Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

پشتو ڈراموں کی اداکارہ خوشبو کا قتل کیوں ہوا؟ ہوشربا انکشافات

اسلام آباد (تحسین اللہ تاثیر) پشتو ڈراموں کی اداکارہ خوشبو کو کیوں قتل کیا گیا۔اخبارِخیبر  نے اس المناک واقعے کا کھوج لگا لیا۔

گزشتہ روز خیبرپختونخوا کے علاقے نوشہرہ میں پشتو فلموں اور ڈراموں کی مشہور اداکارہ کو قتل کردیا گیا۔پولیس رپورٹ کے مطابق اداکارہ خوشبو  کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کیا اور ان کی لاش تھانہ اکبر پورہ کی حدود سے ملی۔پولیس نے مقتولہ کے بھائی شہریار کی مدعیت میں نا معلوم ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے واردات کی تحقیقات کا آغاز کردیا۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ ابھی کیس ابتدائی مراحل میں ہے اور تفتیشی ٹیم  نے جائے وقوعہ سے شواہد جمع کئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ مقتولہ کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا ہے اور ابتدائی معلومات سے لگتا ہے کہ گلوکارہ کو کہیں اور قتل کرنے کے بعد لاش کو کھیتوں کو پھینک دیا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پولیس کی تفتیش جاری ہے اور ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ ادکارہ خوشبو کا تعلق صوابی سے تھا اور وہ پشاور میں رہائش پذیر تھیں۔

مقتولہ کے بھائی اور مدعی شہریار نے پولیس کو بتایا کہ دو ملزمان نے ان کی بہن کو مبینہ طور پر قتل کیا ہے۔ شہریار کے مطابق ملزمان انھیں محفل موسیقی میں ناچ گانے سے منع کرتے تھے لیکن انکار پر ملزمان نے فائرنگ سے قتل کردیا۔

دوسری طرف ذرائع نے اخبارِ خیبر کو بتایا کہ مقتولہ خوشبو کے ایک پیٹرول پمپ کےمالک کیساتھ تعلقات تھے۔انہوں نے خوشبو کو 40 لاکھ روپے دیئے تھے تاکہ وہ مزید اس فیلڈ میں کام نہ کریں۔ جس کے بعد گزشتہ کئی مہنوں سے خوشبو نے اس فیلڈ کو خیرباد کہہ دیا تھا لیکن کچھ دن پہلے ملزم کو معلوم ہوا کہ خوشبو نے دوبارہ کسی محفل میں شرکت کی ہے۔ جس کے بعد ملزم نے اپنے علاوہ کسی اور محفل میں ناچ گانے اور کسی اور کے پروگرامز میں شرکت نہ کرنے اور شوبز چھوڑنے کا مطالبہ پورا نہ کرنے پر خوشبو کو قتل کردیا ہے۔ذرائع نے مزید کہا کہ ملزمان تاروجبہ واپڈا کالونی میں ناچ گانے کی محفلیں سجاتے تھے ۔ پولیس کے مطابق ملزم کےخلاف پہلے سے بھی شوبز کی ایک خاتون کے قتل کا مقدمہ درج ہے جس سے اس نے شادی کر رکھی تھی۔

گلوکارہ خوشبو کا قتل اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ گزشتہ 15 سال کے دوران خیبرپختونخوا میں شوبز سے وابستہ 8 خواتین کو قتل کرنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ سال 2019 میں خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں گلوکارہ اور رقاصہ کا قتل ہوا تھا۔ پولیس کے مطابق گلوکارہ ثنا کا قاتل ان کا چھوٹا بھائی تھا۔ قتل کی وجہ ثنا کی شوبز سے وابستگی تھی۔

اسی سال یعنی 2019 میں مردان میں بھی ماڈل و اداکارہ لبنی عرف گلالئی کو قتل کیا گیا تھا۔ 2018 میں نوشہرہ میں پشتو گلوکارہ ریشم کے قتل کا واقعہ ہوا تھا۔پولیس کے مطابق اداکارہ ریشم کو شوہر نے گھریلو ناچاقی پر مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بناکر قتل کیا تھا۔سال 2018 میں مردان میں مقامی ڈانسر سنبل خان کو ان کے گھر میں ملزمان نے قتل کیا تھا۔قتل کی وجہ سنبل خان کا ڈانس پارٹی میں شرکت سے انکار تھا۔اگست 2015 میں نوشہرہ میں پشتو کی معروف گلوکارہ مسرت شاہین کو بھی نامعلوم افراد نے گولی چلاکر قتل کیا تھا۔ جون 2014 کو پشاور میں پشتو گلوکارہ گل ناز کو  ملزمان نے ان گھر  میں  اہل خانہ کے سامنے قتل کیا تھا۔

سال 2012 میں  معروف گلوکارہ غزالہ جاوید کو پشاور میں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔گلوکارہ غزالہ جاوید ایک تقریب کے لیے تیار ہونے کے بعد والد کے ساتھ جار ہی تھی۔ اس واقعے میں ان کے والد بھی جاں بحق ہوئے تھے۔اسی طرح سال 2009 میں پشاور میں پشتو کی ابھرتی ہوئی گلوکارہ  ایمن اداس کو اس کے بھائیوں نے گھر میں قتل کیاتھا۔

خیبرپختونخوا میں شوبز سے وابسطہ خواتین کی زندگی کو خطرات کیوں لاحق ہیں؟

یہ سوال جب  اخبارِخیبر نے معروف پشتو اداکارہ کے سامنے رکھا جو خود بھی اس تشدد سے گزری ہیں تو انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ خاندانی اداکاروں  اور گلوکاروں کو گھر سے یہ ہدایات ہوتی ہے کہ خود بھی کماو اور اپنے گھر کو بھی کماکر دو ۔ جس کے بعد وہ ڈراموں ، سٹیج شوز اور پرائیویٹ ڈانس پارٹیز وغیرہ میں کام کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ اس دوران اکثر شوبز خواتین یا تو ان لوگوں کیساتھ شادی کرتی ہیں جو ان کو اس فیلڈ میں بھی سپورٹ کرتے ہوں مثلا وہ یا کوئی کیمرہ مین ہوتا ہے یا خود شوبز سے وابسطہ ہوتا ہے تو انہیں یہ مسئلہ نہیں ہوتا کہ ان کی بیوی کہاں پر ہے اور کیا کررہی ہے؟

اداکارہ نے بتایا کہ کچھ شوبز خواتین کیساتھ بااثر لوگ بھی تعلقات بناتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کی قربت بڑھ جاتی ہےاور پھر وہ انہیں اپنی ملکیت سمجھتے ہیں ۔ انہیں مالی طور پر سپورٹ کیا جاتا ہے اور یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ کسی اور کیساتھ نہ تعلقات بنائیں اور نہ ہی کسی محفل میں شرکت کریں۔انھوں نے  بتایا کہ جب کوئی اداکارہ ان ہدایات کی خلاف ورزی کرتی ہے تو ان پر اکثر یا تو تشدد کیا جاتا ہے اور یا اسے قتل کیا جاتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بعض ایسی اداکارائیں بھی ہیں جنہوں نے اپنے فنانسر کی خفیہ طورپر پرائیویٹ ویڈیوز ریکارڈ کررکھی ہیں ۔ جب ان پر دباو ڈالا جاتا ہے کہ شوبز چھوڑ دیں  یا کسی محفل میں نہ جائیں تو بدلے میں وہی اداکارہ اپنے فنانسر کو بلیک میل کرتی ہے اور اکثر اس بلیک میلنگ سے بچنے کیلئے ان اداکاراوں کو اجرتی قاتلوں کے ذریعے قتل کردیا جاتا ہے۔

اس سلسلے میں انسانی حقوق کے علمبردار طارق افغان ایڈووکیٹ نے اخبارِخیبر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت بڑا ظلم اور ایک افسوسناک واقعہ ہے۔انہوں نے پشتو کے نامور شاعر و دانشور غنی خان کا قول دہرایا کہ پختون فن کو پسند کرتے ہیں لیکن فنکار کو نہیں۔ طارق افغان نے کہا کہ اگر ماضی قریب میں دیکھا جائے تو پشتو معاشرے میں اداکاروں، فنکاروں اور گلوکاروں کو اچھی خاصی آزادی تھی ان کے فن کی قدر کی جاتی تھی لیکن سال  2009 کے بعد کئی ایسے واقعات رونما ہوئے جس میں شوبز سے وابسطہ افراد بالعموم اور خواتین کو بالخصوص قتل کیا گیاہے۔

طارق افغان کے مطابق جب شوبز سے وابسطہ خواتین اپنے فیلڈ میں ترقی کی اونچائی  پر ہوتی ہیں تو لوگ ان سے دوستیاں کرتے ہیں، ان سے شادیاں کرتے ہیں لیکن شادی کے بعد پھر وہی لوگ ان کو شوبز چھوڑنے پر دباو ڈالتے ہیں اور اکثر قتل کردیتے ہیں۔ ہم اگر مرحومہ گلوکارہ فرزانہ کا ذکر کریں تو ان کیساتھ بھی یہی ہوا تھا، وہ اپنے زمانے میں پشتو کی بہت ہی معروف گلوکارہ تھیں لیکن شادی کے بعد شوہر کے کہنے پر انہوں نے گلوکاری چھوڑ دی تھی۔اسی طرح بہت سارے اور بھی اداکارائیں ہیں  جن کی زندگی کو خطرات تھے اور انہوں  نے شوبزکو چھوڑدیا ہے۔

طارق افغان کا مزید کہنا تھا  کہ ہمارے معاشرے میں لوگ نہ صرف فنکار کے حق سے انکاری ہیں بلکہ اس کو اپنے لئے غیرت اور انا کا مسئلہ بھی سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خوشبو کا قتل بھی اسی طرح کا لگتا ہے کیونکہ مقتولہ کے بھائی نے ایف آئی آر میں یہ واضح نہیں کیا ہے کہ وہ کون لوگ تھے جو مقتولہ خوشبو کو گلوکاری سے منع کرتے تھے، یہ وضاحت ہونی ضروری تھی، طارق افغان نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے ملزمان کو سخت سے سخت سزا دینی چاہیے تاکہ آئندہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.