Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, اکتوبر 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف
    • پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط
    • واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد
    • خیبرپختونخوا میں گونر کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او کے تحت گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض
    • بلوچستان کی پہلی ڈیجیٹل سٹیل ملز فعال، یومیہ 500 ٹن سریا تیار کرنے کی صلاحیت
    • پاکستان کا پہلا خلاباز چین سے خلائی سفر کے لیے تیار
    • فارما ایشیا 2026ء کراچی: دوسرے روز بھی ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کی بھرپور شرکت
    • چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی جانب سے تمام محکموں کو خریداری کے عمل کا جائزہ لینے اور اصلاحات کی ہدایت
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • خاص خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ منشیات اسمگلنگ کیس میں بری
    پنجاب دسمبر 10, 2022

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ منشیات اسمگلنگ کیس میں بری

    Facebook Twitter Email
    ر
    Share
    Facebook Twitter Email

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ  منشیات اسمگلنگ کے کیس میں بری ہو گئے۔  وزیر داخلہ رانا ثنااللہ انسداد منشیات کی عدالت میں پیش ہوئے جہاں انہوں نے اپنے وکیل کے توسط سے کیس میں بریت کی درخواست دائر کی تھی۔ رانا ثنااللہ کی جانب سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ مجھ پر کیس سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا لہٰذا بری کیا جائے ۔

    دوران سماعت  وزیر داخلہ کے وکیل فرہادشاہ ایڈووکیٹ نے مؤقف اپنایا کہ  منشیات برآمد کرنے والے اسسٹنٹ ڈائریکٹر امتیاز احمد الزامات کی تردیدکر رہے ہیں اور  انسپکٹر احسان اعظم  بھی تردیدکر رہےہیں۔ رانا ثنا اللہ کے وکیل  کے مؤقف پر سرکاری وکیل  نے عدالت سے درخواست کی کہ  ان کو پابند کریں کہ آج ہی بحث کریں جس پر وکیل رانا ثنااللہ نے مؤقف اپنایا کہ درخواست تو دائر کرنے دیں۔ بعد ازاں انسداد منشیات عدالت نے بریت کی درخواست پر دلائل سننے کے بعد وفاقی وزیر رانا ثنا اللہ کو بری کردیا۔

    کیس کا پس منظر

    پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں یکم جولائی 2019 کو رانا ثنا اللہ کو منشیات اسمگلنگ کے کیس میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ 24 دسمبر 2019 تک جیل میں رہے، لاہور ہائیکورٹ نے 24 دسمبر 2019 کو رانا ثنا اللہ کی ضمانت منظور کی تھی۔

    اس حوالے سے اس وقت کے وفاقی وزیر شہریار آفریدی نے بارہا میڈیا پر آکر دعویٰ کیا کہ ہمارے پاس تمام ثبوت موجود ہیں کہ رانا ثنا اللہ ہیروئن کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں تاہم وہ کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleاگر ڈیلی میل کے پاس ٹھوس شواہد ہوتے تو وہ کیس لڑتے اور جیت جاتے: برطانوی ماہرقانون
    Next Article ڈیلی میل کی معافی ہماری بے گناہی کا ثبوت ہے، نواز شریف
    Web Desk

    Related Posts

    خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف

    اکتوبر 22, 2026

    پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط

    اکتوبر 22, 2026

    واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد

    اکتوبر 22, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف

    اکتوبر 22, 2026

    پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط

    اکتوبر 22, 2026

    واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد

    اکتوبر 22, 2026

    خیبرپختونخوا میں گونر کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او کے تحت گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض

    اکتوبر 22, 2026

    بلوچستان کی پہلی ڈیجیٹل سٹیل ملز فعال، یومیہ 500 ٹن سریا تیار کرنے کی صلاحیت

    اکتوبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.