Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, فروری 21, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • رہائی فورس کا اعلان،سیاسی وفاداری یا تصادم کا حتمی فیصلہ ؟
    • امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف کا نفاذ کالعدم قرار دیدیا
    • وزیراعظم شہبازشریف کی امریکہ میں عالمی رہنماوں سے خوشگوار ماحول میں ملاقاتیں توجہ کا مرکز بن گئیں
    • اسلام آباد اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے
    • خودمختار ساوی کی انسان دوستی قابلِ تحسین اور قابلِ تقلید ہے، پروفیسر تہمیداللہ
    • پاکستان میں دہشتگردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کے شواہد سامنے آگئے
    • آئی ایم ایف مشن کی آمد سے قبل بڑا انکشاف، پاکستان میں غربت بڑھ کر 28.8 فیصد ہو گئی
    • خودمختار ساوی کے ذریعے پشاور کے 50 مستحقین میں رمضان پیکیج تقسیم
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » خواتین، ترقی اور مختلف چیلنجز!
    بلاگ

    خواتین، ترقی اور مختلف چیلنجز!

    نومبر 15, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Women, development and different challenges!
    یہ صورتحال بنیادی طور پر معاشرتی روایات، بے روزگاری اور عدم تحفظ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    خواتین  ملک کی ترقی، تعلیمی نظام اور دیگر شعبوں میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ معاشرتی روایات اور عدم تحفظ کی وجہ سے خواتین اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال نہیں کر پاتیں۔ انہیں ہر جگہ ہراساں کرنے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تعلیم اور روزگار کے مواقع کے باوجود کئی خواتین ہراسانی، غیر محفوظ ماحول اور معاشرتی دباؤ کی وجہ سے اپنی منزل کو حاصل نہیں کر سکتیں۔  ان  مشکلات سے واقعی سنگین مسائل جنم لیتی ہیں ، بالخصوص  اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جہاں آئے روز ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں ، جس کی زندہ مثالیں موجود ہیں ۔

    ہر روز آنکھ کھلتے ہی سننے کو ملتا ہے کہ فلاں سکول یا کالج میں واقعہ پیش آیا ،فلاں جگہ تھانے میں واقعہ رونما ہوا،سکول اور کالج کی اگر ہم بات کریں تو وہ ویسے بھی لوگوں کی نظروں میں بدنام ہیں ،مدارس کی صورتحال بھی ہمارے سامنے ہے ، یہاں تک کہ گھروں ،محلوں میں بھی خواتین  محفوظ نہیں،بیشتر بچیاں ایسے واقعات کا شکار ہو جاتی ہیں اور پھر بار بار بلیک میل بھی ہوتی رہتی ہیں۔ اس میں سب سے بڑی وجہ والدین اور بچوں کے درمیان فاصلہ ہے وہ فارملیٹیز  ہیں جو عام طور پر ہم ادا کر رہے ہیں ، والدین کی عزت ہم سب پر فرض ہے اور کرتے بھی ہیں لیکن ان فارمیلٹیزسے باہر آنا چاہئے ،

    بچوں کے ساتھ دوستی کا رشتہ قائم کرنا بھی بہت مفید ہے۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو اپنا دوست بنا لیں ، اس سے پہلے کہ معاشرے کے برے لوگ اسے اپنا دوست بنا لیں ۔ اس طرح اگر کوئی مشکل پیش آئے، تو وہ بلا جھجھک اپنے مسائل شیئر کر سکیں گی۔ انہیں یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ وہ محفوظ ہیں اور ان کی بات سنی جائے گی۔

    خواتین کے حقوق کی حفاظت اور انہیں محفوظ ماحول فراہم کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ وہ اپنی بھرپور صلاحیتوں کے ساتھ ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ یہ ضروری ہے کہ حکومت اور معاشرے مل کر اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اقدامات کریں۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بہت سی لڑکیاں اپنے حقوق، تعلیم اور کیریئر کے مواقع سے محروم رہ جاتی ہیں۔ یہ صورتحال بنیادی طور پر معاشرتی روایات، بے روزگاری اور عدم تحفظ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ لڑکیوں کو تعلیم کے بعد ملازمت کے حصول میں مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہےجیسے کہ سفارش، ہراسانی اور معاشرتی دباؤ۔

    اگرچہ بعض لڑکیاں اپنی محنت اور عزم کے ذریعے ان مشکلات کا سامنا کرتی ہیں مگر بہت سی لڑکیاں ان چیلنجز کی وجہ سے خاموشی اختیار کر لیتی ہیں۔ معاشرتی شعور بڑھانا، قانونی تحفظ فراہم کرنااور لڑکیوں کے لیے محفوظ ماحول تخلیق کرنا اس مسئلے کے حل میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ اس کے ساتھ لڑکیوں کی تعلیم اور ان کے حقوق کے بارے میں آگاہی پھیلانا بھی ضروری ہے تاکہ وہ اپنے مستقبل کے لئے بہتر فیصلے کر سکیں۔

    خوداعتمادی اور طاقتور سوچ کی ضرورت ہے تاکہ لڑکیاں اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا سکیں اور مشکلات کا سامنا کر سکیں۔ یہ ضروری ہے کہ والدین اور بزرگ اپنی بیٹیوں کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ اپنی طاقت کو پہچانیں اور خوف کو شکست دیں۔

    اس کے علاوہ اگر لڑکیاں خود کو مضبوط سمجھیں گی تو وہ ہراسانی یا دیگر چیلنجز کا سامنا بہتر طریقے سے کر پائیں گی۔ ان کے اندر خوداعتمادی پیدا کرنے کے لیے مثبت گفتگو اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ گھروں سے باہر جانے اور جاب کرنے سے پہلے ہر لڑکی کو چاہئے کہ وہ باہر نازک عورت بن کر نہ جائے بلکہ لڑکا بن کر جائے ،یہ معاشرہ خواتین  کی نزاکت سے غلط فائدہ اٹھانے میں لگا ہے  لہذا آنکھیں نوچ لیں اسکی جو میلی آنکھ سے دیکھے ۔

    کئی علاقوں میں خواتین کو تو  بنیادی حقوق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے جس کے باعث ان کی ترقی اور خودمختاری متاثر ہوتی ہے۔ ان مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے معاشرتی آگاہی، قانونی اصلاحات اور تعلیمی مواقع کی بہتری ضروری ہے۔ معاشرے میں تبدیلی لانے کے لیے سب کو مل کر کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔

    معاشرے میں  خواتین کو ہر وہ حقوق دیئے جائیں  جو اسکا حق ہو اور اسکی ترقی کے لئے بھی ہر فورم پر ہر حکومت کو اقدامات کے ساتھ ساتھ عملی اقدام کی بھی ضرورت ہے  کیونکہ ہمارے حکمران آواز اُٹھاتے ہیں لیکن  جلسے میں تقریر کی حد تک  ،،لہذا عورت  بیٹی ہے ،ماں ہے ،بہن ہے اور سانجھی ہوتی ہے اور ملک و قوم کی ترقی ایک عورت کے بغیر نا ممکن ہے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleآئی سی سی نے بھارتی بورڈ سے پاکستان نہ آنے کی تحریری وجوہات طلب کرليں
    Next Article آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کیخلاف درخواست آئینی بینچ میں سماعت کیلئے مقرر
    عروج خان
    • Website

    Related Posts

    رہائی فورس کا اعلان،سیاسی وفاداری یا تصادم کا حتمی فیصلہ ؟

    فروری 20, 2026

    باجوڑ حملہ، سفارتی احتجاج اور پاک افغان تعلقات کا نیا موڑ۔۔۔۔

    فروری 19, 2026

    خان کی صحت ،پی ٹی آئی قیادت کنفیوژن کا شکار؟؟؟؟؟

    فروری 18, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    رہائی فورس کا اعلان،سیاسی وفاداری یا تصادم کا حتمی فیصلہ ؟

    فروری 20, 2026

    امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف کا نفاذ کالعدم قرار دیدیا

    فروری 20, 2026

    وزیراعظم شہبازشریف کی امریکہ میں عالمی رہنماوں سے خوشگوار ماحول میں ملاقاتیں توجہ کا مرکز بن گئیں

    فروری 20, 2026

    اسلام آباد اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے

    فروری 20, 2026

    خودمختار ساوی کی انسان دوستی قابلِ تحسین اور قابلِ تقلید ہے، پروفیسر تہمیداللہ

    فروری 20, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.