Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, ستمبر 5, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • انتظامی یونٹ بنیں گے، کوئی فرد، سیاسی جماعت اور نمائندہ روک نہیں سکتا، محسن نقوی کا دوٹوک اعلان
    • میجر جنرل فیصل نصیر نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر، نوٹی فکیشن جاری
    • نارووال میں اڈا سراج مندر گرائے جانے کا بھارتی دعویٰ جھوٹا ہے: ترجمان دفترِ خارجہ
    • پاکستان کی زرعی برآمدات میں اضافہ اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال
    • بلوچستان میں منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی، 2 سال میں 133 ارب روپے کی منشیات ضبط اور تلف کی گئی: وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی
    • پاکستان کا بندرگاہی نظام جدید اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن کے نئے دور میں داخل
    • پشاور میں مبینہ پولیس مقابلہ، نورے گینگ کے 3 مطلوب ملزمان ہلاک
    • بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سکیورٹی فورسز کے خفیہ اطلاع پر آپریشنز، 48 دہشت گرد ہلاک
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ٹریفک پولیس،القاعدہ اور میڈیا؟
    بلاگ ستمبر 4, 2024

    ٹریفک پولیس،القاعدہ اور میڈیا؟

    Facebook Twitter Email
    Traffic police and media
    Traffic police and media
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد(رشید آفاق) بہت پہلے میں نے ایک  نیوزسٹوری کی تھی کہ جب سے القاعدہ نے مسلمانوں کی خدمت شروع کی ہے،یا ان کے حقوق کے لئے آواز بلند کی ہے،کیا اس کی وجہ سے مسلمانوں کی تکالیف کم پڑ گئیں؟کشمیر،عراق،افغانستان اور فلسطین میں مسلمانوں پر مظالم کم ہوگئے ہیں؟اگر جواب نہیں میں ہے،اور مسلمانوں کے درد و تکالیف میں مزید اضافہ ہوا ہے، مسلمان پوری دنیا میں ذلیل و خوار ہورہے ہیں،پھر القاعدہ کو سوچنا چاہئے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے،اپنا راستہ اور طریقہ کار بدل دے،یتیم بچوں،بیواوں کی پرورش کرے،سی این این،بی بی سی کے معیار کا کوئی ادارہ بنائے جو مسلمانوں کے درد و تکالیف کو اجاگر کرے،وہ سٹوری القاعدہ کو بری لگی اور مجھے واجب القتل قرار دیدیا گیا،جس کی وجہ سے مجھے ملک چھوڑنا پڑا۔

    ہماری ٹریفک پولیس روز رکشوں اور موٹر سائیکل سواروں پر ہر چوک میں یلغار کرکے جرمانے اور چالان ہول سیل کی شکل میں دے رہی ہے(ہر بندہ روز اپنا ٹارگٹ پوری کرتاہے یہ الگ کہانی ہے)شاہراہوں،چوراہوں پر لوگوں کو پھول اور شربت دے رہی ہے،تعلیمی اداروں میں قوانین کی آگاہی کی مہمات سر کرہی ہے،لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پشاور میں اس اعلیٰ کارکردگی یا نمایاں طریقہ وارداتوں سے کیا پشاور میں ٹریفک کنٹرول ہوگئی؟ٹریفک کی روانی کا ازل سے شروع کردہ مسئلہ حل ہوا؟ڈرائیورز اور گاڑی مالکان پی ایچ ڈی کرگئے؟نہیں یہ جواب بھی نہیں میں ہی ہے بلکہ جو شعور،اخلاقیات اور قوانین کی آگاہی کی تعلیم ٹریفک پولیس کے اہلکار عموماَ َ کم پڑھے لکھے  رکشہ ڈرائیوروں کو دے رہی ہے،ان کی سب سے زیادہ ضرورت خود ٹریفک پولیس کے کئی نہیں بلکہ بیشتراہلکاروں کوہے،رکشہ ڈرائیوروں اور موٹر سائیکل سواروں کو نجانے کن ہدایات اور قوانین کی روشنی میں باقاعدہ  اسرائیلی تسلیم کرچکے ہیں،بعض  اہلکاروں کی فرعونیت،رعب دبدبے اور چنگیزیت کا پارہ تو یہاں تک پہنچ چکاہے کہ کسی سے فون پر بات کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں،بعض اہلکاروں سے بات کرتے وقت اگر بتایا جائے کہ ہمارا تعلق میڈیا سے ہے بس پھر تو مذکورہ ڈرائیور کو جس کو چالان دینے کے لئے روکاگیا ہو اسے اپنی کتاب کے آخری پنے کےآخری چالان دیکر نجانے وہ کونسے جنم کا غصہ نکالتے ہیں۔

    وہ اہلکار یہ نہیں سوچتے کہ یہ وہی میڈیا والا ہے جو تمہارے سینکڑوں عیبوں کو چھپاتے ہیں،تمہاری صومالیہ،ایتھوپیا پولیس جیسی کارکردگی کو بھی نیویارک پولیس کے ہم پلہ بناکر دنیا کے سامنے پیش کرتاہے،

    مجھے ذاتی طور پر اعتراف ہے کہ اس فورس میں آج بھی بہت قابل فخر اور قابل تحسین آفیسرز موجود ہیں جو اس فورس کی آن ہیں،لیکن نمرودوں کی تعداد میں بھی اس فورس میں کچھ زیادہ ہی اضافہ ہورہاہے،اس فورس کو اپنا کھویا ہوا مورال اور مقام اگر واپس حاصل کرناہے تو پھر ان کو آفیشلی بتایا جائےکہ اس شہر کے باسیوں،رکشہ ڈرائیوروں اور صحافیوں کو دشمن کی بجائے اس شہر کے مظلوم لوگ سمجھ کر ان سے ان کی بساط کے مطابق ڈیل کیا کریں۔

    گزشتہ دنوں ایک بہت ہی اعلیٰ ٹریفک پولیس آفیسر  مجھے مذاق مذاق میں کہہ گیا کہ جب تمہاری کوئی رپورٹ ہمارے گروپ میں شئیر ہوتی ہے تو اس پر ایسے کمینٹس بھی آتے ہیں کہ(دشمن)

    یہ رویہ ترک کرنا ہوگا؟

    ورنہ کیمرے لیکر کم از کم یہ تو کرسکتے ہیں کہ جن رکشہ ڈرائیوروں کو اپنا ٹارگٹ پورا کرنے کے لئے یہ حضرات چالان دیتے ہیں ان کے بچے اس دن کتنی ادھوری روٹی کھاتے ہیں،وہ اس شہر،پورے ملک اور آدھی دنیا کو دکھا،بتا اور سمجھا سکتے ہیں،

    ہم دشمن نہیں آپ کے دوست ہیں جو آپ کو بھائی سمجھ کر اپنی اصلاح کرنے کی تلقین کرتے ہیں وہ بھی مفت میں،

    اس شہر پر اور اہل شہر پر روز نئی نئی عذابیں نازل ہو رہے ہیں۔خدارا اپنے آپ کو ان عذابوں میں تو مت ڈالو،

    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleڈی آئی خان اور لکی مروت پر دہشتگردوں کا قبضہ ہے،مولانا فضل الرحمان
    Next Article لیفٹیننٹ کرنل خالد امیر کے اغوا میں ملوث انتہائی مطلوب دہشت گرد ہلاک
    Rashid Afaq
    • Website

    Related Posts

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    انتظامی یونٹ بنیں گے، کوئی فرد، سیاسی جماعت اور نمائندہ روک نہیں سکتا، محسن نقوی کا دوٹوک اعلان

    ستمبر 5, 2026

    میجر جنرل فیصل نصیر نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر، نوٹی فکیشن جاری

    ستمبر 4, 2026

    نارووال میں اڈا سراج مندر گرائے جانے کا بھارتی دعویٰ جھوٹا ہے: ترجمان دفترِ خارجہ

    ستمبر 4, 2026

    پاکستان کی زرعی برآمدات میں اضافہ اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال

    ستمبر 4, 2026

    بلوچستان میں منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی، 2 سال میں 133 ارب روپے کی منشیات ضبط اور تلف کی گئی: وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی

    ستمبر 4, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.