اسلام آباد (مبارک علی) پاکستان، ترکی اور مصر کی ثالثی میں ایران کے جوہری پروگرام پر اختلافات کم کرنے اور آبنائے ہرموز کی دوبارہ کھولنے کے لیے بات چیت جاری ہیں۔
اس سلسلے میں پاکستان ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کیلئے تیاری کر رہا ہے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کو اس سلسلے میں مکمل اعتماد حاصل ہے اور تمام فریقوں نے اسے موزوں مقام قرار دیا ہے۔
امریکی عہدیداروں نے واضح کیا ہے کہ سفارتی رفتار برقرار ہے۔ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ ’’بات چیت کا عمل رک نہیں گیا بلکہ مزید وقت دینے کے لیے سیز فائر کی توسیع پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔‘‘ یہ توسیع مذاکرات کو مکمل کرنے کے لیے ضروری سمجھی جا رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایرانی مذاکرات کار ’’بہت شدت سے ڈیل چاہتے ہیں‘‘ اور انہوں نے واشنگٹن سے رابطہ کیا ہے۔ ٹرمپ نے اسے ’’اچھی علامت‘‘ قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ جلد ہی کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
تاہم، یورینیم افزودگی کی حدوں پر اب بھی اختلافات موجود ہیں۔ ایرانی فریق اپنے جوہری حقوق پر زور دے رہا ہے جبکہ امریکہ سخت پابندیوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس کے باوجود دونوں جانب سے پیش رفت تسلیم کی جا رہی ہے۔ پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ’’چھوٹی چھوٹی کامیابیاں بڑے امن معاہدے کی بنیاد بن سکتی ہیں۔‘‘
یہ بات چیت نہ صرف علاقائی تناؤ کو کم کرنے بلکہ عالمی معیشت کو استحکام دینے کے لیے اہم ہے۔ ہرمز آبنائے کی بندش کی صورت میں عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی تھی، اس لیے اس کی دوبارہ بحالی سب کے لیے فائدہ مند ہو گی۔
پاکستان نے اپنے کردار کو غیر جانبدارانہ اور فعال رکھا ہے جبکہ ترکی اور مصر بھی مسلسل رابطے میں ہیں۔
ابھی تک کوئی حتمی شیڈول جاری نہیں کیا گیا، البتہ تمام تیاریاں مکمل ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اگر سیز فائر میں توسیع ہو گئی تو مذاکرات مزید دو سے تین دن چل سکتے ہیں۔
عالمی برادری اس پیشرفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کا دوسرا دور اس ہفتے اسلام آباد میں شروع ہونے کا امکان۔ بیک چینل رابطے جاری
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read

