Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, ستمبر 12, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • برمنگھم ٹیسٹ: رضا اللہ نے ڈیبیو پر تیز ترین پاکستانی نصف سنچری کا ریکارڈ بنا دیا
    • پشاور کے 45 نجی اسکولوں میں افغان بچوں کے داخلوں کی نشاندہی، کارروائی کی تیاری
    • وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے انتخاب کے خلاف درخواست 14 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر
    • تمپ میں سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، دہشت گردوں کا حملہ ناکام
    • پشاور میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، اہم کمانڈر سمیت 5 دہشت گرد ہلاک
    • توڑ پھوڑ کيس، پی ٹی آئی کے 8 ایم این ایز اور ایم پی ایز کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری، گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم
    • پاکستان میں ڈیجیٹل لین دین کرنے والوں کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز
    • خیبر؛ پولیس کی بڑی کارروائی، ایک ماہ قبل اغوا ہونے والا تاجر غار سے بازیاب
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف پرتشدد احتجاج، سیاسی بحران کی نئی لہر
    اہم خبریں ستمبر 10, 2025

    نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف پرتشدد احتجاج، سیاسی بحران کی نئی لہر

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد (مبارک علی) 9 ستمبر 2025 کو نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف احتجاج نے ملک کو گہرے سیاسی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ ہزاروں مظاہرین نے حکومتی بدعنوانی، ناقص طرزِ حکمرانی اور سوشل میڈیا پر پابندیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا جن میں زیادہ تر نوجوان جنہیں "جنریشن زی” کہا جاتا ہے شامل تھے۔ مظاہرے ابتدا میں پرامن تھے لیکن جلد ہی خونریز ہو گئے، جس کے نتیجے میں 19 افراد ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہوئے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس، واٹر کینن، ربڑ کی گولیاں، اور کہیں کہیں براہِ راست فائرنگ کی جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تنقید کی ہے۔
    احتجاج کی وجوہات
    حکومت نے 4 ستمبر 2025 کو فیس بک، انسٹاگرام، ایکس، یوٹیوب سمیت 26 سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کی تھی، بہانہ بنایا کہ ان پلیٹ فارمز نے نیپال میں رجسٹریشن نہیں کروائی۔ عوام نے اسے آزادیِ رائے پر حملہ قراردیا۔ نوجوانوں کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا ان کے لیے بدعنوانی بے نقاب کرنے اور اپنی آواز اٹھانے کا اہم ذریعہ ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز، جن میں سیاستدانوں کی عیاشیوں کوعام نیپالیوں کی مشکلات سے جوڑا گیا، نے غصے کو بھڑکایا۔ مظاہرین نے نعرے لگائے: "ہماری آواز دبائی نہیں جا سکتی” اور "بدعنوانی بند کرو، سوشل میڈیا نہیں۔”
    پرتشدد واقعات
    منگل کی صبح سے کھٹمنڈو کے نیو بنی، کلنکی، چھپاگاؤں، اور دیگر علاقوں میں مظاہرین نے سرکاری عمارات پر دھاوا بولا۔ مشتعل ہجوم نے وزیراعظم کے پی شرما اولی اور صدر رام چندر پاؤڈل کی رہائش گاہوں کو نذرِآتش کیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں مظاہرین صدر کی رہائش گاہ میں فرنیچر توڑتے اور املاک کو تباہ کرتے دکھائی دیے۔ وزیر توانائی دیپک کھڑکا، ڈپٹی وزیراعظم بشنو پاؤڈیل، اور سابق وزرائے اعظم پشپا کمل دہال (پرچنڈا) اور شیر بہادر دیوبا کے گھروں پر بھی حملے ہوئے۔ ایک ویڈیو میں مظاہرین تجوری لوٹ کر نوٹ ہوا میں اڑائے رہے ہیں، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔
    سیاسی نتائج
    شدید دباؤ کے بعد وزیراعظم کے پی شرما اولی نے 9 ستمبر کو استعفیٰ دے دیا جو جولائی 2024 سے چوتھی بار وزیراعظم منتخب ہوئے تھے، انکا کہنا ہے کہ "تشدد نیپال کے مفاد میں نہیں” اور مسائل کے حل کیلئےمکالمہ ہونا چائیے۔ وزیر داخلہ رمیش لیکھک نے بھی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دیا۔ اطلاعات ہیں کہ وزیراعظم کے پی شرما اولی دبئی فرار ہو گئے جبکہ دیگر وزراء کو فوجی بیرکوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ حکومت نے سوشل میڈیا پر پابندی ہٹالی ہے لیکن مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کا احتجاج بدعنوانی اور ناانصافی کے خلاف ہے اور جاری رہے گا۔
    حکومتی اقدامات اور مستقبل
    حکومت نے کھٹمنڈو، للیت پور، بھکتاپور، پوکھرا، اور دیگر شہروں میں کرفیو نافذ کیا، لیکن مظاہرے جاری رہے۔ فوج کی تعیناتی اور تحقیقات کے لیے کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا گیا، مگر عوامی غصہ کم نہ ہوا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ "جن زیڈ موومنٹ” نیپال کی تاریخ کا اہم موڑ ہے، جو بدعنوانی اور سماجی ناانصافیوں کے خلاف غصے کی عکاسی کرتی ہے۔ صدر پاؤڈل نے نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے مشاورت شروع کی ہے، لیکن سیاسی عدم استحکام کا خطرہ برقرار ہے۔ اگر عوامی مطالبات نظر انداز ہوئے، تو نیپال مزید بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ یہ تحریک نیپال کے نوجوانوں کی طاقت اور انصاف کے لیے عزم کی عکاسی کرتی ہے، لیکن ملک کا مستقبل غیر یقینی ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleخیبر سحر میں مینہ شمس اور چار ستاروں کی یادگار گفتگو، ناظرین محظوظ
    Next Article قطر پر اسرائیلی حملے کےخلاف پاکستان کا سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ
    Web Desk

    Related Posts

    برمنگھم ٹیسٹ: رضا اللہ نے ڈیبیو پر تیز ترین پاکستانی نصف سنچری کا ریکارڈ بنا دیا

    ستمبر 12, 2026

    پشاور کے 45 نجی اسکولوں میں افغان بچوں کے داخلوں کی نشاندہی، کارروائی کی تیاری

    ستمبر 12, 2026

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے انتخاب کے خلاف درخواست 14 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر

    ستمبر 12, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    برمنگھم ٹیسٹ: رضا اللہ نے ڈیبیو پر تیز ترین پاکستانی نصف سنچری کا ریکارڈ بنا دیا

    ستمبر 12, 2026

    پشاور کے 45 نجی اسکولوں میں افغان بچوں کے داخلوں کی نشاندہی، کارروائی کی تیاری

    ستمبر 12, 2026

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے انتخاب کے خلاف درخواست 14 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر

    ستمبر 12, 2026

    تمپ میں سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، دہشت گردوں کا حملہ ناکام

    ستمبر 11, 2026

    پشاور میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، اہم کمانڈر سمیت 5 دہشت گرد ہلاک

    ستمبر 10, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.