Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    اتوار, جنوری 4, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • شبقدر: شادی کا گھر ماتم میں تبدیل، کمرے کی بوسیدہ چھت گرنے سے چھ افراد جاں بحق، پانچ زخمی
    • شمالی وزیرستان: غیر سرکاری سکول اور ریسکیو اہلکاروں پر کواڈ کاپٹر ڈرون حملے
    • وینزویلا میں نئی حکومت کے قیام تک تمام معاملات امریکہ چلائے گا،امریکی صدر ٹرمپ
    • پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے اپنا ابتدائی اسکواڈ آئی سی سی کو جمع کرا دیا
    • ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والوں نے خود ووٹ کے حق کو پامال کیا: اسد قیصر
    • امریکہ کی بڑی عسکری کارروائی، صدر نیکولس مدورو کو گرفتار کر لیا
    • وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے 17 جنوری کو پیش کرنے کا حکم
    • استور میں برفانی تودہ گرنے سے افسر سمیت 3 اہلکار شہید
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » سویلین کا فوجی عدالت میں ٹرائل متوازی عدالتی نظام کے مترادف ہے، سپریم کورٹ
    اہم خبریں

    سویلین کا فوجی عدالت میں ٹرائل متوازی عدالتی نظام کے مترادف ہے، سپریم کورٹ

    اگست 3, 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

     اسلام آباد: سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف کیس کی سماعت میں وکیل اعتزاز احسن نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے خلاف ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔ سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ اعتزاز احسن نے دلائل دیے کہ پارلیمنٹ میں ایک نیا قانون منظور ہوا ہے، خفیہ ادارے کسی بھی وقت کسی کی بھی تلاشی لے سکتے ہیں، انٹیلیجنس ایجنسیوں کو بغیر وارنٹ تلاشی کا حق قانون سازی کے ذریعے دے دیا گیا، اس قانون سے تو لا محدود اختیارات سونپ دیے گئے ہیں، ملک میں اس وقت مارشل لاء جیسی صورتحال ہے، سپریم کورٹ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے خلاف ازخود نوٹس لے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ خوش قسمتی سے بل ابھی بھی ایک ایوان میں زیر بحث ہے، دیکھیں پارلیمنٹ کا دوسرا ایوان کیا کرتا ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سویلین کا فوجی عدالت میں ٹرائل متوازی عدالتی نظام کے مترادف ہے، بنیادی انسانی حقوق مقننہ کی صوابدید پر نہیں چھوڑے جا سکتے، بنیادی انسانی حقوق کا تصور یہ ہے کہ ریاست چاہیے بھی تو واپس نہیں لے سکتی، یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک پارلیمنٹ کچھ جرائم کو آرمی ایکٹ میں شامل کرے اور دوسری پارلیمنٹ کچھ جرائم کو نکال دے یا مزید شامل کرے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleشہریار آفریدی سمیت 4 پی ٹی آئی رہنماؤں کی نظر بندی غیر قانونی قرار، رہائی کا حکم
    Next Article شاہد خاقان، حفیظ شیخ، اسلم بھوتانی اور فواد حسن فواد نگران وزیراعظم کے امیدوار
    Web Desk

    Related Posts

    شبقدر: شادی کا گھر ماتم میں تبدیل، کمرے کی بوسیدہ چھت گرنے سے چھ افراد جاں بحق، پانچ زخمی

    جنوری 4, 2026

    شمالی وزیرستان: غیر سرکاری سکول اور ریسکیو اہلکاروں پر کواڈ کاپٹر ڈرون حملے

    جنوری 4, 2026

    وینزویلا میں نئی حکومت کے قیام تک تمام معاملات امریکہ چلائے گا،امریکی صدر ٹرمپ

    جنوری 3, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    Khyber News YouTube Channel
    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    شبقدر: شادی کا گھر ماتم میں تبدیل، کمرے کی بوسیدہ چھت گرنے سے چھ افراد جاں بحق، پانچ زخمی

    جنوری 4, 2026

    شمالی وزیرستان: غیر سرکاری سکول اور ریسکیو اہلکاروں پر کواڈ کاپٹر ڈرون حملے

    جنوری 4, 2026

    وینزویلا میں نئی حکومت کے قیام تک تمام معاملات امریکہ چلائے گا،امریکی صدر ٹرمپ

    جنوری 3, 2026

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے اپنا ابتدائی اسکواڈ آئی سی سی کو جمع کرا دیا

    جنوری 3, 2026

    ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والوں نے خود ووٹ کے حق کو پامال کیا: اسد قیصر

    جنوری 3, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.