انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے بھارتی چیف آف آرمی اسٹاف کے حالیہ انٹرویو میں بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی آرمی چیف نے ایک حالیہ انٹرویو میں اشتعال انگیز بیان دیا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ بھارتی آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان کو فیصلہ کرنا ہوگا وہ جغرافیہ اور تاریخ کا حصہ بننا چاہتا ہے یا نہیں، پاکستان پہلے ہی عالمی سطح پر ایک اہم ملک ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے کہا ہے کہ پاکستان ایک تسلیم شدہ ایٹمی طاقت ہے، پاکستان جنوبی ایشیا کے جغرافیے اور تاریخ کا ناقابلِ تردید حصہ ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی آرمی چیف کا اشتعال انگیز بیان ظاہر کرتا ہے بھارتی قیادت پاکستان کے وجود کے تصور کو قبول نہیں کر سکی، نہ ہی بھارتی قیادت 8 دہائیاں گزرنے کے باوجود درست اسباق سیکھ سکی ہے۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کا کہنا ہے کہ یہ متکبرانہ، جنگجوانہ، تنگ نظر ذہنیت بارہا جنوبی ایشیا کو جنگوں اور بحرانوں کی طرف دھکیلتی رہی ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایک خودمختار ایٹمی ہمسایہ ملک کو ’جغرافیے‘ سے مٹانے کی دھمکی نہ کوئی تزویراتی اشارہ ہے، نہ سفارتی دباؤ۔ ایسی دھمکی ذہنی دیوالیہ پن، جنون اور جنگ پسندی کی عکاس ہے۔ ذمے دار ایٹمی ریاستیں تحمل اور اسٹریٹیجک سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ذمے دار ایٹمی ریاستیں تہذیبی برتری کی زبان استعمال نہیں کرتیں، ہندوتوا سوچ کے برعکس پاکستان عالمی سطح پر ایک اہم ملک ہے، بھارت کا ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی میں ملوث ہونے کا ریکارڈ موجود ہے، بھارت علاقائی عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے سرحد پار ٹارگٹ کلنگز میں ملوث رہا ہے۔

