Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, مئی 16, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • وزیراعظم شہباز شریف کا پاکستان ا ور چین کے درمیان کاروباری سطح پر بڑھتے ہوئے تعاون پر اظہارِ اطمینان
    • پاکستانی برآمدکنندگان کیلئے نئی عالمی منڈیوں تک رسائی حکومت کی ترجیح، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان
    • وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی موٹروے منصوبوں پر کام تیز کرنے اور ادھورے منصوبے مکمل کرنے کی ہدایت
    • مشرق وسطیٰ کےتنازعہ کے دیرپا اور پُرامن حل کیلئے پر امید ہیں، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی
    • ایران کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، وطن کے دفاع کیلئے لڑنے کیلئے بھی تیار ہیں، عراقچی
    • قومی کرکٹرز کے نئے سینٹرل کنٹریکٹ میں بڑے پیمانے پر ردو بدل کا امکان
    • اپر کوہستان اسکینڈل کے بعد سی اینڈ ڈبلیو میں بھی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف
    • لنڈی کوتل میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، سی ٹی ڈی اہلکار عاصم شینواری شہید
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی ترقی میں بڑی رکاوٹ کیوں؟
    خیبرپختونخوا

    تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی ترقی میں بڑی رکاوٹ کیوں؟

    دسمبر 19, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی ترقی میں بڑی رکاوٹ کیوں؟
    Share
    Facebook Twitter Email

    معتبر ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا (کے پی) کے صحت کے شعبے میں سالانہ تقریباً 44 ارب روپے کی کرپشن کی جاتی ہے، جو صوبے میں شدید طرزِ حکمرانی کے مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔ اسی طرح کی بدانتظامی دیگر محکموں، جیسے تعلیم میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

    تحریک انصاف کے خیبرپختونخوا میں اقتدار میں آنے کے بعد کوئی قابلِ ذکر میگا منصوبہ شروع نہیں کیا گیا۔ صحت کارڈ جیسے منصوبوں کو بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن سوات موٹروے اور ہزارہ موٹروے جیسے منصوبے سابقہ حکومتوں کے شروع کردہ ہیں، جبکہ موجودہ حکومت نے محض افتتاح کر کے ان کا کریڈٹ لیا۔ اسی طرح، بس ریپڈ ٹرانزٹ (BRT) منصوبہ قرضوں پر بنایا گیا اور اب اس پر سالانہ 5 سے 6 ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے، جس سے خزانے پر مزید بوجھ بڑھ گیا ہے۔ حکومت نے بڑی مقدار میں قرضے تو لیے لیکن کوئی ایسا منصوبہ شروع نہیں کیا جو آمدنی میں اضافے کا باعث بن سکے۔ مثال کے طور پر سیاحت کے منصوبوں کے لیے حاصل کیے گئے قرضے بدانتظامی کی نذر ہو گئے، اور یہ منصوبے ابھی تک مکمل نہ ہو سکے۔
    بڑھتا ہوا قرض کا بوجھ
    سرکاری دستاویزات کے مطابق خیبرپختونخوا کا موجودہ قرضہ 632 ارب روپے ہے، جس کا 70 فیصد تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں لیا گیا۔ دسمبر تک یہ قرض 725 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ ماہرین کو خدشہ ہے کہ یہ قرض 2030 تک 3.2 کھرب روپے سے تجاوز کر جائے گا۔ اس صورتحال کے باوجود تحریک انصاف کے مالی مشیر مظمل اسلم کا کہنا ہے کہ یہ قرضے کم شرح سود پر حاصل کیے گئے ہیں، اور اگر وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کو بجلی کے منافع اور پانی کے بقایا جات ادا کر دے تو یہ مالی بحران کم ہو سکتا ہے۔
    کرپشن اور بدانتظامی
    ناقدین کا کہنا ہے کہ صوبے میں جاری کرپشن اور انتظامی بدحالی نے مسائل کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ تحریک انصاف کے اندرونی رہنما، جیسے شیر افضل مروت، نے بھی اپنی ہی جماعت پر کرپشن کے الزامات لگائے ہیں۔ اسی طرح شکیل خان جیسے رہنماؤں کے استعفے اور وزیراعلیٰ کے بھائی پر لگنے والے الزامات ان مسائل کو مزید ہوا دیتے ہیں
    معاشی حکمت عملی کا فقدان
    معاشی ماہرین، جیسے ڈاکٹر فرحان سید، کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے جامع قیادت اور فوکَسڈ پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ صوبے میں سیاحت، جنگلات، بارڈر ٹریڈ اور معدنیات جیسے شعبوں میں بے پناہ مواقع موجود ہیں جو خاطر خواہ آمدنی پیدا کر سکتے ہیں، لیکن سیکیورٹی خدشات اور بدانتظامی کی وجہ سے سرمایہ کار دلچسپی نہیں لے رہے۔
    خیبرپختونخوا کی ریونیو اتھارٹی بھی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی ہے، جو سالانہ صرف 70 سے 80 ارب روپے کا ریونیو جمع کرتی ہے جبکہ پنجاب کی ریونیو اتھارٹی 600 ارب روپے سالانہ جمع کرتی ہے۔
    وفاقی اور صوبائی چیلنجز
    سینئر صحافی محمود جان بابر کے مطابق ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر کی وجہ سے خیبرپختونخوا کے قرضے مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نہ تو موجودہ منصوبے برقرار رکھ پا رہی ہے اور نہ ہی نئے منصوبے شروع کر رہی ہے، جس کی بڑی وجہ انتظامی ناکامی اور سیکیورٹی مسائل ہیں۔ مزید برآں، سیاسی بیانات اور غیر سنجیدہ رویے نے گورننس کو پسِ پشت ڈال دیا ہے، جس سے ترقی کا عمل رکا ہوا ہے۔
    نتیجہ
    خیبرپختونخوا کا معاشی بحران کرپشن، بدانتظامی اور آمدنی بڑھانے میں ناکامی کا نتیجہ ہے۔ جب تک قیادت فیصلہ کن اقدامات نہیں کرتی اور ترجیحات کو واضح طور پر تبدیل نہیں کرتی، صوبہ مزید مالی مشکلات کا شکار ہوتا رہے گا اور ترقی کی راہ میں رکاوٹیں برقرار رہیں گی۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleسی پیک ورکشاپ میں شرکت کیلئے پاکستانی وفد چین پہنچ گیا
    Next Article تحریک انصاف کے ہاتھوں زخمی ہونے والا پنجاب رینجرز کا ایک اور اہلکار شہید
    Saifullah
    • Website

    Related Posts

    اپر کوہستان اسکینڈل کے بعد سی اینڈ ڈبلیو میں بھی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

    مئی 15, 2026

    لنڈی کوتل میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، سی ٹی ڈی اہلکار عاصم شینواری شہید

    مئی 15, 2026

    سوات کے سیلاب متاثرین سڑکوں پر،8 ماہ بعد بھی امدادی رقم نہیں ملی

    مئی 12, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    وزیراعظم شہباز شریف کا پاکستان ا ور چین کے درمیان کاروباری سطح پر بڑھتے ہوئے تعاون پر اظہارِ اطمینان

    مئی 15, 2026

    پاکستانی برآمدکنندگان کیلئے نئی عالمی منڈیوں تک رسائی حکومت کی ترجیح، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان

    مئی 15, 2026

    وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی موٹروے منصوبوں پر کام تیز کرنے اور ادھورے منصوبے مکمل کرنے کی ہدایت

    مئی 15, 2026

    مشرق وسطیٰ کےتنازعہ کے دیرپا اور پُرامن حل کیلئے پر امید ہیں، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی

    مئی 15, 2026

    ایران کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، وطن کے دفاع کیلئے لڑنے کیلئے بھی تیار ہیں، عراقچی

    مئی 15, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.