Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, جنوری 1, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • ٹانک میں امن جرگے کی کوششوں سے چار اہلکار رہا
    • ریسکیو 1122 کرک کی سال 2025 کی کارکردگی رپورٹ جاری
    • زہران ممدانی نے نیویارک کے پہلے مسلم میئر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا
    • پاکستان کا بھارت کے 260 میگا واٹ ڈلہاستی ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پر شدید تحفظات کا اظہار
    • 2026 شروع، خیبر نیٹ ورک کی جانب سے اہل وطن کو نیا سال مبارک
    • غیر جمہوری اور پرتشدد پالیسیوں کے نتیجے میں افغانستان کو شدید عالمی تنہائی کا سامنا
    • نئے سال پر اچھی خبر، حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی کا اعلان کردیا
    • آئی سی سی رینکنگ جاری، نعمان علی ٹیسٹ فارمیٹ میں پہلی پوزیشن کے قریب پہنچ گئے
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » خیبرپختونخوا کی نئی حکومت کو کیا چیلنجز درپیش ہیں
    بلاگ

    خیبرپختونخوا کی نئی حکومت کو کیا چیلنجز درپیش ہیں

    مارچ 6, 2024Updated:نومبر 11, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    What are the challenges facing the new government of Khyber Pakhtunkhwa
    Share
    Facebook Twitter Email
    کیا چیلنجز خیبرپختونخوا کی نئی حکومت کو درپیش ہیں.اس حوالے سے پی ٹی آئی رہنما اور سابق وزیر خزانہ خیبر پختونخوا تیمور سلیم جھگڑا نے کراس ٹاک کے میزبان وقاص شاہ سے بات چیت کی ہے
    اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے تین سالا اقتدار میں ایں این ایچ پی کی مد میں صوبے کو 104 ارب ملے تھے۔ لیکن پچھلے دو سال میں صرف 4 ارب روپے ملے ہیں۔جو کہ بہت کم ہیں۔انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کے انضمام کے بعد  قبائلی اضلاع کو ہر سال 100 روپے ملنے تھے ، عمران خان کی دور حکومت میں تین سال میں سیلری اور نان سیلری کی  مد میں پورے پیسے ملتے تھے جبکہ ترقیاتی بجٹ میں بھی  100 ارب روروپے ملے تھے لیکن پی ڈی ایم کی حکومت کے دو سال میں121 ارب روپے کے بجٹ میں صرف 6۶ ارب روپے ملے ہیں جبکہ  ترقیاتی بجٹ میں بہت کم پیسے ملے ہیں۔
    صوبے کے حوالے سے بات کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ آئندہ صوبے میں دو تین سال بہت مشکل ہوں گے کیوں کہ مرکز میں مینڈیٹ چور حکومت بیٹھی ہے۔ جو صوبے کو اس کا حق آسانی سے نہیں دے گئے۔مسلم لیگ ن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان میں مسلم لیگ ن نے صرف 17 سیٹیں حاصل کی ہے۔ جبکہ صوبے میں اپوزیشن 16 سیٹیں جیت چکی ہے لیکن انہیں 30مخصوص نشیتں مل گئی ہیں۔
    الیکشن کمیشن کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن مکمل طور پر پارٹی بن گئ ہے 2019 میں قبائلی اضلاع میں ہونے والے صوبائی الیکشن میں تین آزاد ارکان نے باپ پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور انہیں الیکشن کمیشن نے ایک مخصوص سیٹ دی لیکن اب وہی الیکشن کمیشن کہتی ہے کہ آپ لوگوں نے مخصوص نشستوں کیلئے لسٹ جمع نہیں کروائی تھی لہذٰا آپ کو یہ سیٹیں نہیں مل سکتی ہیں۔الیکشن کمیشن جب دھاندلی کیخلاف گئی تو خیبر پختونخوا کے ممبر نے میرے دلائل صرف اس بات پر سننے سے انکار کردئیے کہ جب آپ وزیر تھے تو آپ نے میرا کام نہیں کیا تھا۔
    صوبے میں قرضے پر کراس ٹاک کے میزبان وقاص شاہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب ہم حکومت چھوڑ کر جارہے تھے تو صوبے پر ٹوٹل قرضہ 360 ارب روپے تھا اور اسی سال ٹوٹل بجٹ 1300 ارب روپے تھا، قرضہ ٹوٹل بجٹ کا 28 فیصد بنتا ہے  پی ٹی آئی حکومت سے پہلے جب صوبے پر 100 ارب روپے قرض تھا تب بجٹ 130 روپے تھا۔  پنجاب میں قرضہ ٹوٹل بجٹ کا 45 فیصد بنتا ہے۔  انہوں نے کہا کہ صوبے پر موجودہ قرضہ 560 ارب روپے ہیں جس میں دو سو ارب پی ڈی ایم کی دور حکومت میں بڑھے ہیں۔
    ووٹوں کے حوالے سے جب ان سے بات کی گئی تو تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ ہمیں ووٹ نظریے اور صحت کارڈ پر ملے ہیں۔ صحت کا رڈ کے مہینے کا خرچہ 2.5 ارب روپے ہیں۔ صوبے کا سالانہ ٹوٹل خرچہ گیارہ سو ارب روپے ہیں جس میں صحت کارڈ کا28، 30 ارب روپے بنتا ہے۔ صحت کارڈ پر تنقید کرنےوالی بیوروکریسی کے افسران کو  مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے میں ٹوٹل ملازمین 6 لاکھ ہیں جس کی تنخواہوں میں نگران حکومت نے 110 ارب روپے کا اضافہ کیا جبکہ 4 کروڑ کی آبادی میں صحت پر سالانہ تیس ارب روپے خرچ ہورہے ہیں اور اسی نگران حکومت نے ایک مہینے میں 20 ارب روپے کا آٹا تقسیم کیا ہے۔مزید بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نگران حکومت  پی ڈی ایم کی جماعتوں کا حصہ تھی۔ہر پارٹی کے ممبران نگران حکومت میں شامل رہے۔
    انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کیخلاف ہر قسم کے حربے کا استعمال کیا گیا، نہ ہمیں کوئی کمپئین کرنے دی گئی، نہ ہی ہمیں کوئی بینر لگانے دئیے گئے، اس کے باوجود مخالفین کو ہر حلقے میں تاریخی شکست ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے 25116 ووٹ تھے جو ٹوٹل 63 فیصد ووٹ بنتے ہیں اور پانچ ویں نمبر پر آنے والے کے 1616 ووٹ والے 25116 ووٹ دیکر جیتوایا۔ انہوں نے کہا کہ ٹوٹل 66 پولنگ اسٹیشن میں سے 63 پولنگ اسٹیشن پر ٹمپرنگ ہوئی ہے۔  ڈی سی اور ایس ایس پی آپریشن پشاور نے ہمارے ساتھ دھاندلی کی ہے۔  انہوں نے کہا کہ ریٹرنگ آفسر  نے الیکشن کمیشن کے سامنے  ریکارڈ پر جھوٹ بولا کہ گنتی تمام امیدواروں کے سامنے ہوئی اگرچے کمروں کی ریکارڈنگ موجود ہے کہ ہمیں اندر نہیں جانے دیا گیا، ہم نے دوبارہ گنتی کی درخواست دی لیکن ہماری درخواست نہیں مانی گئی اگرچے مانیٹرنگ افسران نے کہا کہ گنتی امیدواروں کے سامنے نہیں کی گئ ہے۔ آخر میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پشاو کے آٹھ حلقوں پرآٹھ مختلف ریٹرنگ افسران کے فیصلے کے ڈرافٹ ایک جیسے ہی ہیں۔
    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleمخصوص نشستوں:منتخب اراکین کو حلف اٹھانے سے روک دیاگیا
    Next Article نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف سے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی ملاقات
    Mahnoor

    Related Posts

    بانی پی ٹی آئی کے رہا نہ ہونے کے پیچھے وجوہات کیا ہیں ؟

    دسمبر 30, 2025

    اسرائیل نے صومالی لینڈ کو آزاد ریاست تسلیم کر کے نیا تنازع کھڑا کر دیا

    دسمبر 28, 2025

    شفیع اللہ گنڈاپور اور ایس ایس پی آپریشنز!

    نومبر 7, 2025
    Leave A Reply Cancel Reply

    Khyber News YouTube Channel
    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    ٹانک میں امن جرگے کی کوششوں سے چار اہلکار رہا

    جنوری 1, 2026

    ریسکیو 1122 کرک کی سال 2025 کی کارکردگی رپورٹ جاری

    جنوری 1, 2026

    زہران ممدانی نے نیویارک کے پہلے مسلم میئر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا

    جنوری 1, 2026

    پاکستان کا بھارت کے 260 میگا واٹ ڈلہاستی ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پر شدید تحفظات کا اظہار

    جنوری 1, 2026

    2026 شروع، خیبر نیٹ ورک کی جانب سے اہل وطن کو نیا سال مبارک

    جنوری 1, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.