روایتی طور پر وفاقی حکومت گلگت بلتستان کو درج ذیل ذرائع سے فنڈز فراہم کرتی ہے:
1ـ وفاقی بجٹ سے گرانٹس
2ـ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت رقوم
3ـ خصوصی بلاک گرانٹس اور صوابدیدی فنڈز
این ایف سی کے برعکس، یہ رقوم آئینی طور پر ضمانت شدہ نہیں ہوتیں اور مکمل طور پر وفاقی حکومت کے اختیار میں رہتی ہیں ۔
سیاسی بحث اور تجاویز: ۔
گزشتہ کئی برسوں سے سیاسی حلقوں میں یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کو این ایف سی ایوارڈ میں شامل کیا جائے تاکہ انہیں بھی صوبوں کی طرح قابلِ پیش گوئی اور اصولوں پر مبنی مالی وسائل دستیاب ہوں۔ حالیہ برسوں میں 11ویں این ایف سی سے متعلق بعض ورکنگ گروپس میں بھی اس مسئلے پر بات ہوئی ہے ۔
تاہم یہ مباحث آئینی شمولیت سے آگے نہیں بڑھ سکے، بحیثیت صحافی میں سمجھتا
اس کا حل تین سطحوں پر ممکن ہے:
1_ مستقل حل مکمل صوبائی حیثیت ہے؛
2 _ عبوری مگر مضبوط حل آرٹیکل 160 میں خصوصی ترمیم؛
3 ــ آسان ترین حل خصوصی این ایف سی یا وفاقی مالی ایوارڈ
کشمیر پالیسی کے نام پر مالی حقوق روکنا درست نہیں، مالی انصاف سیاسی فیصلہ نہیں، انسانی ضرورت ہے۔ ریاست پسماندگی و جغرافیہ کو بنیاد بنا کر وسائل فراہم کرے۔ یہ رعایت نہیں، آئینی انصاف ہے ۔

