Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, اگست 25, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • 9 مئی حملوں کا اہم فیصلہ جاری، تحریک انصاف کے اہم رہنماوں کو قید اور جرمانے کی سزائیں
    • وفاقی حکومت کا 10 روپے کا کرنسی نوٹ ختم کرنے کا فیصلہ
    • ایران نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا ایران کا دورہ انتہائی مثبت قرار دیدیا
    • فیلڈ مارشل کی تہران میں ایرانی قیادت سے اہم ملاقاتیں، کشیدگی میں مزید اضافے کی روک تھام، آبنائے ہرمز کھولنے پر تبادلہ خیال
    • بنوں اور لکی مروت پولیس کمیٹیوں کا 7 اہلکاروں کے تبادلوں پر احتجاج
    • صوابی چھوٹا لاہور میں کم عمر گونگی اور بہری لڑکی سے نکاح کی کوشش، 70 سالہ شخص گرفتار
    • خیبر پختونخوا اسمبلی نے بانی پی ٹی آئی کو شفاء ہسپتال منتقل کرکے علاج کی سہولت دینے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی
    • آئندہ 24 گھنٹوں میں گرم اور مرطوب موسم کی پیش گوئی، بالائی علاقوں میں بارش کی پیشگوئی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » رضوانہ تشدد کیس: سول جج کی اہلیہ کو گرفتار کرلیا گیا
    اہم خبریں اگست 7, 2023

    رضوانہ تشدد کیس: سول جج کی اہلیہ کو گرفتار کرلیا گیا

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے گھریلو ملازمہ رضوانہ پر تشدد کیس میں نامزد ملزمہ سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ سومیہ کی ضمانت خارج کر دی۔ کمسن ملازمہ رضوانہ پر تشدد کیس میں نامزد ملزمہ سومیہ عاصم کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری پر سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد جج فرخ فرید کی عدالت میں ہوئی۔

    دوران سماعت جج فرخ فرید نے ملزمہ سومیہ عاصم کو روسٹرم پر بلایا اور استفسار کیا کہ سومیہ عاصم کے خلاف کیس کا ریکارڈ کہاں ہے؟

    وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ سومیہ عاصم جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئی اور اپنی بے گناہی کا اظہار کیا، ریکارڈ میں پولیس نے لکھا کہ ملزمہ سومیہ عاصم نے تشدد نہیں کیا، سومیہ عاصم نے ملازمہ کو واپس بھیجنے کا بار بار کہا، کمسن بچی کو اس کی ماں کو صحیح سلامت دیا گیا، کیا سومیہ عاصم کو جیل بھیجنا ضروری ہے؟

    پراسیکیوشن کی جانب سے ملزمہ سومیہ عاصم کی ضمانت خارج کرنے کی استدعا کی گئی جبکہ جج فرخ فرید کا کہنا تھا ملزمہ سومیہ عاصم تو ہر حال میں شامل تفتیش ہونے کی پابند ہے۔

    ملزمہ کے وکیل کا کہنا تھا تفتیشی افسر نے تمام پہلوؤں پر تفتیش نہیں کی، کیا تفتیشی افسر نے وقوعہ کی ویڈیو حاصل کی؟ جس پر جج فرخ فرید کا کہنا تھا تاحال کوئی دلیل درخواست ضمانت میں توسیع کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔

    وکیل صفائی نے کہا کہ مقدمے کی پہلی پانچ لائنیں ہی جھوٹ پر مبنی ہیں، جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ میں یہاں ٹرائل کے لیے نہیں بیٹھا، درخواست ضمانت پر دلائل دیں۔

    فاضل جج نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں کہ جے آئی ٹی رپورٹ آنے تک سماعت ملتوی کی جائے، جج فرخ فرید نے درخواست ضمانت پر دلائل دینے کی ہدایت کر دی۔

    وکیل صفائی کا کہنا تھا پولیس کو کہا گیا بچی اپنا بیان دینے کی کنڈیشن میں نہیں، سرگودھا تک بچی بلکل ٹھیک گئی، اسے کسی ٹریٹمنٹ کی ضرورت نہیں تھی، تاخیری حربے استعمال کرکے بیان کو تاخیر سے ریکارڈ کرایا گیا، تفتیشی افسر کڑی سےکڑی نہیں ملا پا رہا، جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے، والدین اور رشتہ داروں کے پولیس کو دیے گئے بیانات میں تضاد نظر آ رہا ہے، بچی کی طبی رپورٹ کے مطابق بچی کو فریکچر نہیں ہے، سومیہ عاصم پر الزام لگایا گیا کہ بچی کو تیزاب پلایا گیا، بچی کو بس اسٹینڈ پر چھوڑنے سومیہ عاصم گئیں تو انہیں پھنسایا گیا۔

    مدعی وکیل نے دلائل میں کہا کہ تفتیشی افسر کو ڈکٹیٹ نہیں کیا جا سکتا کہ تفتیش کیسےکرنی ہے، عدالت بھی تفتیشی افسر کو کوئی ڈائریکشن نہیں دے سکتی، سومیہ عاصم کس بنیاد پر اپنی ضمانت میں توسیع مانگ رہی ہے، کیا عورت کوئی بھی جرم کرلے اور اسے ضمانت دے دی جائے؟ اگر عورت کو ایسے ہی ضمانتیں ملتی رہیں تو معاشرہ ختم ہو جائے گا۔

    مدعی وکیل کا کہنا تھا الزام لگایا گیا کہ بچی کے والدین نے بلیک میل کیا، کیوں ہوئے بلیک میل؟ حقیقت ہے کہ بچی کے والدین سے رابط کیا گیا اور پیسوں کی آفر کی گئی، بچی کی طبی رپورٹ کو تو آج تک سومیہ عاصم کے وکلا نے چیلنج نہیں کیا، اتنے زیادہ زخم ہیں،کیا کوئی والدین اپنی بیٹی کو اتنا زخمی کر سکتے ہیں؟ کبھی کوئی ماں باپ اپنی بیٹی پراتنا تشدد نہیں کرسکتے۔

    بچی رضوانہ کے والدین کے وکیل کا کہنا تھا قانون کے مطابق کمسن بچی کو ملازمہ رکھنا ہی ایک جرم ہے، سول جج اور اہلیہ کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ کمسن ملازمہ رکھنا جرم ہے، ماموں اور بچی کی والدہ کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کے جج فرخ فرید نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد سومیہ عاصم کی ضمانت خارج کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا، ضمانت میں توسیع کی درخواست خارج ہوتے ہی پولیس نے سومیہ عاصم کو گرفتار کر لیا۔

    جج فرخ فرید کا پراسیکیوشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا سچ تلاش کرنے میں ڈر نہیں ہونا چاہیے، شواہد ایمانداری سے جمع کریں اور کوئی دباؤ نہ لیں، معاملے کی تفتیش میرٹ پر ہونی چاہیے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleتحریک انصاف نے چیئرمین کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنےکا اعلان کر دیا
    Next Article چیئرمین پی ٹی آئی کی اٹک سے اڈیالہ جیل منتقلی کیلئے درخواست دائر
    Web Desk

    Related Posts

    9 مئی حملوں کا اہم فیصلہ جاری، تحریک انصاف کے اہم رہنماوں کو قید اور جرمانے کی سزائیں

    اگست 25, 2026

    وفاقی حکومت کا 10 روپے کا کرنسی نوٹ ختم کرنے کا فیصلہ

    اگست 25, 2026

    ایران نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا ایران کا دورہ انتہائی مثبت قرار دیدیا

    اگست 25, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    9 مئی حملوں کا اہم فیصلہ جاری، تحریک انصاف کے اہم رہنماوں کو قید اور جرمانے کی سزائیں

    اگست 25, 2026

    وفاقی حکومت کا 10 روپے کا کرنسی نوٹ ختم کرنے کا فیصلہ

    اگست 25, 2026

    ایران نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا ایران کا دورہ انتہائی مثبت قرار دیدیا

    اگست 25, 2026

    فیلڈ مارشل کی تہران میں ایرانی قیادت سے اہم ملاقاتیں، کشیدگی میں مزید اضافے کی روک تھام، آبنائے ہرمز کھولنے پر تبادلہ خیال

    اگست 25, 2026

    بنوں اور لکی مروت پولیس کمیٹیوں کا 7 اہلکاروں کے تبادلوں پر احتجاج

    اگست 25, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.