Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, جنوری 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • عمران خان کی حکومت: نعروں کی حکمرانی، عملی ناکامی
    • ضابطہ جاتی اصلاحات ریاستی اختیار کو مضبوط بنانے کا ذریعہ
    • صدر ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کا باقاعده اعلان کردیا، وزیراعظم شہبازشریف نے بھی دستخط کرديئے
    • بیرون ملک مقیم معروف ڈاکٹروں کے پرائویٹ کلینکس میں سادہ لوح مریضوں کو دھوکہ دیکر لوٹا جانے کا انکشاف۔۔۔
    • امریکہ نے پشتونوں کی نسل کشی میں بنیادی کردار ادا کیا ھمارے مشران کے قتل اور ٹقافت کو ختم کرنے کیلئے ھرحربہ ازمایا۔۔ جمال شاہ۔۔
    • امجدخان کو فلم ۔۔شعلے۔میں گبرسنگھ کا کردار کیسے اور کیوں افر کیا گیا۔۔۔۔۔؟
    • خیبرٹیلی ویژن کی ترقی کی داستان قمرزمان ( سکواش چمپئن ) کی زبان)
    • بختاور قیوم اور احمد شیر کا سوشل جنکشن دیکھئے ڈیجیٹل کی دنیا میں کےٹو اسلام آباد سے براہ راست۔۔۔۔
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » امریکا کے کانگریس اراکین کا عمران خان کے لیے گہری محبت، کیا ہے اس کا راز ۔۔۔ ؟
    اہم خبریں

    امریکا کے کانگریس اراکین کا عمران خان کے لیے گہری محبت، کیا ہے اس کا راز ۔۔۔ ؟

    نومبر 16, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    The US Congress and Imran Khan’s Release Motive
    امریکا کے کانگریس اراکین کا عمران خان کے لیے گہری محبت، کیا ہے اس کا راز ۔۔۔ ؟
    Share
    Facebook Twitter Email

    امریکا کے کانگریس اراکین کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے لیے ایک کے بعد ایک خط لکھنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ دنیا بخوبی جانتی ہے کہ فلسطین کے مسئلے پر امریکی موقف اور اس کی انسانی حقوق کے حوالے سے پالیسیوں کو دیکھتے ہوئے یہ انتہائی غیر معمولی ہے کہ امریکا کے دونوں بڑی جماعتوں (ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس) کے اراکین یک آواز ہو کر عمران خان کے حق میں بیانات دے رہے ہیں اور ان کی فوری رہائی کے لیے مہم چلائے ہوئے ہیں۔

    یقیناً اس میں کچھ نہ کچھ ایسا ہے جس نے امریکی کانگریس کے ارکان کو اس قدر متحرک کر دیا ہے۔ یہ کوئی عام سیاسی یا سفارتی تعلقات نہیں ہیں جو اتنی شدت کے ساتھ ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔ اس معاملے میں ایک گہری حقیقت چھپی ہوئی ہے جس کا تجزیہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔

    پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور امریکا کی پالیسی

    پاکستان کی جغرافیائی اہمیت بالخصوص امریکی اور چین کے درمیان جیو اسٹریٹیجک مقابلے میں  دنیا کے لیے ایک کھلا راز ہے۔ پاکستان کی سرزمین  ایٹمی صلاحیت اور اس کی چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت امریکی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ عمران خان کو امریکا کی پالیسیوں کے مطابق چلانے کا ایک اہم عنصر یہی جغرافیائی اور اسٹریٹجک اہمیت ہو سکتی ہے۔

    عمران خان اور امریکی سیاستدانوں کے درمیان وعدے

    اگر ہم عمران خان کی سیاست کے دوران کی جانے والی باتوں اور ان کے بیانات پر نظر ڈالیں تو ہمیں بہت سے ایسے اشارات ملتے ہیں جو بتاتے ہیں کہ خان نے امریکا کے ساتھ کچھ ایسے وعدے کیے ہیں جو امریکا کے مفاد میں ہیں۔ خاص طور پر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے کے حوالے سے یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ عمران خان نے امریکی حکام سے وعدہ کیا تھا کہ پاکستان اپنے ایٹمی پروگرام کو مزید ترقی نہیں دے گا۔

    اس کے ساتھ ساتھ کشمیر کے حوالے سے بھی عمران خان نے بھارتی حکومت کے ساتھ کئی معاملات پر بات کی تھی۔ کشمیر کو بھارت کے حوالے کرنے کے وعدے کے بعد اب امریکا یہ چاہتا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں کسی قسم کی کمی کی جائے تاکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر کم سے کم ہوں۔

    امریکی کانگریس کی پوزیشن: کیا ہے اس کے پیچھے؟

    امریکی کانگریس کے اراکین کی جانب سے عمران خان کے حق میں جاری مہم اور ان کے لیے خط لکھنا ایک نیا رجحان ہے جو واضح طور پر امریکی مفادات کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امریکا میں سیاست کے دونوں بڑے دھڑے (ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس) اس میں یکساں طور پر شامل ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔

    امریکا کے سیاستدانوں کا یہ متحرک رویہ اس بات کا غماز ہے کہ عمران خان کے ساتھ کوئی بڑا معاہدہ یا وعدہ ہے جس کی تکمیل کے لیے انہیں دوبارہ اقتدار میں لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ عمران خان کی رہائی کے پیچھے ایک بڑی اسٹریٹجک ضرورت ہے جو امریکا کے عالمی مفادات سے جڑی ہوئی ہے۔

    اگر ہم اس تمام معاملے کو ایک وسیع تر تناظر میں دیکھیں تو ہمیں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اور اس کے جغرافیائی مقام کا امریکی مفادات پر گہرا اثر ہے۔ عمران خان کی رہائی کی مہم دراصل اس بات کا حصہ ہے کہ امریکا چاہتا ہے کہ پاکستان اپنے ایٹمی پروگرام کو محدود کرے، اور اس کے لیے عمران خان کی قیادت میں پاکستان کو ایک نئی سمت میں ڈالنے کی ضرورت ہے۔

    لہذا، یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ امریکا کی سیاست میں عمران خان کا کردار ایک اہم پہلو بن چکا ہے، جس کے ذریعے امریکا اپنے جیو اسٹریٹیجک مفادات کی تکمیل کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ سلسلہ صرف پاکستان کے ایٹمی پروگرام تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے وسیع تر عالمی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

     

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleامریکا کو خطے میں پائیدار امن کیلئے مؤثر کردار ادا کرنا ہو گا، بیرسٹر سیف
    Next Article آسٹریلیا نے دوسرے ٹی 20 ميچ میں پاکستانی ٹیم کو 13 رنز سے ہرادیا
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    عمران خان کی حکومت: نعروں کی حکمرانی، عملی ناکامی

    جنوری 22, 2026

    ضابطہ جاتی اصلاحات ریاستی اختیار کو مضبوط بنانے کا ذریعہ

    جنوری 22, 2026

    صدر ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کا باقاعده اعلان کردیا، وزیراعظم شہبازشریف نے بھی دستخط کرديئے

    جنوری 22, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    Khyber News YouTube Channel
    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    عمران خان کی حکومت: نعروں کی حکمرانی، عملی ناکامی

    جنوری 22, 2026

    ضابطہ جاتی اصلاحات ریاستی اختیار کو مضبوط بنانے کا ذریعہ

    جنوری 22, 2026

    صدر ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کا باقاعده اعلان کردیا، وزیراعظم شہبازشریف نے بھی دستخط کرديئے

    جنوری 22, 2026

    بیرون ملک مقیم معروف ڈاکٹروں کے پرائویٹ کلینکس میں سادہ لوح مریضوں کو دھوکہ دیکر لوٹا جانے کا انکشاف۔۔۔

    جنوری 22, 2026

    امریکہ نے پشتونوں کی نسل کشی میں بنیادی کردار ادا کیا ھمارے مشران کے قتل اور ٹقافت کو ختم کرنے کیلئے ھرحربہ ازمایا۔۔ جمال شاہ۔۔

    جنوری 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.