Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, جنوری 29, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • سینئر سیاستدان غلام احمد بلور کی پارلیمانی سیاست سے کنارہ کشی، حکومتوں اور اسٹیبلشمنٹ پر تنقید
    • عمران خان کی پمز ہسپتال منتقلی، آنکھوں کا معائنہ، دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل
    • بنوں: ڈومیل میں پولیس و سیکیورٹی فورسز کا دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشن
    • وادی تیراہ میں کوئی فوجی آپریشن نہیں، صرف نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائیاں جاری ہیں: طلال چودھری
    • کوہستان اسکینڈل: نیب کی یکمشت 4 ارب 5 کروڑ روپے کی ریکوری قومی خزانے میں جمع
    • سوات: تعلیمی اداروں کیلئے تھریٹ الرٹ جاری، سکیورٹی انتظامات مزید مؤثر بنانے کیلئے رابطہ تیز
    • ایران کے ساتھ کشیدگی، امریکی بحری بیڑا مشرقِ وسطیٰ پہنچ گیا
    • ملکی بحران اور حکومتی شاہ خرچیاں
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » سویلین کا فوجی عدالت میں ٹرائل متوازی عدالتی نظام کے مترادف ہے، سپریم کورٹ
    اہم خبریں

    سویلین کا فوجی عدالت میں ٹرائل متوازی عدالتی نظام کے مترادف ہے، سپریم کورٹ

    اگست 3, 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

     اسلام آباد: سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف کیس کی سماعت میں وکیل اعتزاز احسن نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے خلاف ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔ سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ اعتزاز احسن نے دلائل دیے کہ پارلیمنٹ میں ایک نیا قانون منظور ہوا ہے، خفیہ ادارے کسی بھی وقت کسی کی بھی تلاشی لے سکتے ہیں، انٹیلیجنس ایجنسیوں کو بغیر وارنٹ تلاشی کا حق قانون سازی کے ذریعے دے دیا گیا، اس قانون سے تو لا محدود اختیارات سونپ دیے گئے ہیں، ملک میں اس وقت مارشل لاء جیسی صورتحال ہے، سپریم کورٹ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے خلاف ازخود نوٹس لے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ خوش قسمتی سے بل ابھی بھی ایک ایوان میں زیر بحث ہے، دیکھیں پارلیمنٹ کا دوسرا ایوان کیا کرتا ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سویلین کا فوجی عدالت میں ٹرائل متوازی عدالتی نظام کے مترادف ہے، بنیادی انسانی حقوق مقننہ کی صوابدید پر نہیں چھوڑے جا سکتے، بنیادی انسانی حقوق کا تصور یہ ہے کہ ریاست چاہیے بھی تو واپس نہیں لے سکتی، یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک پارلیمنٹ کچھ جرائم کو آرمی ایکٹ میں شامل کرے اور دوسری پارلیمنٹ کچھ جرائم کو نکال دے یا مزید شامل کرے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleشہریار آفریدی سمیت 4 پی ٹی آئی رہنماؤں کی نظر بندی غیر قانونی قرار، رہائی کا حکم
    Next Article شاہد خاقان، حفیظ شیخ، اسلم بھوتانی اور فواد حسن فواد نگران وزیراعظم کے امیدوار
    Web Desk

    Related Posts

    سینئر سیاستدان غلام احمد بلور کی پارلیمانی سیاست سے کنارہ کشی، حکومتوں اور اسٹیبلشمنٹ پر تنقید

    جنوری 29, 2026

    عمران خان کی پمز ہسپتال منتقلی، آنکھوں کا معائنہ، دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل

    جنوری 29, 2026

    بنوں: ڈومیل میں پولیس و سیکیورٹی فورسز کا دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشن

    جنوری 29, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    سینئر سیاستدان غلام احمد بلور کی پارلیمانی سیاست سے کنارہ کشی، حکومتوں اور اسٹیبلشمنٹ پر تنقید

    جنوری 29, 2026

    عمران خان کی پمز ہسپتال منتقلی، آنکھوں کا معائنہ، دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل

    جنوری 29, 2026

    بنوں: ڈومیل میں پولیس و سیکیورٹی فورسز کا دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشن

    جنوری 29, 2026

    وادی تیراہ میں کوئی فوجی آپریشن نہیں، صرف نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائیاں جاری ہیں: طلال چودھری

    جنوری 28, 2026

    کوہستان اسکینڈل: نیب کی یکمشت 4 ارب 5 کروڑ روپے کی ریکوری قومی خزانے میں جمع

    جنوری 28, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.