پاکستان میں امریکی مشن نے گزشتہ روز امریکہ کی آزادی کی 250 سالہ سالگرہ منائی اور اس اہم سنگِ میل کے موقع پر آزادی، وقار اور حقِ خود ارادیت کے اُن اصولوں کو خراجِ تحسین پیش کیا، تقریب میں وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی خصوصی شرکت کی ۔
اسلام آباد: تقریب سےخطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نےحکومت اور عوام کی جانب سے صدر ٹرمپ، امریکی انتظامیہ اور عوام کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ امریکہ کی تاریخ امید اور روشن خیالی کی داستان ہے ۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بروقت مداخلت سے پچھلے سال پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی، صدر ٹرمپ کو ہمیشہ "امن کے داعی” کے طور پر یاد رکھا جائے گا ۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کا تعلق 8 دہائیوں پر محیط ہے، انسداد دہشت گردی، تجارت ، سرمایہ کاری کے شعبے میں بہترین تعلقات ہیں، قیام پاکستان کے بعد امریکا ان اولین ملکوں میں شامل تھا جس نے پاکستان کو تسلیم کیا ۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کے سبز انقلاب میں مدد دی ، ہزاروں پاکستانی گریجویٹ امریکا میں تربیت لے رہے ہیں، 10 لاکھ پاکستانی امریکا کو اپنا دوسرا گھر قرار دیتے ہیں، پاکستان کی لیبر فورس امریکا میں بہت اہمیت رکھتی ہے ۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پچھلے سال بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا، صدر ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کو رکوانے میں کردار ادا کیا ، صدر ٹرمپ کو ہمیشہ ایک امن کے داعی کے طور پر یاد رکھا جائے گا ۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مخلص ثالث کے طور پر کردار ادا کررہا ہے، اعتماد کے اظہار پر امریکا اور ایران کے شکرگزار ہیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک کوششوں کو بھی سراہتے ہیں، فیلڈ مارشل علاقائی امن اور استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کو آگے بڑھا رہے ہیں ۔

