زیارت: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی زیارت پہنچے جہاں انہوں نے قائد ریزیڈنسی پر حاضری دی، پولیس کے چاق و چوبند دستے نے انہیں سلامی پیش کی۔
بعد ازاں انہوں نے زیارت سانحہ کے شہداء کے لواحقین سے ملاقات کی۔
انہوں نے لواحقین سے اظہارِ تعزیت و یکجہتی اورشہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور معاونتی چیکس تقسیم کیے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ شہداء قوم کا فخر اور ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں، ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور حکومت شہداء کے لواحقین کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی، ان کی ہر ممکن کفالت ریاست کی ذمہ داری ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ زیارت واقعہ کے ذمہ داروں اور غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہوگی، جبکہ شفاف تحقیقات کے لیے قائم انکوائری کمیٹی اپنی رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داروں کا تعین کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا نہ اسلام سے تعلق ہے، نہ بلوچ اور پشتون روایات سے، جبکہ بلوچستان پولیس، ایف سی اور دیگر سکیورٹی فورسز کی قربانیاں پوری قوم کے لیے باعث فخر ہیں۔
انہوں نے عوام پر زور دیا کہ دشمن کے پروپیگنڈے کا حصہ بننے کے بجائے ریاستی اداروں کا ساتھ دیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے اعلان کیا کہ شہداء کے بچوں کی 16 سال تک تعلیم کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے گی.
ہر شہید کے خاندان کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت اور مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی.
شہداء کے لواحقین کے لیے ایک کروڑ دس لاکھ روپے فی خاندان معاوضہ منظور کر لیا گیا ہے اور فنڈز بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی، قومی اتحاد اور ریاستی اداروں کا استحکام ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے.
شہداء کے خاندانوں کے ساتھ ہر قدم پر کھڑا رہوں گا اور میرے دروازے ان کے لیے ہمیشہ کھلے رہیں گے۔

