Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, ستمبر 23, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاکستانی حدود میں داخلے کی کوشش کرنے والے افغان طالبان کے 8 ڈرونز تباہ
    • پنجاب یونیورسٹی میں چار روزہ جینوم ایڈیٹنگ کروپ بائیوٹیکنالوجی تربیتی پروگرام کا افتتاح
    • بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک
    • کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی
    • پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ
    • آسان ٹیکس سکیم: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو ٹیکس ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، بلال اظہر کیانی
    • وزیراعظم کے کفایت شعاری اقدامات: وزارتِ ریلوے میں اہم فیصلے
    • بلوچستان میں سماعت سے محروم بچوں کے لیے پہلا ڈیف چلڈرن ایکسی لینس اینڈ ریسرچ سینٹر قائم
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » طریقہ کار کے بغیرآپریشن عزم استحکام کی اجازت نہیں دے سکتے ،بیرسٹر سیف
    اہم خبریں جولائی 25, 2024

    طریقہ کار کے بغیرآپریشن عزم استحکام کی اجازت نہیں دے سکتے ،بیرسٹر سیف

    Facebook Twitter Email
    Without procedure cannot allow operation Azm e Istehkaam , barrister safe
    Share
    Facebook Twitter Email

    پشاور: خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ بنوں واقعے پر وفاقی اداروں نے صوبائی حکومت اور فوج کے خلاف پروپیگنڈا کیا، جس میں عطا تارڑ کا کردار مضحکہ خیز ہے۔

    ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایپکس کمیٹی کااجلاس وزیراعلی کی زیرصدارت ہوا جس میں عسکری حکام اوربنوں جرگہ ارکان شریک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن وامان کی صورت حال پر غور کیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ  بنوں میں کینٹ حملے میں 8 فوجی اہلکار اور دو سویلین شہید ہوئے جبکہ 19 جولائی کے احتجاج میں فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہوا۔ بیرسٹر سیف نے بتایا کہ حکومت نے فوری طورپر معاملے کوکنٹرول میں لیا اور حالات کوپرامن کیا، امن کمیٹی سے بات چیت ہوئی اورمطالبات وزیراعلی کوپیش کیے گئے۔

    مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ہم نے صوبہ بھرسے متعلق 16 نکات پر بات چیت کی، جس میں عزم استحکام بھی شامل ہے، آپریشن عزم استحکام کے لیے طریقہ کار ہونا چاہیے بصورت دیگر اس کی اجازت نہیں دے سکتے، اس آپریشن کے حوالے سے جان بوجھ کر کنفیوژن پیدا کی گئی لیکن یہ کوئی نیا فوجی آپریشن نہیں ہے جبکہ جوکارروائیاں پہلے سے چل رہی ہیں وہ جاری رہیں گی۔

    انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ہر آپریشن کے فرنٹ پر پولیس اورسی ٹی ڈی ہوں گی، 3.3 ارب روپے پولیس اور سی ٹی ڈی کو وسائل کی فراہمی کے لیے دیئے گئے ہیں، سیکورٹی اہلکار بڑھائیں گے، 500 اہلکار کلاچی کے لیے ہونگے، سی ٹی ڈی کے لیے متعلقہ اضلاع سے بھرتی کی جائےگی۔

    انہوں نے کہا کہ امن و امان کیلیے عسکری قیادت مکمل طورپرتعاون کرے گی جبکہ ایپکس کمیٹی کا دائرہ کار ڈویژنل اوراضلاع تک پھیلایا جائےگا، دہشت گردوں کی ناکہ بندی اورچیک پوسٹوں پرمکمل پابندی اورایکشن لیاجائے گا اور جنوبی اضلاع کے لیے زیادہ وسائل فراہم کیے جائیں گے۔

    بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ پولیس اورسی ٹی ڈی فرنٹ پررہتے ہوئے کارروائیاں کرے گی جبکہ بنوں واقعہ کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنے گا جبکہ ہم انتظامی رپورٹ مرتب کررہے ہیں، جیسے ہی چیف جسٹس عدالتی کمیشن کے لیے رکن نامزد کریں گے تو انتظامی انکوائری بھی ان کے تحت آجائے گی۔

    انھوں نے کہا کہ وزیراعلی کل بنوں کا دورہ کریں گے اور وہاں پر تین بجے عوامی اجتماع سے بھی خطاب کریں گے، سیاست سے قومی مفادات کونقصان پہنچتا ہے، فوج اور صوبائی حکومت کے خلاف بنوں کے حوالے سے پروپیگنڈہ کیا گیا اور وفاقی حکومت کے ادارے پروپیگنڈہ میں مصروف رہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس پروپیگنڈے میں عطاء تارڑ کا مضحکہ خیز کردار ہے ان لوگوں نے عزم استحکام کی طرز پربنوں واقعہ پرکنفیوژن پیدا کی۔

    انہوں نے کہا کہ ایپکس کمیٹی اجلاس میں طے پایا ہے کہ مدارس و مساجد میں چھاپوں کی صورت میں یہ کارروائی پولیس اورسی ٹی ڈی کرے گی۔ مشیر اطلاعات نے یہ بھی کہا کہ پہلے عسکریت پسند شمالی علاقوں میں متحرک تھے اب جنوبی اضلاع میں ہیں، اب دہشت گرد بلوچستان کے راستے خیبرپختونخوا آرہے ہیں، جوادارے امن و امان کے حوالے اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکام رہے ان کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔

    مشیر اطلاعات نے کہا کہ ہم نے قیام امن کے لیے طالبان سے مذاکرات کیے تھےلیکن الٹاہم پرالزامات لگائے گئے، جوہتھیار رکھ کر بات کرے اس سے بات ہونی چاہیے یہی اسلامی طریقہ کار ہے،  خون بہت بہہ چکا ہے مذاکرات اور بات چیت سے مسائل حل کیے جائیں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپی ٹی آئی کے39 اراکینِ قومی اسمبلی پارٹی کے ممبر تسلیم ، نوٹیفکیشن جاری
    Next Article ہوشاب میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن ،ایک دہشتگرد ہلاک ، 2 زخمی
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    پاکستانی حدود میں داخلے کی کوشش کرنے والے افغان طالبان کے 8 ڈرونز تباہ

    ستمبر 23, 2026

    پنجاب یونیورسٹی میں چار روزہ جینوم ایڈیٹنگ کروپ بائیوٹیکنالوجی تربیتی پروگرام کا افتتاح

    ستمبر 23, 2026

    بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک

    ستمبر 22, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاکستانی حدود میں داخلے کی کوشش کرنے والے افغان طالبان کے 8 ڈرونز تباہ

    ستمبر 23, 2026

    پنجاب یونیورسٹی میں چار روزہ جینوم ایڈیٹنگ کروپ بائیوٹیکنالوجی تربیتی پروگرام کا افتتاح

    ستمبر 23, 2026

    بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک

    ستمبر 22, 2026

    کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی

    ستمبر 22, 2026

    پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ

    ستمبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.