Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, ستمبر 15, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • ایٹم کونسل کا سمپوزیم: میڈیا کی تعلیم اور نشریاتی صنعت کے درمیان فرق کم کرنے کی کوشش
    • پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی کیسے ملے گی؟ حکومت نے طریقہ بتادیا
    • اسلام آباد کی سڑکیں بند کرنے کا کسی سیاسی جماعت کو اختیار نہیں، ہائیکورٹ
    • برمنگھم ٹیسٹ: رضا اللہ نے ڈیبیو پر تیز ترین پاکستانی نصف سنچری کا ریکارڈ بنا دیا
    • پشاور کے 45 نجی اسکولوں میں افغان بچوں کے داخلوں کی نشاندہی، کارروائی کی تیاری
    • وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے انتخاب کے خلاف درخواست 14 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر
    • تمپ میں سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، دہشت گردوں کا حملہ ناکام
    • پشاور میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، اہم کمانڈر سمیت 5 دہشت گرد ہلاک
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » سویلین کا فوجی عدالت میں ٹرائل متوازی عدالتی نظام کے مترادف ہے، سپریم کورٹ
    اہم خبریں اگست 3, 2023

    سویلین کا فوجی عدالت میں ٹرائل متوازی عدالتی نظام کے مترادف ہے، سپریم کورٹ

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

     اسلام آباد: سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف کیس کی سماعت میں وکیل اعتزاز احسن نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے خلاف ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔ سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ اعتزاز احسن نے دلائل دیے کہ پارلیمنٹ میں ایک نیا قانون منظور ہوا ہے، خفیہ ادارے کسی بھی وقت کسی کی بھی تلاشی لے سکتے ہیں، انٹیلیجنس ایجنسیوں کو بغیر وارنٹ تلاشی کا حق قانون سازی کے ذریعے دے دیا گیا، اس قانون سے تو لا محدود اختیارات سونپ دیے گئے ہیں، ملک میں اس وقت مارشل لاء جیسی صورتحال ہے، سپریم کورٹ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے خلاف ازخود نوٹس لے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ خوش قسمتی سے بل ابھی بھی ایک ایوان میں زیر بحث ہے، دیکھیں پارلیمنٹ کا دوسرا ایوان کیا کرتا ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سویلین کا فوجی عدالت میں ٹرائل متوازی عدالتی نظام کے مترادف ہے، بنیادی انسانی حقوق مقننہ کی صوابدید پر نہیں چھوڑے جا سکتے، بنیادی انسانی حقوق کا تصور یہ ہے کہ ریاست چاہیے بھی تو واپس نہیں لے سکتی، یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک پارلیمنٹ کچھ جرائم کو آرمی ایکٹ میں شامل کرے اور دوسری پارلیمنٹ کچھ جرائم کو نکال دے یا مزید شامل کرے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleشہریار آفریدی سمیت 4 پی ٹی آئی رہنماؤں کی نظر بندی غیر قانونی قرار، رہائی کا حکم
    Next Article شاہد خاقان، حفیظ شیخ، اسلم بھوتانی اور فواد حسن فواد نگران وزیراعظم کے امیدوار
    Web Desk

    Related Posts

    ایٹم کونسل کا سمپوزیم: میڈیا کی تعلیم اور نشریاتی صنعت کے درمیان فرق کم کرنے کی کوشش

    ستمبر 14, 2026

    پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی کیسے ملے گی؟ حکومت نے طریقہ بتادیا

    ستمبر 14, 2026

    اسلام آباد کی سڑکیں بند کرنے کا کسی سیاسی جماعت کو اختیار نہیں، ہائیکورٹ

    ستمبر 14, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    ایٹم کونسل کا سمپوزیم: میڈیا کی تعلیم اور نشریاتی صنعت کے درمیان فرق کم کرنے کی کوشش

    ستمبر 14, 2026

    پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی کیسے ملے گی؟ حکومت نے طریقہ بتادیا

    ستمبر 14, 2026

    اسلام آباد کی سڑکیں بند کرنے کا کسی سیاسی جماعت کو اختیار نہیں، ہائیکورٹ

    ستمبر 14, 2026

    برمنگھم ٹیسٹ: رضا اللہ نے ڈیبیو پر تیز ترین پاکستانی نصف سنچری کا ریکارڈ بنا دیا

    ستمبر 12, 2026

    پشاور کے 45 نجی اسکولوں میں افغان بچوں کے داخلوں کی نشاندہی، کارروائی کی تیاری

    ستمبر 12, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.