Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, اکتوبر 17, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں شاندار پاسنگ آؤٹ پریڈ کا انعقاد، کیڈٹس وطن عزیز کے دفاع کے لیے پُرعزم
    • بلوچستان کے مختلف اضلاع میں ترقیاتی کام تیزی سے جاری، نصیر آباد میں 74 کروڑ سے زائد لاگت کے 78 منصوبے مکمل
    • دالبندین میں فورسز کا کامیاب آپریشن، 2 مطلوب دہشتگرد ہلاک
    • گورنر خیبرپختونخوا کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ نے سکول واقعے کے شہداء کے لواحقین میں امدادی چیک تقسیم کر دیے
    • پاک چین مشترکہ فوجی مشق قراقرم 2026 سنکیانگ میں جاری
    • اپر کرم اور غوز گڑھی میں افغان طالبان کی بلااشتعال فائرنگ، پاک فوج کا بھرپور جواب
    • خیبرپختونخوا میں خستہ حال سرکاری سکول، سابقہ حکومت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت
    • سی ٹی ڈی اور سکیورٹی فورسزکا لکی مروت میں آپریشن،کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ ہلاک
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • خاص خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » جب میں مر رہا تھا!
    بلاگ مئی 4, 2025

    جب میں مر رہا تھا!

    Facebook Twitter Email
    When I was dying
    اُنہوں نے اپنے ہی گھر میں، اپنی اولاد کے درمیان، سکون سے آخری سانس لی اور میں… جیسے اس دن مر گیا ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    آفاقیات

    پشاور سے رشید آفاق کی خصوصی تحریر: ۔

    یہ ایک سال، چار مہینے اور تین دن پہلے کی بات ہے۔ اُس دن میں صبح معمول سے بھی پہلے جاگ گیا۔ اگرچہ میں ہمیشہ خود ہی جاگتا ہوں اور مجھے یاد نہیں کہ زندگی میں کبھی کسی نے مجھے جگایا ہو، مگر اُس دن کی صبح کچھ الگ تھی۔ دل گواہی دے رہا تھا کہ کچھ غیرمعمولی ہونے والا ہے، جیسے قیامت آ جائے یا قبر میں اُترنے کا وقت ہو۔

    حسبِ معمول میں نے چرند و پرند کے لیے خوراک اور پانی رکھا، مگر دل بےحد بوجھل تھا۔ سوچا دفتر جاؤں یا نہیں؟ بالآخر دفتر فون کر کے چھٹی لے لی۔ اچانک پورے جسم میں درد کی ایک لہر سی اٹھی، جو جیسے مختلف زاویوں سے آ کر دل میں اُترتی رہی۔ سمجھ نہ آیا کہ کیا ہو رہا ہے۔ کچھ سوچے بغیر ہلکا سا ناشتہ کیا اور سیدھا ہسپتال چلا گیا،جہاں امی جی پچھلے تیرہ دنوں سے داخل تھیں۔

    جب ان سے ملا تو ہمیشہ کی طرح مسکرا کر میرا استقبال کیا۔ کہنے لگیں: “آگئے زامنی؟” میں نے ان کا ماتھا چوما اور کہا: “ہاں، آج سارا دن تمہارے ساتھ ہی رہوں گا۔” انہوں نے کہا: “نہیں، تم دفتر جاؤ۔” مگر میں نے انکار کیا۔

    دو سال پہلے جب ہم نے انہیں ایل آر ایچ میں داخل کیا تھا، تو ڈسچارج کے وقت انہوں نے کہا تھا: “ان دنوں میں میں اپنی موت کی دعا کرتی رہی۔” میں نے حیرت سے پوچھا: “ایسا کیوں؟” بولیں: “جب تم دفتر سے تھکے ہارے میرے لیے آتے، تو میرا دل کرتا کہ مر جاؤں، تاکہ تمہیں یہ تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔”

    وہ واقعی ایک خوددار عورت تھیں۔ اُس دن ڈاکٹروں نے کہا کہ امی کو شام تک گھر بھیجا جا سکتا ہے۔ ہم سب بہت خوش ہوئے۔ عزیز جان صدقے کے لیے بکرے لے آئے،لیکن پھر اسی ڈاکٹر نے کہا کہ نہیں تین چار دن اسے مزید ہسپتال میں رہنا ہوگا،ہمارے لئے یہ مشکل تھا کہ اب اسے کون بتائیگا کہ مزید کچھ دن یہاں رہینگے،ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ظفر آفریدی کو میں نے صورتحال بتائی تو انہوں نے دس بارہ ڈاکٹروں کو بلایا، وہ خود بھی آگئے پھر ڈاکٹروں کی مشاورت سے ہم اسے گھر لائے،راستے میں میری بیوی نے بتایا کہ دوائی بھی ساتھ کسی میڈیکل سٹور سے لے لو،میں نے کہا کہ وہ بعد میں،میں گھر سے آکر لے لونگا میں نہیں چاہتا کہ وہ ایمبولینس میں انتظار کریں،

    جب شام کو انہیں گھر لایا گیا تو گھر کا ہر فرد خوشی سے جھوم اٹھا۔ پوتے، پوتیاں، نواسے، نواسیاں، سب سے ملیں۔ میں نے انہیں اپنے ہاتھوں سے دوا اور کھانا دیا۔ وہ بولیں: “تم اپنے کمرے میں جا کر آرام کرو، سارا دن تھکے ہوئے ہو۔”

    رات دیر تک میں ان کے ساتھ بیٹھا رہا۔ ساڑھے چار بجے انہوں نے میرے تیسرے بھائی گوہر جان کو کہا کہ جا کر سو جاؤ۔ جب وہ نہ مانے، تو انہیں غصے سے کہا: “باہر جاؤ اور سو جاؤ۔” گویا انہیں معلوم تھا کہ وہ آخری لمحے میں ہیں، اور وہ نہیں چاہتی تھیں کہ گوہر جان اُن کے سامنے یہ منظر دیکھے۔

    گوہر جان بعد میں کہتا تھا کہ وہ کمرے کے دروازے کے قریب ہی بیٹھا رہا۔ چند منٹ تک وہ کلمہ دہراتی رہیں اور پھر خاموش ہو گئیں۔

    جب میں دوڑ کر اُن کے کمرے میں گیا، تو ان کی روح پرواز کر چکی تھی،
    پھر اگلا مرحلہ مجھے بتانے کا تھا،ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ اگر ان کی منہ یا ناک سے خون بہنا شروع ہوجائے تو پھر ہسپتال لانا ورنہ ایک ہفتے کے بعد ہی لانا،
    میری ایک سسٹر نے آکر مجھے بتایا کہ عزیز جان تمہیں ایک منٹ میں نیچے بلارہاہے اور میں آدھے منٹ میں امی جان کے کمرے میں پہنچا،مجھے لگا کہ وہ تکلیف میں ہیں لیکن پھر اچانک ان کا رنگ مجھے بہت پیلا لگا ان کی جسم کو ہاتھ لگایا تو وہ بہت ٹھنڈا تھا اور مجھے ایسا لگا جیسے جنوری کے اس مہینے میں کسی نے مجھے ہمالیہ میں گرایا ہے،میرا وجود سن ہوگیا،
    مجھے ایسا لگا جیسے کسی نے مجھے جہنم میں دھکیل دیا ہو، یا جیسے میرے جسم میں آگ بھر دی ہو۔ میں ان کی چارپائی کے ساتھ گر گیا۔ تب جانا کہ وقت سے پہلے قیامت کیسے آتی ہے۔

    میں یقین ہی نہیں کر پا رہا تھا کہ وہ ہستی، جس نے مجھے زندگی دی، جینا سکھایا،اب اس دنیا میں نہیں رہی۔

    وہ خوش نصیب تھیں کہ اُن کے تمام بچے اور عزیز اُن کے ساتھ تھے۔ اُنہوں نے اپنے ہی گھر میں، اپنی اولاد کے درمیان، سکون سے آخری سانس لی۔ اور میں… جیسے اس دن مر گیا۔

    لوگ تعزیت کے لیے آتے رہے، دعائیں دیتے رہے، مگر میرے اندر کا انسان شاید اسی دن دفن ہو چکا تھا۔ اب کبھی کبھی لگتا ہے کہ میں سانس تو لے رہا ہوں،لیکن صرف سانس لینا ہی تو زندگی نہیں ہے،سانس تو درخت بھی لیتے ہیں، اپنی اپنی جگہ منجمد کھڑے۔ میں بھی ویسا ہی ہوں۔

    زندگی اور اس سے جڑی ساری رعنائیاں ہم سے رخصت ہو چکی ہیں۔
    اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ امین

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleترک بحریہ کا جہاز خیر سگالی دورے پر کراچی بندرگاہ پہنچ گیا
    Next Article بھارتی جارحیت،پاکستان کا اقوام متحدہ سےباضابطہ رجوع کرنے کا فیصلہ
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    خیبرپختونخوا میں سیاسی و آئینی کشمکش: گورنر راج اور ایمرجنسی میں فرق اور صدر مملکت کے اختیارات!

    اکتوبر 5, 2026

    جب عوامی آوازیں دبتی ہیں، تو ریاستیں لرزتی ہیں. تحریر: قریش خٹک

    ستمبر 22, 2026

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں شاندار پاسنگ آؤٹ پریڈ کا انعقاد، کیڈٹس وطن عزیز کے دفاع کے لیے پُرعزم

    اکتوبر 17, 2026

    بلوچستان کے مختلف اضلاع میں ترقیاتی کام تیزی سے جاری، نصیر آباد میں 74 کروڑ سے زائد لاگت کے 78 منصوبے مکمل

    اکتوبر 17, 2026

    دالبندین میں فورسز کا کامیاب آپریشن، 2 مطلوب دہشتگرد ہلاک

    اکتوبر 17, 2026

    گورنر خیبرپختونخوا کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ نے سکول واقعے کے شہداء کے لواحقین میں امدادی چیک تقسیم کر دیے

    اکتوبر 17, 2026

    پاک چین مشترکہ فوجی مشق قراقرم 2026 سنکیانگ میں جاری

    اکتوبر 17, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.