Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, فروری 16, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاکستان کی سری لنکن پولیس افسران کو نیشنل پولیس اکیڈمی میں ٹریننگ کی پیشکش
    • افسوس ہے کہ خیبرپختونخوا کے بچے پتھر کے زمانے میں رہتے ہیں، مریم نواز
    • بنوں: تھانہ میریان کے باہر بم دھماکہ، 2 افراد جاں بحق، 20 شدید زخمی
    • آزاد کشمیر میں بڑی تبدیلی،کیپٹن (ر) لیاقت علی نئے آئی جی تعینات، نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔
    • ضلع ٹانک گومل میں ایف سی ساؤتھ کی پوسٹوں پر مبینہ کواڈکاپٹر حملہ، دو جوان شہید
    • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، انڈیکس 4936 پوائنٹس گر گئی
    • حکومت نے پیٹروليم مصنوعات کے نرخ میں بڑا اضافہ کردیا، نوٹیفکیشن جاری
    • پی ٹی آئی احتجاج کے سبب وفاقی وزیر امیر مقام صوابی موٹروے پر 8گھنٹے سے زائد پھنسے رہے، بطور احتجاج راستوں کی بندش پر شدید تنقید
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی ترقی میں بڑی رکاوٹ کیوں؟
    خیبرپختونخوا

    تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی ترقی میں بڑی رکاوٹ کیوں؟

    دسمبر 19, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی ترقی میں بڑی رکاوٹ کیوں؟
    Share
    Facebook Twitter Email

    معتبر ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا (کے پی) کے صحت کے شعبے میں سالانہ تقریباً 44 ارب روپے کی کرپشن کی جاتی ہے، جو صوبے میں شدید طرزِ حکمرانی کے مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔ اسی طرح کی بدانتظامی دیگر محکموں، جیسے تعلیم میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

    تحریک انصاف کے خیبرپختونخوا میں اقتدار میں آنے کے بعد کوئی قابلِ ذکر میگا منصوبہ شروع نہیں کیا گیا۔ صحت کارڈ جیسے منصوبوں کو بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن سوات موٹروے اور ہزارہ موٹروے جیسے منصوبے سابقہ حکومتوں کے شروع کردہ ہیں، جبکہ موجودہ حکومت نے محض افتتاح کر کے ان کا کریڈٹ لیا۔ اسی طرح، بس ریپڈ ٹرانزٹ (BRT) منصوبہ قرضوں پر بنایا گیا اور اب اس پر سالانہ 5 سے 6 ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے، جس سے خزانے پر مزید بوجھ بڑھ گیا ہے۔ حکومت نے بڑی مقدار میں قرضے تو لیے لیکن کوئی ایسا منصوبہ شروع نہیں کیا جو آمدنی میں اضافے کا باعث بن سکے۔ مثال کے طور پر سیاحت کے منصوبوں کے لیے حاصل کیے گئے قرضے بدانتظامی کی نذر ہو گئے، اور یہ منصوبے ابھی تک مکمل نہ ہو سکے۔
    بڑھتا ہوا قرض کا بوجھ
    سرکاری دستاویزات کے مطابق خیبرپختونخوا کا موجودہ قرضہ 632 ارب روپے ہے، جس کا 70 فیصد تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں لیا گیا۔ دسمبر تک یہ قرض 725 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ ماہرین کو خدشہ ہے کہ یہ قرض 2030 تک 3.2 کھرب روپے سے تجاوز کر جائے گا۔ اس صورتحال کے باوجود تحریک انصاف کے مالی مشیر مظمل اسلم کا کہنا ہے کہ یہ قرضے کم شرح سود پر حاصل کیے گئے ہیں، اور اگر وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کو بجلی کے منافع اور پانی کے بقایا جات ادا کر دے تو یہ مالی بحران کم ہو سکتا ہے۔
    کرپشن اور بدانتظامی
    ناقدین کا کہنا ہے کہ صوبے میں جاری کرپشن اور انتظامی بدحالی نے مسائل کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ تحریک انصاف کے اندرونی رہنما، جیسے شیر افضل مروت، نے بھی اپنی ہی جماعت پر کرپشن کے الزامات لگائے ہیں۔ اسی طرح شکیل خان جیسے رہنماؤں کے استعفے اور وزیراعلیٰ کے بھائی پر لگنے والے الزامات ان مسائل کو مزید ہوا دیتے ہیں
    معاشی حکمت عملی کا فقدان
    معاشی ماہرین، جیسے ڈاکٹر فرحان سید، کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے جامع قیادت اور فوکَسڈ پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ صوبے میں سیاحت، جنگلات، بارڈر ٹریڈ اور معدنیات جیسے شعبوں میں بے پناہ مواقع موجود ہیں جو خاطر خواہ آمدنی پیدا کر سکتے ہیں، لیکن سیکیورٹی خدشات اور بدانتظامی کی وجہ سے سرمایہ کار دلچسپی نہیں لے رہے۔
    خیبرپختونخوا کی ریونیو اتھارٹی بھی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی ہے، جو سالانہ صرف 70 سے 80 ارب روپے کا ریونیو جمع کرتی ہے جبکہ پنجاب کی ریونیو اتھارٹی 600 ارب روپے سالانہ جمع کرتی ہے۔
    وفاقی اور صوبائی چیلنجز
    سینئر صحافی محمود جان بابر کے مطابق ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر کی وجہ سے خیبرپختونخوا کے قرضے مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نہ تو موجودہ منصوبے برقرار رکھ پا رہی ہے اور نہ ہی نئے منصوبے شروع کر رہی ہے، جس کی بڑی وجہ انتظامی ناکامی اور سیکیورٹی مسائل ہیں۔ مزید برآں، سیاسی بیانات اور غیر سنجیدہ رویے نے گورننس کو پسِ پشت ڈال دیا ہے، جس سے ترقی کا عمل رکا ہوا ہے۔
    نتیجہ
    خیبرپختونخوا کا معاشی بحران کرپشن، بدانتظامی اور آمدنی بڑھانے میں ناکامی کا نتیجہ ہے۔ جب تک قیادت فیصلہ کن اقدامات نہیں کرتی اور ترجیحات کو واضح طور پر تبدیل نہیں کرتی، صوبہ مزید مالی مشکلات کا شکار ہوتا رہے گا اور ترقی کی راہ میں رکاوٹیں برقرار رہیں گی۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleسی پیک ورکشاپ میں شرکت کیلئے پاکستانی وفد چین پہنچ گیا
    Next Article تحریک انصاف کے ہاتھوں زخمی ہونے والا پنجاب رینجرز کا ایک اور اہلکار شہید
    Saifullah
    • Website

    Related Posts

    افسوس ہے کہ خیبرپختونخوا کے بچے پتھر کے زمانے میں رہتے ہیں، مریم نواز

    فروری 16, 2026

    بنوں: تھانہ میریان کے باہر بم دھماکہ، 2 افراد جاں بحق، 20 شدید زخمی

    فروری 16, 2026

    ضلع ٹانک گومل میں ایف سی ساؤتھ کی پوسٹوں پر مبینہ کواڈکاپٹر حملہ، دو جوان شہید

    فروری 16, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاکستان کی سری لنکن پولیس افسران کو نیشنل پولیس اکیڈمی میں ٹریننگ کی پیشکش

    فروری 16, 2026

    افسوس ہے کہ خیبرپختونخوا کے بچے پتھر کے زمانے میں رہتے ہیں، مریم نواز

    فروری 16, 2026

    بنوں: تھانہ میریان کے باہر بم دھماکہ، 2 افراد جاں بحق، 20 شدید زخمی

    فروری 16, 2026

    آزاد کشمیر میں بڑی تبدیلی،کیپٹن (ر) لیاقت علی نئے آئی جی تعینات، نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔

    فروری 16, 2026

    ضلع ٹانک گومل میں ایف سی ساؤتھ کی پوسٹوں پر مبینہ کواڈکاپٹر حملہ، دو جوان شہید

    فروری 16, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.