Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, جون 11, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • اندرونی اور بیرونی چیلنجز کے باوجود ملکی معیشت نے بہتر کارکردگی دکھائی، اقتصادی سروے پیش
    • معروف جریدے "پالیسی جنرل” نے بھارت افغانستان گٹھ جوڑ کا بھانڈا پھوڑ دیا
    • مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثہ: شہداء کی نمازِ جنازہ ادا، جسدِ خاکی آبائی علاقوں کو روانہ
    • فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں سے اہلخانہ کا اظہارِ لاتعلقی
    • پانی کو سیاسی دباؤ یا ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں،دفترِ خارجہ
    • شفافیت اور مؤثر حکمرانی کی جانب اہم پیش رفت، پاور سیکٹر میں جدید ڈیٹا گورننس کونسل کا قیام
    • فتنہ الخوارج اور افغانستان کے درمیان روابط، مہمند میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی
    • وزیراعظم شہبازشریف کے حکم پر خیبرپختونخوا کو گندم کی فراہمی کی ہدایت
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی ترقی میں بڑی رکاوٹ کیوں؟
    خیبرپختونخوا

    تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی ترقی میں بڑی رکاوٹ کیوں؟

    دسمبر 19, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی ترقی میں بڑی رکاوٹ کیوں؟
    Share
    Facebook Twitter Email

    معتبر ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا (کے پی) کے صحت کے شعبے میں سالانہ تقریباً 44 ارب روپے کی کرپشن کی جاتی ہے، جو صوبے میں شدید طرزِ حکمرانی کے مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔ اسی طرح کی بدانتظامی دیگر محکموں، جیسے تعلیم میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

    تحریک انصاف کے خیبرپختونخوا میں اقتدار میں آنے کے بعد کوئی قابلِ ذکر میگا منصوبہ شروع نہیں کیا گیا۔ صحت کارڈ جیسے منصوبوں کو بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن سوات موٹروے اور ہزارہ موٹروے جیسے منصوبے سابقہ حکومتوں کے شروع کردہ ہیں، جبکہ موجودہ حکومت نے محض افتتاح کر کے ان کا کریڈٹ لیا۔ اسی طرح، بس ریپڈ ٹرانزٹ (BRT) منصوبہ قرضوں پر بنایا گیا اور اب اس پر سالانہ 5 سے 6 ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے، جس سے خزانے پر مزید بوجھ بڑھ گیا ہے۔ حکومت نے بڑی مقدار میں قرضے تو لیے لیکن کوئی ایسا منصوبہ شروع نہیں کیا جو آمدنی میں اضافے کا باعث بن سکے۔ مثال کے طور پر سیاحت کے منصوبوں کے لیے حاصل کیے گئے قرضے بدانتظامی کی نذر ہو گئے، اور یہ منصوبے ابھی تک مکمل نہ ہو سکے۔
    بڑھتا ہوا قرض کا بوجھ
    سرکاری دستاویزات کے مطابق خیبرپختونخوا کا موجودہ قرضہ 632 ارب روپے ہے، جس کا 70 فیصد تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں لیا گیا۔ دسمبر تک یہ قرض 725 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ ماہرین کو خدشہ ہے کہ یہ قرض 2030 تک 3.2 کھرب روپے سے تجاوز کر جائے گا۔ اس صورتحال کے باوجود تحریک انصاف کے مالی مشیر مظمل اسلم کا کہنا ہے کہ یہ قرضے کم شرح سود پر حاصل کیے گئے ہیں، اور اگر وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کو بجلی کے منافع اور پانی کے بقایا جات ادا کر دے تو یہ مالی بحران کم ہو سکتا ہے۔
    کرپشن اور بدانتظامی
    ناقدین کا کہنا ہے کہ صوبے میں جاری کرپشن اور انتظامی بدحالی نے مسائل کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ تحریک انصاف کے اندرونی رہنما، جیسے شیر افضل مروت، نے بھی اپنی ہی جماعت پر کرپشن کے الزامات لگائے ہیں۔ اسی طرح شکیل خان جیسے رہنماؤں کے استعفے اور وزیراعلیٰ کے بھائی پر لگنے والے الزامات ان مسائل کو مزید ہوا دیتے ہیں
    معاشی حکمت عملی کا فقدان
    معاشی ماہرین، جیسے ڈاکٹر فرحان سید، کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے جامع قیادت اور فوکَسڈ پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ صوبے میں سیاحت، جنگلات، بارڈر ٹریڈ اور معدنیات جیسے شعبوں میں بے پناہ مواقع موجود ہیں جو خاطر خواہ آمدنی پیدا کر سکتے ہیں، لیکن سیکیورٹی خدشات اور بدانتظامی کی وجہ سے سرمایہ کار دلچسپی نہیں لے رہے۔
    خیبرپختونخوا کی ریونیو اتھارٹی بھی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی ہے، جو سالانہ صرف 70 سے 80 ارب روپے کا ریونیو جمع کرتی ہے جبکہ پنجاب کی ریونیو اتھارٹی 600 ارب روپے سالانہ جمع کرتی ہے۔
    وفاقی اور صوبائی چیلنجز
    سینئر صحافی محمود جان بابر کے مطابق ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر کی وجہ سے خیبرپختونخوا کے قرضے مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نہ تو موجودہ منصوبے برقرار رکھ پا رہی ہے اور نہ ہی نئے منصوبے شروع کر رہی ہے، جس کی بڑی وجہ انتظامی ناکامی اور سیکیورٹی مسائل ہیں۔ مزید برآں، سیاسی بیانات اور غیر سنجیدہ رویے نے گورننس کو پسِ پشت ڈال دیا ہے، جس سے ترقی کا عمل رکا ہوا ہے۔
    نتیجہ
    خیبرپختونخوا کا معاشی بحران کرپشن، بدانتظامی اور آمدنی بڑھانے میں ناکامی کا نتیجہ ہے۔ جب تک قیادت فیصلہ کن اقدامات نہیں کرتی اور ترجیحات کو واضح طور پر تبدیل نہیں کرتی، صوبہ مزید مالی مشکلات کا شکار ہوتا رہے گا اور ترقی کی راہ میں رکاوٹیں برقرار رہیں گی۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleسی پیک ورکشاپ میں شرکت کیلئے پاکستانی وفد چین پہنچ گیا
    Next Article تحریک انصاف کے ہاتھوں زخمی ہونے والا پنجاب رینجرز کا ایک اور اہلکار شہید
    Saifullah
    • Website

    Related Posts

    عیدالاضحیٰ کے بعد بھی افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل دوبارہ شروع نہ ہو سکا

    جون 10, 2026

    سوات میں نجی سکول کی بس الٹ گئی،ایک طالبہ جاں بحق، 20 سے زائد زخمی

    جون 9, 2026

    لوئر دیر کے پہاڑی علاقے دانوہ میں لگی آگ پر مکمل قابو پالیا گیا

    جون 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    اندرونی اور بیرونی چیلنجز کے باوجود ملکی معیشت نے بہتر کارکردگی دکھائی، اقتصادی سروے پیش

    جون 11, 2026

    معروف جریدے "پالیسی جنرل” نے بھارت افغانستان گٹھ جوڑ کا بھانڈا پھوڑ دیا

    جون 11, 2026

    مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثہ: شہداء کی نمازِ جنازہ ادا، جسدِ خاکی آبائی علاقوں کو روانہ

    جون 11, 2026

    فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں سے اہلخانہ کا اظہارِ لاتعلقی

    جون 11, 2026

    پانی کو سیاسی دباؤ یا ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں،دفترِ خارجہ

    جون 11, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.